پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک دست و گریبان

ماسکو میں افغانستان کے مسئلے پر ہونے والے ایک اہم بین الاقوامی اجلاس میں پاکستان اور افغان طالبان کے نمائندے لفظی جھڑپ کے بعد ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، جس کے باعث اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہ ہو سکا۔ پاکستانی نمائندے نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا، جبکہ افغان نمائندے نے پاکستانی مؤقف مسترد کرتے ہوئے پاکستانی فوجی کارروائیوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں سرحد پار سے تحریک طالبان کے دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کے بعد پاکستانی فضائیہ نے افغان سرحدی علاقوں میں بمباری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ماسکو میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والے آٹھویں مشاورتی اجلاس میں پاکستان، افغانستان، روس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد افغانستان کی سیاسی، سلامتی اور معاشی صورتحال، دہشت گردی و منشیات کے خلاف تعاون اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کرنا تھا، تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید اختلافات نے اجلاس کی کارروائی کو غیر معمولی کشیدگی سے دوچار کردیا۔
روسی صدر کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان زامیر کابلوف نے بتایا کہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر پاکستانی اور افغان وفود کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ افغان فریق کو اس بات پر اعتراض تھا کہ اعلامیے میں افغانستان کا ذکر دہشت گردی کے تناظر میں ضرورت سے زیادہ کیا گیا ہے۔ کابل کا مؤقف تھا کہ گزشتہ سال بھی اس نوعیت کی زبان استعمال کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے، اس لیے وہ سابقہ طرز کی زبان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ زامیر کابلوف نے کہا کہ اس وجہ سے مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہی اجلاس کا خاتمہ کر دیا گیا۔
ماسکو اجلاس میں افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائیوں کی بجائے پاکستان کو معاملات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی خودمختاری کے ساتھ چلانا چاہتا ہے اور کسی دباؤ کے نتیجے میں اپنی بنیادی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ امیر خان متقی نے افغانستان کے اندر ہونے والی پاکستانی فضائی حملوں کو افغان خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے سابق افغان حکومت کے فوجی اہلکاروں کے ذریعے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے ڈیورنڈ لائن کے قریب ہزاروں جنگجو جمع کیے گئے ہیں۔ افغان وزیر خارجہ نے بعض حالیہ بدامنی کے واقعات کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کی۔
تقہم پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے افغان مؤقف کے برعکس دہشت گردی کو افغانستان کی جانب سے پاکستان پر تھوپے گئے مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پر موجود مختلف شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ ہیں اور گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں چار ہزار سات سو سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پاکستانی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں جو فضائی بمباری کی جا رہی ہے وہ پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے ہونے والی دفاعی کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق مسلح گروہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور معاونت کے لیے افغان سرزمین استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث اسلام آباد کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں۔
پاکستانی نمائندے نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان کے خیرسگالی اقدامات کے باوجود افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور طالبان حکومت مطلوبہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ دوسری جانب کابل پاکستانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر کارروائیوں کو افغان خودمختاری کے خلاف قرار دیتا ہے۔
دونوں ممالک کے بیانیوں میں یہی بنیادی تضاد ماسکو اجلاس میں بھی نمایاں رہا۔ اسلام آباد افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ اور اپنی کارروائیوں کو دفاعی اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ کابل پاکستانی فوجی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا ہے۔ یہی اختلاف مشترکہ اعلامیے کے متن پر اتفاق نہ ہونے کی بنیادی وجوہ میں شامل رہا۔
یاد رہے کہ روس کی جانب سے افغانستان کی طالبان حکومت کو 2025 میں باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد ماسکو اور کابل کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم ماسکو اجلاس میں شریک دیگر ممالک بشمول پاکستان نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ ماسکو اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ جس فورم پر علاقائی طاقتیں افغانستان کے مستقبل، سلامتی اور معاشی تعاون کے بارے میں مشترکہ سوچ پیدا کرنے کی کوشش کررہی تھیں، وہاں پاکستان اور افغانستان اپنے بنیادی اختلافات پر بھی اتفاق رائے پیدا نہ کرسکے۔
سفارتی طور پر کسی بھی بین الاقوامی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ شرکا کے درمیان کم از کم بنیادی نکات پر اتفاق کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کا جاری نہ ہونا دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے بڑھتے ہوئے بحران کا واضح اظہار ہے۔
اگرچہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا، تاہم اجلاس مکمل طور پر بے نتیجہ بھی نہیں رہا۔ شرکا نے افغانستان کے ساتھ برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعاون جاری رکھنے، اسے علاقائی اور عالمی معاشی نظام میں شامل کرنے اور کابل کے ساتھ تعمیری روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک افغانستان کو مکمل طور پر تنہا کرنے کے بجائے اس کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، اگرچہ دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور پاکستان افغان کشیدگی جیسے معاملات بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو اجلاس کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اعتماد کا بحران اب دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی سفارتی فورمز میں بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔ روس نے مشترکہ اعلامیے کے بغیر بھی ماسکو فارمیٹ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن آئندہ اس پلیٹ فارم کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا یہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحد پار دہشت گردی، افغان سرزمین کے استعمال، پاکستانی کارروائیوں اور افغان خودمختاری سے متعلق بنیادی اختلافات کو کم کرنے کے لیے کوئی قابلِ عمل سفارتی راستہ نکال پاتا ہے یا نہیں۔
