عمران کا نیا وزیراعلی لانے کا منصوبہ سخت مشکلات کا شکار

عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈا پور سے استعفی لینے اور انکی جگہ طالبان نواز سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلی نامزد کرنے کے باوجود اس منصوبے کو عملی شکل دینا اتنا آسان نظر نہیں آ رہا، خصوصا گورنر فیصل کریم کنڈی کے اس اعلان کے بعد کہ انہیں ابھی تک گنڈا پور کا استعفی موصول نہیں ہوا۔
اسلام آباد میں باخبر حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ فوجی ترجمان کی پشاور میں دھواں دھار پریس کانفرنس کے بعد سہیل آفریدی کا وزیراعلی بننا کافی مشکل لگتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل میں قید شخص کی جانب سے کسی کو وزیراعلی نامزد کرنے سے وزیراعلی نہیں بن جاتا بلکہ اسکے لیے ایک انتخابی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لیے نامزدگی کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے، اصل اہمیت وزیراعلیٰ کے الیکشن میں ڈالے جانے والی ووٹوں کی ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے ویسے بھی فی الحال وزیر اعلیٰ گنداپور کا استعفیٰ گورنر فیصل کریم کنڈی کو موصول نہیں ہوا۔ گنڈاپور کا استعفی ملنے کے بعد اس کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ ہوگا۔
دوسری جانب فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اپنی پریس کانفرنس میں واشگاف اعلان کر چکے ہیں کہ کسی ریاست مخالف شخص کو ایک اقتدار میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ریاست کے مفاد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اور اگر کسی نے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کی، تو اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کہ نامزدگی شدید تنقید کی زد میں ہے چونکہ وہ ماضی میں کھلے عام طالبان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آفریدی دراصل 9 مئی کے حملوں میں مفرور قرار پانے والے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کی پسند ہیں جنہوں نے ان کی سیاسی تربیت کی تھی۔ بعد ازاں بشری بی بی کے پشاور میں قیام کے دوران وہ گنڈا پور کی مخبریاں کرتے ہوئے سابقہ خاتون اول کے خاص رازدان بن گئے۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نواز اور جارحانہ مزاج کے حامل سہیل آفریدی کو وزیراعلی بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور کو اکٹھا کر کے حکومتی وسائل کے زور پر اسلام آباد پر لشکر کشی کر سکیں۔ اس فیصلے نے سرکاری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ عمران خان عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کو مزید بڑھانے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔ چنانچہ دوجی اسٹیبلشمنٹ نے کھلے عام اس نامزدگی کو مسترد کر دیا ہے۔
بعض وفاقی وزرا نے آفریدی کی نامزدگی پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کا نیا انتخاب وزیراعلیٰ بننے کا اہل ہی نہیں کیونکہ کسی ریاست مخالف شخص کو یہ ذمہ داری سونپنا صوبے کی تباہی کے مترادف ہو گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمتِ عملی نہ صرف خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ پارٹی کی مجموعی مشکلات کو بھی مزید بڑھا سکتی ہے۔
فوجی ترجمان کے اعلان کے بعد سہیل آفریدی کا وزیراعلی بننا مشکل
ان خدشات کو مزید تقویت ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی سخت بیانئے والی پریس کانفرنس سے ملی، جس میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ذمہ دار عمران خان اور ان کی جماعت کو قرار دیا۔ انہوں نے عمران خان یا پی ٹی آئی کا نام تو نہیں لیا، مگر ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ نے صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو ایک ’’منصوبہ بند سازش کے تحت صوبے میں واپس انے کی اجازت دی گئی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کو وزارت اعلی کی کرسی تک پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ امیدوار سہیل آفریدی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے۔
