آہ ایف ڈی مخمور!

 

 

 

 

 

تحریر : عطا ء الحق قاسمی

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

 

بے ضمیر حلقوں میں یہ خبر بہت دکھ اور رنج کے ساتھ سنی جائے گی کہ جناب ایف ڈی مخمور گزشتہ شب قضائے الٰہی سے انتقال فرما گئے جناب ایف ڈی مخمور گزشتہ تمام حکومتوں کے غیر سرکاری پی آر او کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس کا صلہ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر پاتے رہے۔ وہ خود کو پی آر او کہنے کی بجائے لابیسٹ (Lobbyist) کہلانا پسند کرتے تھے ۔ مرحوم اگر چہ تمام عمر حکومتوں کے کاسہ لیس رہے تاہم وہ اندر سے ایک زبردست انقلابی تھے چنانچہ وہ بڑے سائنسی انداز میں حکمرانوں کیخلاف کام کرتے جن سے سرکاری اور غیر سرکاری طور پر بھاری رقمیں وصول کرتے تھے۔ میری ان سے ملاقات اکثر لاہور کے ٹی ہاؤس میں ہوا کرتی تھی۔ ان کی آمد کا پتہ کسی زور دار طمانچے کی گونج سے چلتا تھا کیونکہ مے نوشی کے بعد جب تک وہ کسی سے مار نہ کھاتے تھے ان کا نشہ پورا نہیں ہوتا تھا چنانچہ جب طمانچے کی گونج سنائی دیتی تو سب کو پتہ چل جاتا کہ جناب مخمور ٹی ہاؤس میں داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے نشہ پورا کرنے کیلئے کسی کو مشتعل کر کے اپنا کوٹہ پورا کیا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ مرحوم اپنے محسن حکمرانوں کیخلاف اپنے انقلابی نظریات کی وجہ سے بہت سائنسی انداز میں کام کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے میں ایک روز ٹی ہاؤس میں بیٹھا اپنے ادبی دوستوں سے گپ شپ میں مشغول تھا کہ موصوف کی آمد کا الارم سنائی دیا۔ میری خوش بختی کہ اس روز موصوف سیدھے میری ٹیبل پر آئے ۔ ان کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ طمانچہ غالباً زیادہ زور دار تھا۔ انہوں نے ایک حاکم کا نام لیا اور سخت غصے کی حالت میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا ’’تم نے اسے گالی کیوں دی ہے؟‘‘میں ان کی بات پر حیران ہوا۔ میں نے کہا ’’قبلہ میں نے تو انہیں گالی نہیں دی۔ میں تو ان کے کئی اچھے کاموں کی وجہ سے ان کا احترام کرتا ہوں ؟‘‘ بولے ’’نہیں، تم نے انہیں گالی دی ہے!‘‘میرے ساتھ بیٹھے دوستوں نے بھی انہیں سمجھایا کہ اس نے گالی نہیں دی مگر وہ اپنی بات پر اڑے رہے۔ جب میری بار بار کی وضاحتوں کے باوجود وہ بضد رہے کہ میں نے گالی دی ہے تو میں نے تنگ آ کر دو گالیاں انہیں اور چار گالیاں حاکم کوسنائیں جس پر ان کا چہرہ کھل اٹھا ان کے انقلابی نظریات کی تسکین جو ہو گئی تھی ! مرحوم آخری عمر میں بہت حساس ہو گئے تھے اور اکثر نا قدری زمانہ کا گلہ کرتے تھے۔ کسی سابقہ حکومت نے انکی خدمات کے اعتراف میں انہیں سرکاری خزانے سے چند لاکھ روپے دیئے مگر اگلی حکومت نے ان سے اس رقم کی واپسی کاتقاضا کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بہت آزردگی کی حالت میں بیٹھے زمانے کی ناقدری کا شکوہ کررہے تھے، اس کیفیت میں ان کے چہرے کا رنگ مزید گہرا ہو گیا تھا۔ وہ اگرچہ مجھ سے اکثر ناراض رہتے تھے مگر میں انہیں اندر سے پسند کرتا تھا کہ کوئی تو ہے جو زمانے کی ملامت کی پروا نہیں کرتا اور وہی کرتا ہے جو اس کی خاندانی تربیت کا خاصہ ہے۔ چنانچہ اس روز میں نے انہیں بہت تسلی دی اور کہا کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں ۔ آپ ایسے نابغہ روز گار لوگوں کے ساتھ ہر دور میں یہی سلوک ہوا ہے۔ جس پر انہیں قدرے حوصلہ ہوا اور وہ غالباً پہلا موقع تھا کہ وہ مجھ سے خوش نظر آئے تھے!جناب ایف ڈی مخمور اور مے نوشی لازم و ملزوم تھے بلکہ ایک وقت ایسا آیا کہ ظالم و مظلوم ہو کر رہ گئے ۔ ان کا انتقال حسرت آیات بھی اسی حوالے سے ہوا۔ مرحوم اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے شغل فرما رہے تھے اور ساتھ کباب کھا رہے تھے۔اس دوران ساقی نے ان کے ہوش کچھ ایسے اڑائے کہ انہوں نے شراب سیخ پر اور کباب شیشے میں ڈال دیا اور پھر یہ شراب پینے کی کوشش میں شراب یعنی سیخ ان کے حلق میں پھنس گئی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے! سچی بات یہ ہے کہ ان جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے اور پیدا ہونے بھی نہیں چاہئیں۔

 

Back to top button