فیض حمید کی گرفتاری کے بعد بغاوت کے الزام پر 52 افراد گرفتار

پی ٹی آئی کے چیف منصوبہ ساز جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد نت نئے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ باخبراور تحقیق کار حلقوں کے مطابق سابق آئی-ایس-آئی چیف جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری سے پہلے اور بعد میں سامنے آنے والے بعض اہم انکشافات کی بنیاد پر 52 مزید ایسے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جو تختہ الٹنے کے منصوبے کا براہ راست حصہ تھے جن میں حاضرسروس اور ریٹائرڈ آفیسرز کے علاوہ اہم اور حساس اداروں کے اہلکار شامل ہیں جو جنرل فیض حمید کے نیٹ ورک کا براہ راست حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کا قیام عمران خان کے دور میں ہی عمل میں لایا جا چکا تھا جس میں سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے 2500 نوجوانوں کو فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر بیانیہ پھیلانے کے لئے روس اور ترکی کے آئی ٹی ماہرین سے ٹریننگ دلائی گئی۔ جس کے بعد اس سوشل میڈیا بریگیڈ کو فوج، اسلام، تہذیب اور ریاست کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ پراجیکٹ عمران کے چیف منصوبہ ساز جنرل فیض حمید کی گرفتاری سے شروع ہونے والے ریاست دشمن عناصر کے خلاف ملکی تاریخ کے بڑے کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد تحریک انصاف کے’’جزو وقتی رہنما‘‘ خزاں رسیدہ درخت کے نحیف پتوں کی طرح ایک ایک کرکے جھڑنے لگے ہیں۔ جس کے بعد عمران خان کی شطرنج کی بازی الٹتی دکھائی دیتی ہے اور’’کنگ‘‘کے ساتھ’’کوئین‘‘بھی نشانے پر نظر آتی ہے۔ حالات حاضرہ سے پوری طرح باخبر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ثبوت اور شواہد اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کا شمار بھی ان افراد میں ہوتا ہے جو 9؍مئی کی ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کرانے میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے جبکہ یہ بھی یقین کے ساتھ کہا جاتا ہے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار جو پورے خاندان سمیت عمران خان کے سحر میں گرفتار تھے، جو لیگل کور کے علاوہ عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے۔اس بارے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اور ان کےاہل خانہ کی آ ڈیو لیکس کے علاوہ بعض’’قابل گرفت‘‘ شواہد حاصل کر لئے گئے ہیں جن کا تجزیہ کیا جارہاہے تاہم ابھی سابق چیف جسٹس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ نہیں ہوا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جناب سابق چیف جسٹس شاید اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی کارروائی کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے روپوش ہیں اور شاید یورپ کے کسی ملک میں موجود ہیں۔
عاصم منیر کو چیف بنانے پر باجوہ نے مارشل لا لگانے کی دھمکی دی
اس ضمن میں دی نیوز سے وابستہ صحافی فخر درانی نے جب ان کے روپوش ہونے کے حوالے سے گردش کرنے والے سوالات کے بارے میں ان کا مؤقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ سوچے بغیر کہ وہ اب چیف جسٹس آف پاکستان نہیں اور اب’’طاقت کا سرچشمہ‘‘ نہیں رہے اور وہ تحریک انصاف اور اس کےبانی کو غیر قانونی ریلیف دینے کے اہل نہیں، انتہائی تکبرانہ اور توہین آمیز انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ مقدمات کے ڈر سے فرار نہیں ہوئے بلکہ اپنی فیملی کے ہمراہ تفریحی دورے پر یورپ میں ہیں۔ثاقب نثار نے انتہائی غیر مہذب انداز میں’’حکم‘‘ دیا کہ آئندہ انہیں ٹیلیفون کرنے کی جرات نہ کریں اور ان کی جانب سے یہی پیغام جنگ، جیو اور دی نیوز کے نمائندوں کو بھی پہنچا دیں کیونکہ وہ ان کے کسی سوال کا جواب دینے کے پابند نہیں۔
سینئر صحافی شکیل انجم کے مطابق سراغ رساں اداروں نے بانی پی-ٹی-آئی کے فوج کے اندر اور باہر کے تمام رابطوں کا سراغ لگا لیا ہے۔عمران خان کے ملک کے اندر اور بیرون ملک رابطوں کا سراغ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم کے ٹیلیفون کی سی- ڈی-آر کے ذریعے لگایا گیا ہے جس میں رابطوں کے حوالے سے حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف تیار کی جانے والی سازش کی کمانڈ عمران خان نے سنبھال رکھی تھی اور وہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے پیروکاروں کو ہدایات جاری کرتے اور مقررہ مدت میں دئیے گئے ٹاسک کی تکمیل کی ہدایت کرتے تھے۔بانی پی-ٹی-آئی کے ایجنڈے کے مطابق فوج کوتقسیم کرنے کی سازش بھی جنرل (ر) فیض حمید کی کمانڈ میں پروان چڑھی۔عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے تمام شواہد حاصل کر لئے گئے ہیں۔یہ خیال نہیں حقیقت ہے کہ عمران خان کا اہم منصب پر فائز وہ واحد رازدار جس کے پاس بغاوت کی مکمل منصوبہ بندی کی دستاویزات یا بلیو پرنٹ موجود ہیں، ایجنسیوں کے نشانے پر ہے لیکن اس کے اہم منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے اسے فوری طور پر شامل تفتیش نہیں کیاجائے گا تاہم مناسب وقت پر اس کی گرفتاری کا قوی امکان ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ وہ ریاست دشمنی کے ایجنڈے کی تصنیف و تائید اور پیروی میں شامل ہے۔ شکیل انجم کے مطابق تحقیقاتی ادارہ عمران خان اور سابق آئی-ایس-آئی چیف کے حوالے سے حاصل کئے جانے والے بعض ٹھوس شواہد عوام کے سامنے لانے کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر غور کررہا ہے۔اگرچہ یہ اقدام ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے بعض اقدام کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لیا جا سکتاہے۔تاہم تحقیقاتی ایجنسی مشکوک افسران کو تحویل میں لے کر ضروری اور مطلوبہ معلومات حاصل کرکے واپس بھیج رہی ہے۔
