اعتزاز اور کھوسہ کی PPPسے چھٹی کیوں ہوئی؟

پیپلز پارٹی پنجاب چیپٹر کی جانب سے پارٹی کے مرکزی رہنمائوں سابق وزیر داخلہ بیرسٹر اعتزاز احسن چودھری اور سابق اٹارنی جنرل و پنجاب کے سابق گورنر سردار لطیف خان کھوسہ کو پارٹی سے’’فارغ‘‘ کر دیا گیا ہے۔ مرکزی قیادت کو دونوں رہنمائوں کی رکنیت ختم کرنے کی سفارشات بھجوادی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کے خلاف پہلے بھی پیپلز پارٹی کے پنجاب چیپٹر کی جانب سے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا گیا تھا۔ لیکن مرکزی قیادت کی مداخلت پر مزید کارروائی روک دی گئی تھی۔ تاہم اسی دوران سردار لطیف خان کھوسہ بھی پارٹی پالیسی کے برعکس اقدامات پر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دیئے گئے۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی میں نہ صرف یہ کہ اضافہ ہوا۔ بلکہ شدت آتی گئی۔ جس پر پیپلز پارٹی پنجاب نے ان کے خلاف انضباطی کارروائی کرتے ہوئے ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیکن اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ کیونکہ پارٹی کے تنظیمی امور کے تحت مرکزی مجلسِ عاملہ کے اراکین یا مرکزی رہنمائوں کیخلاف ڈسپلنری ایکشن کے تحت پارٹی رکنیت ختم کرنے سے پہلے معاملہ مرکزی قیادت کو بھجوانا ضروری ہے۔اس ضمن میں سفارشات ارسال کردی گئی ہیں اور ان کی تصویریں اور نام پارٹی کی بنائی جانے والی ’دیوارِ شرمندگی‘ (wall of shame) پر لگا دی گئی ہیں۔ سخت ایکشن کیلئے سفارشات ارسال کرنے کے بعد صوبائی تنظیم نے دونوں رہنمائوں کے رویے خاص طور پر پی ڈی ایم اور اس کی اتحادی حکومتی جماعتوں پر تنقید کی وجوہات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ دونوں رہنما ذاتی مفادات حاصل نہ ہونے پر بلیک میلنگ پر اتر آئے ہیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی پنجاب چیپٹر کے صدر رانا فاروق سعید کا کہنا ہے کہ ذاتی مفادات پورے نہ کرنے پر اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نہ صرف پی ڈی ایم اور اس کی حکومت میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ بلکہ پارٹی موقف کے بھی برعکس چل رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے نہ تو سردار لطیف کھوسہ کے بیٹے سردار خرم لطیف کھوسہ کو اٹارنی جنرل بنایا اور نہ ہی اعتزاز احسن چوہدری کے بیٹے کو ٹکٹ جاری کیا۔ مطالبات پورے نہ ہونے پر وہ بلیک میلنگ پر اتر آئے ہیں اسی بلیک میلنگ کی وجہ سے ہی اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو فارغ کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے قائم مقام صدر رانا فاروق سعید نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ اتحادی حکومت میں لطیف کھوسہ اپنے بیٹے کو اٹارنی جنرل بنوانا چاہتے تھے۔ جبکہ اتحادی حکومت کا شراکت دار ہونے کی حیثیت سے پیپلز پارٹی کا جو حصہ بنتا تھا۔ اس کے مطابق یہ نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہو سکنے پر انہوں نے بلیک میلنگ شروع کر دی۔ رانا فاروق کے بقول ’’ہم نہیں چاہتے تھے کہ سردار لطیف کھوسہ اور ان کے صاحبزادے خرم لطیف کھوسہ پارٹی کی ریڈ لائن عبور کریں۔ اس لئے انہیں تمام عہدوں سے فارغ کردیا گیا ہے اور ان کی رکنیت کے خاتمے کیلئے بھی سفارشات بھجوادی گئی ہیں۔
رانا فاروق سعید نے مزید بتایا کہ ’’بیرسٹر اعتزاز احسن نے پہلے بھی پارٹی ڈسپلن کی شدید خلاف ورزی کی تھی اور ہم نے سخت ردِ عمل کا اظہار بھی کیا تھا۔ مگر مرکزی قیادت نے حکم دیا کہ انہیں نظرانداز کر دیا جائے۔ چنانچہ انہیں معافی دیدی گئی۔ مگر اب پھر وہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ سردار لطیف خان کھوسہ اور اعتزاز احسن پھر سے نہ صرف پی ڈی ایم اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت میں انتشار پھیلا رہے ہیں بلکہ پارٹی کے موقف کے بھی برعکس چل رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں رانا فاروق سعید نے کہا کہ ’’چودھری اعتزاز احسن اور سردار لطیف خان کھوسہ جیسے اسکائی لیب ہی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے استحصال کے موجب بنے ہیں۔ جن کا پارٹی میں بطور ورکر کوئی کنٹری بیوشن نہیں۔ بلکہ یہ فائدے اٹھانے والے ہیں۔ جب پارٹی پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو یہ سائیڈ پر ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ اعتزاز احسن نے ستّر کی دہائی میں کیا تھا۔ جنہیں بھٹو صاحب نے پہلے وزیر بنایا اور ہم نے انہیں رکن اسمبلی بنایا اور پھر سب سے پہلے وہی سائیڈ لائن ہوئے۔اسی طرح سردار لطیف خان کھوسہ نے بھی فائدے ہی اٹھائے۔ انہوں نے بطور ورکر کبھی کام نہیں کیا۔ اب ہم نے مرکزی قیادت کو ان دونوں کی بنیادی رکنیت ختم کرنے اور پارٹی سے نکالنے کی سفارش کردی ہے۔ اب چیئرمین نے حتمی
PTIختم، 90 فیصد قیادت ساتھ چھوڑ گئی؟
فیصلہ کرنا ہے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے یقینی طور پر بہتر ہی کریں گے۔
