پاکستان کو روس سے تیل کی خریداری میں کیا چیلنجز درپیش ہیں؟

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات میں تنوع پیدا کر رہا ہے اور حال ہی میں روس سے درآمد شدہ گیس اور تیل سے اُس طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کا ماننا ہے کہ یہ درآمدی اشیاء سستی ہیں تاہم ماہرین کے اندیشے کچھ اور ہیں۔گزشتہ ماہ پاکستان میں روسی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ خبر عام کی کہ اسلام آباد کو مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی پہلی کھیپ روس سے موصول ہوئی ہے، اس پیغام میں مزید کہا گیا کہ ماسکو نے ایران کے ‘سرخس اسپیشل اکنامک زون‘ کے ذریعے ایک لاکھ میٹرک ٹن مائع پیٹرولیم گیس پاکستان پہنچائی ہے۔ اس سال جون میں پاکستان کو دو کھیپوں کے ذریعے 45 ہزار میٹرک ٹن اور 56 ہزار ٹن روسی خام تیل فراہم کیا گیا۔انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ بڑی آئل ریفائنریز ہیں، جن کی مشترکہ پیداواری گنجائش 417000 بیرل یومیہ سے کچھ زیادہ ہے۔ لیکن یہ ریفائنریز اپنی نصف صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔پاکستان عرب ممالک سے تیل اور گیس درآمد کرتا رہا ہے اور خلیج سے ان درآمدات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی پاکستان کا ٹیکنیکل انفراسٹرکچر بنایا گیا تھا۔ کچھ اندازوں کے مطابق روسی خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل ہے اور خلیجی خام تیل کی 84 ڈالر فی بیرل لیکن اس سستے خام تیل یا گیس کی سپلائی کے پیچھے بہت سی رکاوٹیں ہیں۔اسلام آباد میں مقیم ایک تجزیہ کار رانا ابرار خالد کا خیال ہے کہ پاکستان کے پاس روسی خام تیل کو ریفائن کرنے کے لیے اتنی تکنیکی صلاحیت نہیں، وہ کہتے ہیں، ہماری ریفائنریز خلیج سے درآمد کیے جانے والے ہلکے خام تیل کو ریفائن کر سکتی ہیں، روسی تیل بھاری ہے، جسے پاکستانی ریفائنریوں کے پاس موجود ٹیوبوں کے ذریعے آسانی سے پروسیس نہیں کیا جا سکتا۔مغرب اور خاص طور سے امریکہ نے ماسکو پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان جیسے ممالک کے لیے زمین کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک کے ساتھ تجارت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ایک اور اہم تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو روسی تیل اور گیس کی صحیح قیمت آئی ایم ایف کو بتانا ہوگی لیکن ملک کی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اس تاثر کو زائل کر دیتی ہیں۔پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر رہا ہے، اسلام آباد کو حالیہ مہینوں میں آئی ایم ایف پیکج ملا نیز یہ ملک عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر علاقائی و عالمی مالیاتی اداروں سے بھی قرضے حاصل کر رہا ہے، پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے لیے اس طرح کی مالی امداد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر نور فاطمہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن تیل اور گیس کے ان معاہدوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔پاکستان سے ایسے معاہدوں کی تفصیلات کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاطمہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے سودے پاکستان کو ماسکو کے قریب لا سکتے ہیں اگر ہم روس کے قریب آتے ہیں یا ماسکو کے ساتھ تجارت کرتے ہیں تو امریکہ کبھی خوش نہیں ہوگا تاہم کچھ ماہرین یہ خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان روس کے قریب ہوتا ہے یا ماسکو سے تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن اس ملک پر بالواسطہ

سائفرکیس،عمران خان اورشاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

Back to top button