عوامی جائیدادوں پر قبضے کا اندھا قانون

 

 

 

 

تحریر: رؤف کلاسرا

بشکریہ: روزنامہ دنیا

 

 

پاکستان کے عوام کی یہ جان کر جان ہی نکل گئی کہ قومی اسمبلی سے ایک قانون پاس ہو کر سینیٹ میں پہنچ گیاہے‘ جس کے تحت ٹیلی کام سیکٹر کی کمپنیوں کو یہ اختیارات دیے جارہے ہیں کہ وہ کسی کی بھی جائیداد پر اپنا ٹاور کھڑا کر سکتی ہیں‘ وہاں مشینری انسٹال کر سکتی ہیں اور تعمیرات بھی کر سکتی ہیں۔ اگر آپ نے اپنی جائیداد دینے سے انکار کیا تو وہ کمپنی آپ پر پانچ کروڑ جرمانہ کرا سکتی ہے۔ جب آپ یہ تفصیل پڑھ لیں گے تو آپ کو لگے گا کہ شاید ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور لوٹ آیا ہے۔ جب لارڈ کلائیو کی قیادت میں ہندوستان پر قبضہ کیا گیا اور یہ کام بنگال سے شروع ہوا اور پورے ہندوستان تک پھیلتا چلا گیا اور ایک دن وہ تاجر کمپنی پورے ہندوستان کی مالک بن بیٹھی۔ جوں جوں اس بل کی تہیں کھلتی جائیں گی توں توں آپ کی آنکھیں بھی کھلتی جائیں گی اور وہی ایاز امیر صاحب والا فقرہ آپ کے ذہن میں آتا ہے کہ سوچتے ہیں اب مزید کیا بُرا ہو گا۔ لیکن پتہ چلتا ہے کہ نہیں ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ یہ بل بھی اسی قسم کا ہے جو ابھی ہونا تھا۔ یہ بل جو کئی آئینی اور لیگل فورمز سے بڑے سکون سے پاس آتا ہوا سینیٹ میں آیا ‘ کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو پاکستان بھر میں پارکس سے لے کر دیگر پبلک مقامات پر اپنے ٹاورز اور مشینری لگانے کی قانونی اجازت ہوگی۔ ملک بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی اس قانون کے تحت پابند کیا جارہا تھا کہ وہ کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ تعاون کریں گے اور جس جگہ چاہیں گے وہ ٹاورز لگائیں گی‘ انکار نہیں ہوگا۔
سب سے مزے کی شق یہ ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی پاکستانی شہری کی کسی بھی جائیداد پرٹاور لگا سکتی ہیں‘ آپ کو کمپنی اپنی مرضی کا رینٹ آفر کرے گی‘ آپ وہ رینٹ نہ مانے تو وہ کمپنی سرکاری ادارے کے پاس جائے گی اور آپ کی شکایت کرے گی کہ آپ اسے زمین نہیں دے رہے۔ وہ سرکاری ادارہ آپ کا فیصلہ کرے گا اور جو فیصلہ کرے گا وہ قبول کرنا ہوگا۔ اگر آپ اس ادارے کے فیصلے کو نہ مانے تو پھر آپ پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس قانون کے تحت آپ کسی عدالت وغیرہ میں بھی نہیں جاسکتے۔ آپ کا فورم صرف وہ ادارہ ہے جس کا چیئرمین بھی حکومت لگائے گی‘ اس کے ممبران بھی سرکاری افسران ہوں گے جن کا تعلق اسی وزارت سے ہے جو یہ بل لائی ہے۔ آپ یا تو کمپنیوں کا دیا ہوا رینٹ قبول کر لیں یا پانچ کروڑ جرمانے کے لیے تیار رہیں۔ اس بل کی تیاری انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کی جس کے سیکرٹری خود ماضی میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے ملازم رہے ہیں اور انہیں کنٹریکٹ پر وزارت میں وفاقی سیکرٹری لگا یا گیا ۔ اب ان کمپنیوں کے سابقہ ملازم نے بل تیار کیا اور وزارت قانون سے لیگل رائے لے کر اسے منظور کرا لیا کہ ہاں یہ بل اب کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کریں۔ مزے کی بات ہے سیکرٹری لا بھی ٹیکنوکریٹ ہیں اور انہیں بھی کنٹریکٹ پر سیکرٹری قانون لگایا گیا ہے۔ اب دو ٹیکنوکریٹس نے مل کر یہ بل تیار کیا اور کابینہ سیکرٹری کو بھیجا گیا جنہوں نے بغیر سمجھے ‘پڑھے یا اعتراض لگائے اسے کابینہ کے ایجنڈے پر رکھ دیا۔ شہباز شریف اور ان کے وزیروں کی فوج نے بھی بغیر اس بل کو پڑھے اور سمجھے منظور کر دیا کہ اب اسے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے۔ وہاں پارلیمانی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اسے نیشنل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھ کر ہاؤس میں متعارف کرا دیا جس پر قانون کے تحت اس بل کو اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ریفر کر دیا گیا جس کے پندرہ سے زائد ایم این ایز ممبر ہیں کہ وہ اس بل کو دیکھیں۔ اس دوران وہ بل پیپلز پارٹی کے لیجسلیٹو گروپ کو بھی بھیجا گیا جس میں پارٹی کے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دس اراکین ہیں۔ ان کا کام ہے وہ کسی بھی بل کو پڑھ کر اپنی رائے سے پارٹی کو آگاہ کریں کہ آیا اس بل پر ووٹ کرنا ہے یا نہیں۔ نوید قمر اور شیری رحمن بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔ اس پی پی پی گروپ نے اپنے تئیں پی پی پی اراکین کو کہا کہ سب کلیئر ہے آپ اس کی حمایت میں ووٹ کرسکتے ہیں۔ کچھ پی پی پی اراکین نے اعتراض اٹھایاتو انہیں اس گروپ نے یقین دلایا کہ ہم نے تبدیلیاں کرا دی ہیں جو بعد میں جھوٹ نکلا۔ اس اثنامیں وزیر ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین سے بل کلیئر ا کرا کے اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کرا دیا اور ساتھ ہی پورے ہاؤس سے یہ منظور کرا لیا جس کے 340 اراکین ہیں۔ کسی ممبر نے بل کو نہیں پڑھا یا سمجھا یا جان بوجھ کر چپ رہے۔ اب قانون کے تحت بل کو سینیٹ بھیجا گیا جہاں بل پیش ہوا تو اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھیجا گیا جس کی چیئرپرسن پی پی پی کی سینیٹر پلوشہ خان ہیں۔ جب وہاں کمیٹی ممبرز نے بل پڑھنا شروع کیا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ یہ کیسا لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کا بل ہے کہ کسی کمپنی کو آپ کی جگہ پسند آگئی تو وہ آپ کو اپنی مرضی کا کرایہ آفر کرے گی۔ آپ نے اعتراض کیا تو وہ حکومتی اتھارٹی کو شکایت کر کے آپ کو پانچ کروڑ جرمانہ بھی کرائے گی اور جائیداد بھی لے گی۔
