امراض قلب کا اشارہ دینےوالی نشانیاں کون سی ہیں؟

ماہرین صحت کاکہناہے کہ ہائی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلی، فالج اور ہارٹ فیلیئرجیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ماہرین کےمطابق دل کی صحت سےجڑے مسائل بشمول ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بےترتیبی یااس عضو کے مختلف حصوں کو پہنچنے والے ہر قسم کےنقصان کےلیےامراض قلب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے۔
مگر حالیہ برسوں میں جوان افراد میں دل کے امراض کی شرح میں حیران کن اضافہ ہواہے۔ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور تمباکو نوشی کو دل کے متعدد امراض کا خطرہ بڑھانے والےعناصر تصور کیا جاتا ہےمگر طرز زندگی کی تبدیلیاں بھی اس حوالے سے اہم ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امراض قلب کی تشخیص جتنی جلد ہو جائے بہتر ہے، کیونکہ اس سے سنگین پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ہر سال 29 ستمبر کو دل کی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔جس کا مقصد لوگوں کو امراض قلب کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔تو ایسی علامات کے بارےمیں جانیں جن سے امراض قلب کا عندیہ ملتا ہے۔
سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔خراٹوں کے دوران سانس رکنے سے دماغ کو مناسب مقدارمیں آکسیجن نہیں ملتی، جس کے باعث دل کو خون کا بہاؤ برقرار رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
اس کے باعث ہائی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلی، فالج اور ہارٹ فیلیئر جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ہاتھوں کی مضبوطی دل کےطاقتور ہونے کا اشارہ بھی ہوتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی کوامراض قلب کےخطرے میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے۔
اس کےبرعکس اگر گرفت کمزور ہوتی ہے تو امراض قلب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دل میں مسائل کی سب سےعام علامت سینے میں تکلیف ہے جس کے ساتھ کھچاؤ یا جلن جیسے احساسات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔یہ تکلیف گردن، جبڑوں یا کمر تک پہنچ سکتی ہے۔
جب بھی اچانک سینے میں تکلیف کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
اگر ہاتھ یا پیروں کی انگلیوں میں چوٹ لگے بغیر گہرے رنگ کانشان بن گیا ہے تو یہ بھی دل کے انفیکشن کی ایک علامت ہے۔
اس طرح کے نشان ذیابیطس کےمریضوں میں بھی عام ہوتے ہیں اور ذیابیطس وہ مرض ہے جس کے شکار افراد میں امراض قلب اورفالج کا خطرہ دیگرکے مقابلے میں 2 سے 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
جب دل دماغ کو مناسب مقدار میں خون پہنچانے میں ناکام رہتا ہےتو سر چکرانے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔سر چکرانا دل کی دھڑکن کی بےترتیب رفتار کی ایک علامت بھی ہے جبکہ ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کو بھی اکثر اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔
اسی طرح ہارٹ اٹیک کی ایک کم عام علامت سرچکرانا بھی ہے۔
مسوڑوں کے مسائل اور امراض قلب کےدرمیان تعلق تو واضح نہیں مگر تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ مسوڑوں سےخون بہنا یا دیگر مسائل دل کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ مسوڑوں میں اکٹھے ہونے والے جراثیم خون میں شامل ہوکر دل کو ورم کا شکار بناتے ہیں۔
مسوڑوں کے امراض کا سامنا کرنےوالے افرادمیں فالج کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
اگر گردن کے کچھ حصوں کی رنگت گہری ہوگئی ہےتو یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ جسم کو انسولین ہارمون کواستعمال کرنےمیں مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان میں پولیو کیسزکی تعداد24تک پہنچ گئی
انسولین کی مزاحمت سے ذیابیطس ٹائپ 2 کاخطرہ بڑھتا ہےجس کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
