ڈاکٹر عامر لیاقت ’’منی بیک گارنٹی‘‘ میں کونسا کردار کرنا چاہتے تھے؟

عیدالفطر پر ریلیز کے ابتدائی پانچ روز میں 8 کروڑ کا بزنس کرنیوالی ’’منی بیک گارنٹی‘‘ کے اہم کردار اداکار سلمان ثاقب شیخ عرف مانی نے انکشاف کیا ہے کہ جب میں فلم میں اپنے کردار کے متعلق ڈاکٹر عامر لیاقت سے بات کی تو وہ برملا بولے کہ ’’یہ تو مجھے کرنا تھا یار
‘‘
اداکار نے اس بات کا انکشاف نجی ٹی وی چینل کو فلم کی پروموشن کے لیے ایک انٹرویو کے دوران کیا، یاد رہے کہ مانی فلم ’منی بیک گارنٹی‘ میں غفار علی عرف ’جی اے مہاجر‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں جو کراچی کے شہری ہیں۔انہوں نے فلم میں اپنے کردار سے متعلق انکشاف کیا کہ جب انہوں نے اس فلم سے متعلق مرحوم ٹی وی میزبان عامر لیاقت حسین سے بات کی تھی تو عامر لیاقت نے اس کردار کو نبھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
مانی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’فلم کے ڈائریکٹر فیصل قریشی نے سب سے پہلے مجھے اس کردار کے لیے پیشکش کی، میں فلم میں کچھ لوگوں کو یاد کر رہا ہوں اس میں عامر لیاقت ہیں کیونکہ جب میں نے ان کو فلم میں اپنے کردار سے متعلق بتایا تو انہوں نے فوراً کہا کہ ’یہ تو مجھے کرنا تھا یار!‘
مانی نے مزید کہا کہ ’عامر لیاقت نے اینی میٹڈ فلم ’’دی ڈونکی کنگ 2‘‘ میں ایک کردار کی وائس اوور کی تھی، میرے خیال سے فلم کی ریلیز رک گئی ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، لیکن ’’منی بیک گارنٹی‘‘ دیکھتے ہوئے میں عامر لیاقت کو بہت یاد کروں گا کیونکہ ہماری دوستی ایسی تھی، انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اس فلم کو ضرور دیکھیں گے اور چاہتے تھے کہ فیصل انہیں بھی کاسٹ کریں۔مانی کہتے ہیں کہ رمضان میں پروگرام کرنے کا ٹرینڈ بھی انہوں نے متعارف کروایا تھا۔
خیال رہے کہ ورسٹائل فنکار اور نامور ڈائریکٹر فیصل قریشی کی ڈائریکشن میں بنی سسپنس تھرلر فلم ’منی بیک گارنٹی‘ نے جاندار اسٹار کاسٹ، مکالموں، ایکشن مناظر اور پروڈکشن کوالٹی کے باعث شائقین کی توجہ حاصل کرلی ہے، فلم دنیا بھر میں 21 اپریل 2023 کو ریلیز ہوئی تھی، یہ روایت سے مکمل طور پر ہٹ کر بنائی گئی ایک منفرد فلم ہے۔
فلم کی کاسٹ میں بڑے نام شامل ہیں جن میں فواد خان، وسیم اکرم اور ان کی اہلیہ، جاوید شیخ، حنا دل پذیر اور عدنان جعفر اور دیگر نے اداکاری کے جوہر دکھائے، عید پر ریلیز ہونے والی فلم نے 5 دن میں ملک بھر سے 8 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا تھا۔مانی نے تنازعات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی تنازع کھڑا ہوتا ہے تو پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ کسی کے بھی کمنٹ کو دیکھ کر خبر لگا دینا کسی آرٹسٹ کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’خبر وہ ہونی چاہئے جو تصدیق شدہ ہو، کسی کی رائے کی بنیاد پر خبر بنا دینا غلط ہے، مثال کے طور پر فیروز خان کا مسئلہ ان کی طرف سے کم اور سوشل میڈیا پر زیادہ بڑا ہو گیا تھا، اس سے صرف آرٹسٹ کا نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سی چیزیں جو ہم مذاق میں کرتے تھے وہ باڈی شیمنگ جیسی مختلف اصطلاح کے زمروں میں آگئی ہیں۔