خیر اس پر سینیٹر پلوشہ خان‘ سینیٹر افنان اللہ خان اورسینیٹر سعدیہ عباسی کی تعریف کرنی چاہیے جنہوں نے اس خطرناک بل کو پڑھا‘ سمجھا اور اس کو فورا ًروکا۔ جو کام وزارتِ قانون کو کرنا تھا‘ سیکرٹری کا بینہ نے کرنا تھا یا پھر شہباز شریف اور ان کی وزیروں کی کابینہ کا تھا کہ وہ اسے پڑھ کر روک دیتے یا پھر اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ممبرز کا تھا‘ وہ ان تینوں سینیٹرزنے کیا۔ ذرا اندازہ کریں ہمیں کہا جاتا ہے کہ اگر ٹیکنوکریٹس ملک کو چلائیں تو یہ جنت بن جائے گا۔ سیکرٹری آئی ٹی اور سیکرٹری لا دونوں ٹیکنوکریٹس اور پرائیوٹ سیکٹرز سے کنٹریکٹ پر فیڈرل سیکرٹریز لگے ہیں۔ یہ بل ان دونوں ٹیکنوکریٹس کی مشترکہ کارروائی ہے جو چند کمپنیوں کو پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادوں اور ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیز پر حق دے رہے تھے کہ وہ اپنی مرضی کی جہاں جگہ دیکھیں کھمبے گاڑ دیں اور کوئی انکار کرے تو پانچ کروڑ جرمانہ بھی لگوا دیں۔
دیکھ لیں اس ملک کے وزیراعظم اور کابینہ سے لے کر اسمبلی اراکین تک کتنی سنجیدگی سے قانون سازی کررہے ہیں۔ میری وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ سے بات ہوئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی وزارت سے اس بل میں غلطیاں ہوئی ہیں‘ لیکن یہ وہ غلطیاں اس وقت مان رہی ہیں جب میں نے یہ خوفناک سٹوری اپنے ٹی وی شو میں بریک کی جس پر شور مچا ورنہ شزا خواجہ صاحبہ یہ بل تو کابینہ اورقومی اسمبلی سے پاس کرا چکی تھیں۔ اگرسینیٹرز بھی وہی کرتے جو قومی اسمبلی نے کیا تو پچیس کروڑ لوگوں کا باجا بج گیا تھا۔ ویسے میرے خیال میں اگر وزیراعظم‘ درجنوں وزرا‘ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ‘ سیکرٹری ٹیکنالوجی‘ وزیر قانون اور سیکرٹری لاء سمیت اسمبلی کے 340 ایم این ایز اپنے اپنے گھروں کے سامنے اس بل کی شقوں کے تحت کمپنیوں کو ان کی شرائط پر ٹاورز لگانے کی اجازت دیتے ہیں تو پھر میرے خیال میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وہی بات اگر یہ بل بہت نیک کام ہے جو وزیراعظم‘ ان کے وزیروں اور اسمبلی اراکین نے کیا ہے تو پھر یہ نیک کام وہ اپنے اپنے گھروں‘جائیدادوں پر ٹاور لگوا کرکریں۔ہم سب ساتھ دیں گے۔

