سی سی ڈی کے ہاتھوں طیفی بٹ کا پار ہونا لازمی کیوں تھا؟

 

 

 

امیر بالاج ٹیپو قتل کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی دبئی سے گرفتاری اور پاکستان منتقلی کے بعد بالاخر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے حسب روایت پولیس کی تحویل سے فرار کی روایتی کوشش کے دوران طیفی بٹ کو پار کر دیا۔ تاہم یہ واردات لاہور کی بجائے رحیم یار خان میں سر انجام دی گئی۔ یوں لاہور میں کئی دہائیوں سے جاری انڈر ورلڈ کی خونریز لڑائی میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بھی حصے دار بن گیا۔

 

یاد رہے طیفی بٹ کی گرفتاری کے فوراً بعد ان کے بھائی اور تاجر رہنما خواجہ اظہر گلشن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسے پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا۔ اظہر گلشن نے کہا تھا کہ اگر طیفی بٹ کو مارا گیا تو اس کے قتل کی ذمہ داری وزیر اعلی مریم نواز اور پنجاب کے آئی جی پر عائد ہو گی۔ اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ شاید کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کو طیفی بٹ جیسے باثر انڈر ورلڈ ڈون کو مارنے کی اجازت نہ ملے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ عموما سی سی ڈی والے چھوٹے موٹے مجرموں کو پار لگاتے ہیں۔ چنانچہ طیفی بٹ کا معاملہ سی سی ڈی کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیفی بٹ کو مار کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مجرم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو وہ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ پائے گا۔

 

سی سی ڈی حکام کے مطابق لاہور پولیس کو مطلوب ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو تفتیش کیلئے رحیم یار خان لے جایا جا رہا تھا کہ تھانہ کوٹ سبزل کے علاقے میں اس کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کر کے اسے چھڑا لیا، پولیس نے فوری تعاقب کیا اور مسلح ملزمان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ طیفی بٹ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ ملزمان کے تعاقب کے دوران ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے میں سی سی ڈی ڈرائیور نور علی دائیں بازو پر گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا  جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق طیفی بٹ کو مبینہ طور پر دو گاڑیوں میں سی سی ڈی کی حراست سے فرار کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔ طیفی بٹ کو لے جانے والی ٹیم میں ڈی ایس پی سی سی ڈی سید حسین حیدر، ڈی او سی سی ڈی انسپکٹر عبدالہادی اور کانسٹیبل صغیر علی شامل تھے۔ طیفی بٹ کو صرف ایک روز پہلے دبئی سے لاہور لایا گیا تھا جس پر قتل کے متعدد الزامات تھے، ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے طیفی سے پاکستان جانے سے متعلق سوال کیا، اس پر ملزم نے پاکستان جانے اور مقدمات کا سامنا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ ملزم کی رضا مندی پر دبئی کی عدالت نے طیفی بٹ کو پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

 

طیفی بٹ کو دبئی سے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا، اس سے پہلے فروری 2024 کی شب لاہور کے علاقے چوہنگ میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال بلا کے بیٹے کی شادی کی تقریب کے دوران بلاٹرکاں والا کے پوتے میر بالاج کے قتل کہس میں خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ اور خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ جبکہ حملہ آور جوابی فائرنگ میں موقع پر مارا گیا تھا اور مقتول کا دوست احسن شاہ مخبری کرنے پر گرفتاری کے بعد پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ اس قتل کیس میں خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ روپوش ہو گیا تھا جبکہ خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ ملک سے فرار ہو گیا تھا۔ کچھ روز پہلے ملزم گوگی بٹ نے روپوشی ختم کر کے منظر عام پر آکر مقامی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی تھی جس کے بعد کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی دبئی سے گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ جو آج ایک پولیس مقابلے میں انجام کو پہنچ گیا ہے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ کسی روز گوگی بٹ بھی پولیس کی حراست سے فرار کی کوشش میں مارا جائے گا۔

 

ذرائع کے مطابق، سی سی ڈی کی جانب سے ایسے پولیس مقابلوں کا اصل مقصد لاہور کے پرانے گینگز اور انڈر ورلڈ نیٹ ورکس کا خاتمہ ہے، جو برسوں سے شہر میں خوف اور بدامنی کی فضا قائم کیے ہوئے تھے۔ طیفی بٹ کی ہلاکت کو اسی بڑے آپریشن کا نقطہ آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ طیفی بٹ کی ہلاکت کے بعد سوال پیدا پہوتا ہے کہ کیا واقعی لاہور کے انڈر ورلڈ کی لڑائی ہمیشہ کے لیے ختم ہونے جا رہی ہے؟ کیا دونوں متحارب گروہوں کو ریاستی طاقت سے روکنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے؟

 

یاد رہے کہ اندرون لاہور کے سرکلر روڈ کے باسی ’ٹرکاں والا‘ خاندان اور بٹ خاندان کی لڑائی دہائیوں پرانی ہے۔ لاہور کے انڈرورلڈ کی یہ کہانی سنہ 1994 سے شروع ہوتی ہے۔ اس لڑائی کا آغاز حنیف عرف حنیفا اور شفیق عرف بابا کے عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا پر حملے سے ہوا۔ تاہم ٹیپو اس حملے میں بچ گیا لیکن یہ حملہ بٹ برادران کی فیملی کے ساتھ ان کی دشمنی کی بنیاد بن گیا۔ ٹیپو خاندان، جو ’ٹرکاں والہ‘ کے نام سے مشہور ہوا، پر سنہ 2003 میں ایوانِ عدل کے باہر ایک اور حملہ ہوا، جس میں پانچ لوگ مارے گئے اور ٹیپو شدید زخمی ہوئے۔ دوسری طرف بٹ برادران جو گوالمنڈی کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، نے اپنا نیٹ ورک بنایا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔

 

یہ دشمنی صرف خاندانی نہیں تھی بلکہ اس کی جڑیں لاہور کی سیاست اور جرائم کی پوری دنیا تک پھیل گئی تھیں۔ سنہ 2018 تک پولیس کے ٹاپ 20 گینگسٹرز کی فہرست میں ٹیپو اور بٹ برادران کے نام شامل رہے۔ ٹیپو کو لاہور ایئرپورٹ پر قتل کیا گیا، اس کا مقدمہ بھی طیفی اور گوگی بٹ کے خلاف درج ہوا۔ بعدازاں ان کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو نے خاندان کا انتقام لینے کی کوشش کی، لیکن وہ خود سنہ 2024 میں ایک شادی کی تقریب میں مارے گئے۔

امیر بالاج قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا

اس گینگ وار کا سب سے اہم واقعہ 19 فروری 2024 کا وہ دن تھا، جب امیر بالاج ٹیپو کو ایک شادی کی تقریب میں قتل کر دیا گیا۔ تاہم اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا طیفی بٹ کی ہلاکت کے بعد لاہور میں انڈرورلڈ کی لڑائی رک جائے گی؟ مبصرین کے مطابق اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔

 

Back to top button