بلوچستان میں آگ لگانے والی 6 سازشی طاقتیں کونسی ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان ڈوب رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں اس وقت چھ پاکستان مخالف بین الاقوامی سازشی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔
اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ان چھ پاکستان مخالف قوتوں میں پہلی بھارت ہے جو مشرقی سرحد پر پاکستان کے سامنے موجود ہے اور سیاچن سے سر کریک تک دونوں ملکوں کی فوجیں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ جاوید چوہدری کے مطابق بھارت پاکستان کو مشرقی محاذ پر شکست دینے یا دباؤ میں لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے اس نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پاکستان کی پشت پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ پاکستانی فوج اور حکومت کی توجہ تقسیم ہو اور دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ ہو۔
جاوید چوہدری کے مطابق بھارت کی حکمت عملی کا ایک اہم مقصد پاکستان کی ’’ڈیفنس کاسٹ‘‘ بڑھانا بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے طویل عرصے تک اپنے دفاعی وسائل بھارت کے مقابلے کے لیے مختص رکھے تھے لیکن اب بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث فوجی جوانوں، افسروں، اسلحے اور دیگر وسائل کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستان پہلے ہی سخت معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور ایسے میں مسلسل سیکیورٹی اخراجات ریاست پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات، خود انحصاری اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے، مگر بدامنی غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے سے روکتی ہے۔
ان کے تجزیے میں پاکستان کی معاشی خود انحصاری کا دوسرا راستہ توانائی اور خوراک کے شعبوں میں اپنی ضروریات خود پوری کرنا ہے۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس گیس اور تیل کے ذخائر، وسیع زرعی رقبہ اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں لیکن دہشت گردی، احتجاج اور توانائی کے منصوبوں میں رکاوٹوں کے باعث ملک ان وسائل سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ ان کے مطابق جہاں تیل یا گیس کے ذخائر موجود ہوتے ہیں وہاں تنصیبات اور پائپ لائنوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آتے ہیں جبکہ بڑے آبی یا توانائی منصوبوں پر بھی تنازعات پیدا ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ریاست کو اپنے ہی قدرتی وسائل کے تحفظ پر اضافی اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔
جاوید چوہدری نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے معدنی ذخائر کو پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک اور اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق تانبے، سونے، چاندی، کوئلے، گرینائٹ، قیمتی پتھروں اور نایاب معدنیات کے بڑے ذخائر انہی علاقوں میں موجود ہیں۔ وہ ریکوڈک منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1978 میں سونے اور تانبے کے ذخائر دریافت ہونے کے باوجود کئی دہائیوں تک پاکستان ان سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں کر سکا۔ ان کے تجزیے کے مطابق غیرملکی کمپنیوں کو درپیش سیکیورٹی مسائل، تنازعات اور قانونی رکاوٹوں نے ان وسائل کی ترقی کو متاثر کیا، جبکہ ان کے خیال میں اس صورت حال سے بھارت سمیت پاکستان کے مخالف عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔
جاوید چوہدری کے مطابق بھارت اکیلا نہیں بلکہ افغانستان، ایران اور بعض عالمی اداروں سمیت مختلف قوتوں اور عوامل کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طویل عرصے سے بھارت نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا، جبکہ افغانستان میں قائم مختلف حکومتوں کے ادوار میں پاکستان مخالف گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی مسائل میں اضافہ کیا۔
جاوید چوہدری ایران کے حوالے سے بھی گوادر، چاہ بہار اور بندرعباس کی بندرگاہوں کے درمیان معاشی مسابقت کو اہم عنصر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خطے کی بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کے مفادات نے بلوچستان کو عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنا دیا ہے۔ ان کے تجزیے میں دوسری بڑی قوت اسرائیل ہے۔ جاوید چوہدری کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل پاکستان کے جوہری پروگرام اور خطے میں پاکستان کی ممکنہ معاشی و عسکری مضبوطی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اسی لیے پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور رکھنے کی حکمت عملی میں بھارت سمیت دیگر قوتوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ افغانستان میں موجود مختلف مسلح تنظیموں، بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریکوں اور بعض سوشل میڈیا و بین الاقوامی سرگرمیوں کو بھی اسی وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان کے یہ دعوے ان کے تجزیے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور ان میں بیان کردہ تمام روابط کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے۔
جاوید چوہدری نے بلوچستان میں چین کی موجودگی کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق چین کے لیے گوادر اور سی پیک کی اہمیت صرف پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق بحیرہ عرب تک رسائی، معدنی وسائل اور خلیج کے قریب جغرافیائی موجودگی سے بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین دنیا کا بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کی توانائی کی سپلائی کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم ہے، اس لیے بلوچستان اور گوادر چین کے طویل مدتی اسٹریٹجک مفادات میں اہم مقام رکھتے ہیں۔
جاوید چوہدری سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں موجود معدنی ذخائر اور گوادر کی جغرافیائی حیثیت چین کی دلچسپی کو مزید بڑھاتی ہے۔
چوتھی قوت کے طور پر جاوید چوہدری نے امریکا کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لیے بلوچستان کی اہمیت خطے کے جغرافیائی محل وقوع، ایران، افغانستان، عرب خطے اور چین کی نگرانی کے تناظر میں رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا بلوچستان میں مؤثر موجودگی حاصل کر لے تو اسے خلیج، ایران، افغانستان اور بحیرہ عرب کے حوالے سے اہم اسٹریٹجک فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے معدنی وسائل بھی اس خطے کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان کے تجزیے کے مطابق یہی جغرافیائی کشمکش بلوچستان کو صرف پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کا میدان بنا دیتی ہے۔
جاوید چوہدری نے افغانستان اور ایران کو پانچویں پاکستان مخالف طاقت کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کے بعض حلقے پشتون اکثریتی علاقوں کے حوالے سے تاریخی اور نظریاتی دعوے رکھتے ہیں جبکہ ایران گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت کو اپنے لیے اہم سمجھتا ہے۔ ان کے بقول گوادر کی ترقی سے خطے کی تجارتی سرگرمیوں کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے جس سے چاہ بہار اور بندرعباس کی معاشی اہمیت متاثر ہونے کا خدشہ ایران کو ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وہ ایرانی بلوچستان اور پاکستانی بلوچستان کے درمیان تاریخی و نسلی روابط کو بھی خطے کی پیچیدگی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
چھٹی پاکستان مخالف طاقت کے طور پر جاوید چوہدری نے خلیجی ریاستوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نے بندرگاہوں، تجارت، سیاحت اور عالمی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط کیا ہے اور گوادر کی ممکنہ ترقی ان کے موجودہ معاشی مفادات پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گوادر ایک بڑے عالمی تجارتی مرکز میں تبدیل ہوتا ہے تو اسے پاکستان کے زرعی علاقوں، بلوچستان کے معدنی وسائل اور خیبر پختونخوا کے آبی و قدرتی وسائل سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، جس سے خطے کے موجودہ تجارتی مراکز کے درمیان مسابقت بڑھ سکتی ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق انہی باہم متصادم عالمی، علاقائی اور معاشی مفادات نے بلوچستان کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