 

 

بے ضمیر حلقوں میں یہ خبر بہت دکھ اور رنج کے ساتھ سنی جائے گی کہ جناب ایف ڈی مخمور گزشتہ شب قضائے الٰہی سے انتقال فرما گئے جناب ایف ڈی مخمور گزشتہ تمام حکومتوں کے غیر سرکاری پی آر او کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس کا صلہ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر پاتے رہے۔ وہ خود کو پی آر او کہنے کی بجائے لابیسٹ (Lobbyist) کہلانا پسند کرتے تھے ۔ مرحوم اگر چہ تمام عمر حکومتوں کے کاسہ لیس رہے تاہم وہ اندر سے ایک زبردست انقلابی تھے چنانچہ وہ بڑے سائنسی انداز میں حکمرانوں کیخلاف کام کرتے جن سے سرکاری اور غیر سرکاری طور پر بھاری رقمیں وصول کرتے تھے۔ میری ان سے ملاقات اکثر لاہور کے ٹی ہاؤس میں ہوا کرتی تھی۔ ان کی آمد کا پتہ کسی زور دار طمانچے کی گونج سے چلتا تھا کیونکہ مے نوشی کے بعد جب تک وہ کسی سے مار نہ کھاتے تھے ان کا نشہ پورا نہیں ہوتا تھا چنانچہ جب طمانچے کی گونج سنائی دیتی تو سب کو پتہ چل جاتا کہ جناب مخمور ٹی ہاؤس میں داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے نشہ پورا کرنے کیلئے کسی کو مشتعل کر کے اپنا کوٹہ پورا کیا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ مرحوم اپنے محسن حکمرانوں کیخلاف اپنے انقلابی نظریات کی وجہ سے بہت سائنسی انداز میں کام کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے میں ایک روز ٹی ہاؤس میں بیٹھا اپنے ادبی دوستوں سے گپ شپ میں مشغول تھا کہ موصوف کی آمد کا الارم سنائی دیا۔ میری خوش بختی کہ اس روز موصوف سیدھے میری ٹیبل پر آئے ۔ ان کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ طمانچہ غالباً زیادہ زور دار تھا۔ انہوں نے ایک حاکم کا نام لیا اور سخت غصے کی حالت میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا ’’تم نے اسے گالی کیوں دی ہے؟‘‘میں ان کی بات پر حیران ہوا۔ میں نے کہا ’’قبلہ میں نے تو انہیں گالی نہیں دی۔ میں تو ان کے کئی اچھے کاموں کی وجہ سے ان کا احترام کرتا ہوں ؟‘‘ بولے ’’نہیں، تم نے انہیں گالی دی ہے!‘‘میرے ساتھ بیٹھے دوستوں نے بھی انہیں سمجھایا کہ اس نے گالی نہیں دی مگر وہ اپنی بات پر اڑے رہے۔ جب میری بار بار کی وضاحتوں کے باوجود وہ بضد رہے کہ میں نے گالی دی ہے تو میں نے تنگ آ کر دو گالیاں انہیں اور چار گالیاں حاکم کوسنائیں جس پر ان کا چہرہ کھل اٹھا ان کے انقلابی نظریات کی تسکین جو ہو گئی تھی ! مرحوم آخری عمر میں بہت حساس ہو گئے تھے اور اکثر نا قدری زمانہ کا گلہ کرتے تھے۔ کسی سابقہ حکومت نے انکی خدمات کے اعتراف میں انہیں سرکاری خزانے سے چند لاکھ روپے دیئے مگر اگلی حکومت نے ان سے اس رقم کی واپسی کاتقاضا کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بہت آزردگی کی حالت میں بیٹھے زمانے کی ناقدری کا شکوہ کررہے تھے، اس کیفیت میں ان کے چہرے کا رنگ مزید گہرا ہو گیا تھا۔ وہ اگرچہ مجھ سے اکثر ناراض رہتے تھے مگر میں انہیں اندر سے پسند کرتا تھا کہ کوئی تو ہے جو زمانے کی ملامت کی پروا نہیں کرتا اور وہی کرتا ہے جو اس کی خاندانی تربیت کا خاصہ ہے۔ چنانچہ اس روز میں نے انہیں بہت تسلی دی اور کہا کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں ۔ آپ ایسے نابغہ روز گار لوگوں کے ساتھ ہر دور میں یہی سلوک ہوا ہے۔ جس پر انہیں قدرے حوصلہ ہوا اور وہ غالباً پہلا موقع تھا کہ وہ مجھ سے خوش نظر آئے تھے!جناب ایف ڈی مخمور اور مے نوشی لازم و ملزوم تھے بلکہ ایک وقت ایسا آیا کہ ظالم و مظلوم ہو کر رہ گئے ۔ ان کا انتقال حسرت آیات بھی اسی حوالے سے ہوا۔ مرحوم اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے شغل فرما رہے تھے اور ساتھ کباب کھا رہے تھے۔اس دوران ساقی نے ان کے ہوش کچھ ایسے اڑائے کہ انہوں نے شراب سیخ پر اور کباب شیشے میں ڈال دیا اور پھر یہ شراب پینے کی کوشش میں شراب یعنی سیخ ان کے حلق میں پھنس گئی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے! سچی بات یہ ہے کہ ان جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے اور پیدا ہونے بھی نہیں چاہئیں۔

 

Back to top button