فوج سے پنگا ڈالنے کے بعد عمران کا کوئی مستقبل کیوں نہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اپنا نقصان کروانے کے لیے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا نقصان کرنے کیلئے خود ہی کافی ہیں۔ اگر عمران سمجھتے ہیں کہ فوج اور آئی ایس آئی پر الزمات لگانے اور دھمکیاں دینے سے وہ اپنا جلد الیکشن کا مطالبہ پورا کروا سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ اب ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں جو کچھ عمران نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیا ہے، وہ ادارے کبھی نہیں بھول سکتے۔ خان کو چاہیے تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات بہتر بناتے، بجائے کہ تعلقات اتنا خراب کر دیتے کہ سیاست کے ساتھ ساتھ اداروں اور عوام کے تعلقات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے۔ ابھی خان کو یہ باتیں سمجھ نہیں آئیں گی لیکن کچھ وقت بعد وہ خود کہیں گے کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ انصار کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مخالفوں نے ان کے ساتھ سب سے بڑی ہمدردی یہ کی کہ ان کی انتہائی نامقبول حکومت کو ختم کر کے خود اقتدار سنبھال لیا اور حالات پہلے سے بدتر ہوگئے، مہنگائی بڑھ گئی، ڈالر بہت مہنگا ہو گیا، معیشت مزید زوال پذیر ہو گئی۔ ایک طرف اتحادیوں کے حکومت میں آنے سے اُن کو سیاسی نقصان ہوا تو دوسری طرف عمران نے جھوٹ پر مبنی امریکی سازش کا ایسا بیانیہ بنایا کہ وہ جہاں جلسہ کرتے، بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے، اسی لیے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی۔ گویا مقبولیت کے لحاظ سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں عمران کی تحریک انصاف کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ اس وقت اتحادی حکومت کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، معیشت کی حالت اتنی خراب ہے کہ کوئی معجزہ ہی اُنہیں حکومت میں رہ کر اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ دلوا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس چیلنج کا ن لیگ کو سامنا ہے۔ ایسے میں جب سب کچھ عمران کی اپنی حکومت کی تمام تر نااہلیوں اور ناکامیوں کے باوجود اُن کے حق میں جا رہا تھا اور وہ عوامی طور پر بے حد مقبول بھی ہو گئے تھے تو اُنہوں نے فوج کے ساتھ کھلی جنگ شروع کر دی۔ وہ اپنے جلسے جلوسوں اور ٹی وی انٹرویوز میں اداروں کے خلاف ایسی ایسی باتیں کرنے لگے کہ بھارت میں اُن کی تعریفیں ہونے لگیں۔ چند ایک بھارتیوں نے تو عمران اور تحریک انصاف کو چندہ تک دینے کی باتیں شروع کر دیں تاکہ وہ اپنی ہی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف حملے تیز تر کر سکیں۔

انصار عباسی بتاتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بھارتی میجر نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ عمران نے اپنی فوج اور آئی ایس آئی کو جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ تو بھارت اربوں ڈالرز خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتا تھا۔ دوسری جانب عمران کہتے تو ہیں کہ اُنہیں پاکستان کی فوج سے محبت ہے، کیوں کہ یہ ملکی سالمیت اور دفاع کے لیے لازم ہے لیکن جو کچھ وہ، اُن کی جماعت اور اُن کا سوشل میڈیا اپنی فوج کے ساتھ کر چکے اور کر رہے ہیں وہ واقعی کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا۔گزشتہ چھ مہینوں کے دوران فوج اور اُس کی ہائی کمانڈ کے خلاف جس طرح کی سوشل میڈیا کمپین چلائی گئی اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ تب تو حد ہی ہو گئی جب بغیر ثبوت کے عمران نے اپنی ہی فوج پر کینیا میں قتل ہونے والے صحافی ارشد شریف کی موت کا الزام لگا دیا۔

ملک بھر میں پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہرے، متعدد گرفتار

انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران خان کی سیاسی تاریخ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ جسے مخالف سمجھ لیں اُس پر کوئی بھی الزام لگانے میں دیر نہیں کرتے۔ لیکن مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ اُن کا یہی رویہ اپنی محسن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ہے اور وہ اس لیے کہ اسٹیبلشمنٹ اُن کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کو ناکام بنوا سکتی تھی لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔ چنانچہ اب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنے الزامات اور دھمکیوں میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ فوج اور آئی ایس آئی پر دباؤ بڑھا کر جلد الیکشن کے لیے رستہ نکال سکتے ہیں۔ خان صاحب کی اپنی سوچ ہے لیکن میری ذاتی رائے میں اُنہوں نے اداروں کےساتھ جس خطرناک ٹکرائو کی پالیسی اپنائی ہے اس کا اُن کو سیاسی طور پر نقصان ہی ہوگا فائدہ کسی صورت نہیں ہوسکتا۔ ایک سیاسی رہنما اگر بہت مقبول ہو اور اُس کی پارٹی ضمنی انتخابات بھی بڑی اکثریت سے جیت رہی ہو تو اُسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ فوج اور آئی ایس آئی سے ایسی لڑائی مول لے جس سے اُسے سراسر سیاسی نقصان کا ہی خدشہ ہے۔ ایسے رویے سے صرف اُس رہنما کے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیا اس سیاست سے پاکستان اور اس کے اہم ترین دفاعی اداروں کا نقصان تو نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ عمران اسٹیبلشمنٹ سے اس دباؤ کے ذریعے جو توقع کیے بیٹھے ہیں اُس کا پورا ہونا نہ صرف ناممکن ہے بلکہ وہ مستقبل کیلئے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اعتبار کھو چکے ہیں۔

Back to top button