PTIختم، 90 فیصد قیادت ساتھ چھوڑ گئی؟

جہاں ایک طرف سابق وزیر اعظم عمران خان کے جارحانہ رویے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کو چھوڑنے والوں کی پریس کانفرنسز میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں دن  بھر مسلسل عمرانڈو رہنما توبہ تائب ہوتے ہوئے پارٹی پالیسیوں سے اظہار برات کررہے تھے اب اکا دکا رہنما اپنے ویڈیو پیغامات یا ٹوئٹ کے ذریعے ہی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف عمران خان کی الزامات پر مبنی سیاست زورو شور سے جاری ہے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام جنرل باجوہ پر عائد کرنے والے عمران خان نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر تحریک انصاف پر کراس لگانے کی جنرل باجوہ کی پالیسی کو آگے بڑھا رہے ہیں اور وہ کسی صورت پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے اسی لئے تحریک انصاف کر کرشن کرنے کیلئے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ تاہم عمران خان اپنے کالے کرتوتوں بارے کچھ نہیں بتاتے کہ انھیں ان حالات کا سامنا کیوں کرنا پڑا ہے؟

پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ اگر 9 مئی سے پہلے اور بعد کے ادوار میں بانٹی جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ ملک بھر میں مختلف فوجی تنصیبات پر ہونے والی توڑ پھوڑ کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تحریک انصاف کے لیڈروں نے دھڑا دھڑ اپنے آپ کو اپنی پارٹی کی سیاست سے الگ کیا۔روزانہ کی بنیادوں پر پریس کانفرنسز کیں، پارٹی یا سیاست سے ہی علیحدگی اختیار کر ڈالی۔ مگر گذشتہ ڈیڑھ ہفتے سے ان پریس کانفرنسز کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ بلکہ مکمل خاموشی چھائی رہی ہے اور پھر سابق وزرا غلام سرور اور ہمایوں اختر نے ’اچانک‘ پریس کانفرنسز کر کے تحریک انصاف سے خود کو الگ کر لیا۔

حال ہی میں پارٹی سے الگ ہونے والے ہمایوں اختر خان نے بتایا کہ ’میں کبھی فوج سے لڑائی کی سیاست کا حامی نہیں تھا۔ پارٹی کے اندر بھی میں نے یہ آواز اٹھائی تھی۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہوں گا۔ میں نے بغیر کسی دباؤ کے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ جیسے سب حالات کو دیکھ رہے تھے میں بھی دیکھ رہا تھا اور مناسب وقت پر فیصلہ کیا ہے۔‘

دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اپنے کارکنوں اور بچ جانے والے رہنماوں کے گھروں میں مبینہ پولیس کے چھاپوں سے متعلق ٹویٹ کر رہے ہیں۔ کئی ایک ٹویٹس پر پنجاب پولیس نے جواب طور پر ان حقائق کی نفی بھی کی جو ٹویٹس میں بیان کیے گئے۔

ایسے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ پس پردہ کیا ہو رہا ہے؟ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی پریس کانفرنسز کو بریک کیوں لگی اور اب پھر اکا دکا خبریں کیوں آنا شروع ہوئی ہیں؟ سینیئر صحافی اجمل جامی ان سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے تحریک انصاف کی 90 فیصد قیادت پارٹی سے الگ ہوچکی ہے۔ اس لیے اب پریس کانفرنسز کم ہو گئی ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’آپ دیکھیں تو ایک ترتیب نظر آئے گی۔ جنوبی پنجاب کی ساری قیادت ہٹ چکی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور جہلم تقریباً سینٹرل پنجاب اور اپر پنجاب کی بھی یہی صورت حال ہے۔ ابھی خیبر پختونخوا میں کافی کچھ ہو رہا ہے جس کی مثال تحریک انصاف کا پرویز خٹک کو شو کاز نوٹس جاری کرنا ہے۔ کچھ دنوں بعد وہاں سے بھی بڑی خبریں آئیں گی۔‘

سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے وہ رہنما جو ڈٹ گئے ہیں اور ایسے رہنما جن پر براہ راست 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے مقدمات ہیں، جن میں اعجاز چوہدری، یاسمین راشد، میاں اسلم اور محمود الرشید وغیرہ شامل ہیں، ان کے معاملات پریس کانفرنسز پر ٹلنے والے نہیں ہیں۔

زیادہ ترسیاسی مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ایک مرتبہ ٹوٹ چکی ہے۔ اسی وجہ سے اب اکا دکا پریس کانفرنسز ہی نظر آ رہی ہیں۔سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی رہنماوں کا ایک بڑا حصہ الگ ہو چکا ہے۔ پیچھے جو چند ایک بچے ہیں ان کے معاملات پیچیدہ ہیں۔ یہ بھی ایک بڑا سوال ہو گا کہ جب 9 مئی کے واقعات کا ٹرائل ہو گا تو کارکنوں کے ساتھ کون سے رہنما یہ ٹرائل بھگتیں گے۔ جو پیغام دیا جانا مقصود تھا وہ دیا جا چکا ہے۔‘

Back to top button