80برس کی خاتون مس یونیورس مقابلےمیں جانےکی خواہشمند

1952میں دنیا کےپہلےمس یونیورس مقابلے سےلگ بھگ ایک دہائی قبل پیدا ہونے والی خاتون چوئی سون مس یونیورس مقابلے میں جانےکی خواہشمند ہیں۔

80سالہ خاتون مس یونیورس مقابلے میں معمر ترین خاتون کی حیثیت سےشرکت کا ریکارڈ بناناچاہتی ہیں۔ستمبر2024کےشروع میں چوئی سون کا نام مس یونیورس کوریا مقابلےکی ایک فائنلسٹ کےطورپرسامنے آیا تھا۔وہاں وہ31 دیگر خواتین کا مقابلہ کرکےجنوبی کوریا کی جانب سےمس یونیورس مقابلہ حسن میں شرکت کرنا چاہتی ہیں۔یہ مقابلہ حسن نومبر2024میں میکسیکومیں شیڈول ہے۔

خاتون چوئی سون نے کہا کہ ‘میں دنیا کو دنگ کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ ایک 80 سالہ خاتون کیسے اتنی صحت مند ہوسکتی ہے؟ آخر اس نے اپنا خیال کیسےرکھا؟ اس کی غذا کیا ہے؟’

ان کا کہنا تھا کہ’جب آپ بوڑھےہوتےہیں تو جسمانی وزن میں اضافہ ہوتاہے۔تو میں یہ ثابت کرناچاہتی ہوں کہ بوڑھےہوکر بھی آپ صحت مند زندگی گزارسکتے ہیں’۔

مس یونیورس مقابلےمیں دہائیوں تک صرف18 سے28 سال کی خواتین کو شرکت کی اجازت تھی مگر2024 سےعمرکی بالائی حد کو ختم کر دیا گیا ہے۔

ہزاروں سال پرانےگینڈےکی باقیات دریافت

اسی طرح2023 میں حاملہ خواتین یا ماؤں کی شرکت پرعائد پابندی بھی ختم کر دی گئی۔

چوئی سون کےمطابق ‘اب عمر کی حد کی پابندی ختم کردی گئی ہےتو میں نے سوچا کہ میں بھی کوشش کرکے دیکھتی ہوں۔میں آگےبڑھتی ہوں یانہیں۔مگر میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کےلیےپرعزم ہوں’۔

Back to top button