انجلینا جولی امریکی سینیٹ میں آبدیدہ

ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی امریکی سینیٹرز کے سامنے خواتین پر تشدد کے خلاف قانون کی تجدید میں تاخیر پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں، امریکا میں خواتین کے خلاف تشدد کا قانون 2018 کے اواخر میں ختم ہو گیا تھا، اس قانون کی تجدید پر زور دینے کے لیے انجلینا امریکی سینیٹ میں پیش ہوئیں۔
انجیلنا جولی نے کہا کہ میں ان بچوں کو یاد کرنا چاہتی ہوں جو اس وقت ڈرے ہوئے ہیں اور تکلیف میں ہیں، یہ کہتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی اور انہوں نے اپنے آنسوؤں پر بمشکل قابو پایا۔جولی کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کو یاد کرنا چاہتی ہوں جن کے لیے یہ قانون بننے میں بہت دیر ہو گئی ہے۔
کرشمہ نے مادھوری کی وجہ سے کونسی فلم کرنے سے انکار کیا؟
ہالی ووڈ اداکارہ نے سینیٹرز کے سامنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی گھریلو تشدد کا شکار رہا ہو وہ آپ کو بتا سکتا ہے کہ اس عمارت کے اندر طاقت سے وہ خود کو کتنا دور محسوس کرتے ہیں، قانون بنانے کی ایسی طاقت جو شاید انہیں تکلیف پہنچنے سے پہلے ہی بچا سکتی تھی۔
اداکارہ نے کہا کہ جب کانگریس خواتین کے خلاف تشدد کے قانون میں تبدیلی پر 10 سال کے لیے خاموشی اختیار کر لے تو یہ متاثرین کو بے وقعت ہونے کا احساس بڑھا دیتی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر جو بائیڈن ہمیشہ اس بل کی کھل کر حمایت کرتے رہے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ کانگریس مزید کیس تاخیر کے اس بل کو میری جانب تجدید کے لیے بھیج دے گی۔
