الطاف حسین کا ایم کیو ایم لندن ختم کرنے کا اعلان، قیادت چھوڑ دی

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے ایک بار پھر پارٹی کی قیادت چھوڑنے اور ایم کیو ایم کو عملاً ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر غیر متوقع اور جذباتی خطاب میں اپنی سیاسی جدوجہد کو ناکام قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے کارکنوں کو وفاداری کے حلف سے آزاد کر دیا۔ مہاجر سیاست کی تاریخ میں الطاف حسین کے اعلان کو ایک بڑا جھٹکا قرار دیاجا رہا ہے، جس نے پارٹی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین نے اتوار کی شب پاکستان سمیت دنیا بھر میں تحریکی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تحریک اوران سے وفاداری کے اٹھائے ہوئے حلف سے آزاد کرنے کا اعلان کردیا، الطاف حسین کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ وہ تمام تر قربانیوں کے باوجود پاکستان کےگلے سڑے فرسودہ نظام کوتبدیل کرنا توکجا، اپنی مہاجرقوم کو اس کےحقوق دلانے میں بھی ناکام رہے ہیں، ان حالات میں ان کا پارٹی اور کارکنان کے ساتھ مزید چلنا ناممکن ہے۔ وہ تمام کارکنوں کو تحریک اور اپنی ذات سے وفاداری کے حلف سے آزاد کر رہے ہیں، اور اب وہ جس سیاسی جماعت میں چاہیں شامل ہو سکتے ہیں۔
اپنے خطاب میں الطاف حسین نے مزیدکہا کہ وہ گزشتہ 47 برس سے پاکستان کے تمام محروم و مظلوم عوام، خصوصاً مہاجر عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ اس جدوجہد میں ہزاروں ساتھیوں کی شہادت، جبری گمشدگی، گھروں پر قبضے اور دربدری جیسے المیے پیش آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا اپنا خاندان بھی قربانیوں میں پیچھے نہیں رہا۔الطاف حسین نے بتایا کہ ان کے 77 سالہ بھائی ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو دسمبر 1995ء میں اغوا کے بعد تین روز تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گڈاپ کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ عارف حسین کے سر پر کلہاڑی کے وار کر کے جسم کے دو ٹکڑے کیے گئے۔ ان کے 70 سالہ بہنوئی اسلم ابراہانی کو بھی گرفتار کر کے چھ ماہ اڈیالہ جیل میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں ساتھی آج بھی جیلوں میں اسیری کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ پاکستان کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے یا مہاجر قوم کو اس کے حقوق دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔الطاف حسین نے کہا کہ وہ 10 اگست 2025ء سے تمام کارکنوں کو وفاداری کے حلف سے آزاد کرتے ہیں اور اب وہ اپنی مرضی کی کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک زندہ ہیں، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، کامیابی یا ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم انٹر نیشنل کے مرکزی رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، ایم کیو ایم اور قائد آج بھی مہاجر اور مظلوم قوموں کے متفقہ لیڈر ہیں، تاہم قائد الطاف حسین کےاعلان کے بعد رابطہ کمیٹی کے نمائندے بانی کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر زور دے رہے ہیں جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے مہاجر قوم کی سر کردہ شخصیات اور دیگر قوموں کے رہنماؤں نے بھی لندن سیکریٹریٹ سے رابطہ کر کے قائد کے اعلان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔امید ہے قائد تحریک جلد اپنا فیصلہ واپس لے لیں گے تاہم ابھی تک بانی ایم کیو ایم اپنے فیصلے پر بضد ہیں۔
خیال رہے کہ ابتدا میں مہاجر قومی موومنٹ کہلانے والی ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں داخلہ لینے کے بعد 11 جون 1978 کو آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن قائم کی۔ اسکے 6 برس بعد الطاف حسین نے فوجی آمر ضیا الحق کے دور حکومت میں 18 مارچ 1984 کو مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات کے بعد اپنی جان کو درپیش خطرے کے باعث 1991 میں الطاف خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے برطانیہ چلے گئے، جہاں وہ تاحال مقیم ہیں۔
جنرل ضیاءالحق کی آشیرباد سے قائم ہونے والی ایم کیو ایم نے جنرل مشرف دور میں اپنا عروج دیکھا جب اپنے مہاجر کنکشن کی بنیاد پر الطاف حسین کے ساتھیوں نے کراچی میں قتل و غارت کی انتہا کردی۔ تاہم مشرف کے فارغ ہونے کے بعد الطاف حسین کا ستارہ بھی گردش میں آگیا اور پھر 2016 میں پاکستان اور اس کی فوجی قیادت کے خلاف ایک تقریر کرنے کے الزام میں الطاف کے پاکستانی میڈیا پر دکھائے جانے پر پابندی عائد کردی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اپنی متنازع تقریر کے بعد بھی الطاف حسین نے اپنا رویہ درست نہ کیا اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان بازی جاری رکھی جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ایک حتمی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی ہی بنائی ہوئی جماعت کو ختم کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب الطاف حسین فوجی اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرنے کی جتنی بھی کوشش کر لیں، ان کو معافی ملنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ انہوں نے خود کو بنانے والی اسٹیبلشمنٹ سے غداری کی تھی۔ مبصرین کے مطابق فوج مخالف تقریر کے بعد سے لے کراب تک ایم کیوم ایم کئی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان وہ دھڑا ہے جواب بھی فوج کے کہنے پر چلتا ہے اور اس وقت شہباز شریف کا حکومتی اتحادی ہے۔دوسری جانب لندن میں مقیم الطاف حسین کی ایم کیو ایم لندن کو کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں ہے جس سے اب کراچی شہر کے حالات پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہو چکے ہیں۔
