علی امین کا استعفیٰ گورنر ہاؤس نہ پہنچ سکا،پی ٹی آئی کی عدم اعتماد کی تیاری

 

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے کو 48 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے، لیکن اس کی منظوری کا معاملہ تاحال غیرواضح ہے۔ استعفیٰ گورنر ہاؤس پہنچا یا نہیں؟ اس پر گورنر اور سابق وزیراعلیٰ کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے۔

علی امین گنڈا پور کا دعویٰ ہے کہ وہ استعفیٰ گورنر کو بھیج چکے ہیں اور اب ’’ڈرامے بازی‘‘ بند ہونی چاہیے۔ دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا مؤقف ہے کہ ابھی تک استعفیٰ ان کے پرنسپل سیکریٹری کو موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جب استعفیٰ موصول ہوگا، تب قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے‘‘۔

ذرائع کے مطابق، قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ گورنر ممکنہ طور پر استعفے کے ہاتھ سے نہ لکھے جانے کو جواز بنا کر اعتراض اٹھا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں استعفے کی قبولیت میں مزید تاخیر کا خدشہ موجود ہے۔

ادھر خیبرپختونخوا اسمبلی ذرائع کے مطابق، اسمبلی میں تعطیلات کے باوجود تمام عملہ موجود ہے اور آج سہ پہر 3 بجے اسمبلی اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد تیار کر لی ہے، اور اگر گورنر استعفیٰ منظور نہ کریں تو یہ تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔

Back to top button