اے آر وائے کو بچانے کے لیے ارشد شریف کی چھٹی کروا دی گئی

بالآخر اے آر وائی نیوز نے شہباز گل کے خلاف زیر سماعت بغاوت کیس کے مرکزی کردار عمرانڈو اینکر پرسن ارشد شریف کی ادارے سے چھٹی کروا دی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اے آروائی کے مالک سلمان اقبال نے اپنا چینل بحران سے نکالنے کے لیے ارشد شریف سے جان چھڑوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ارشد شریف دو ہفتے پہلے بغاوت کیس کا اندراج ہونے کے بعد خفیہ طریقے سے پشاور ائیرپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے دبئی نکل گئے تھے جہاں سے اب وہ لندن پہنچ چکے ہیں، یاد رہے کہ ارشد شریف سے پہلے اے آر وائے کا ایک اور یوتھیا ٹی وی اینکر صابر شاکر بھی ملک سے فرار ہو چکا ہے۔
اے آر وائی کی جانب جاری بیان میں کہا گیا کہ اے آر وائی نیٹ ورک کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کسی بھی ٹی وی چینل کے ملازم کی سوشل میڈیا پوسٹ کمپنی کی پالیسی کے مطابق ہونی چاہئے، اس لئے ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے ارشد شریف سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اے آر وائی کی طرف سے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کیا گیا، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں اے آر وائی کی جانب سے اپنے سابقہ موقف پر یو ٹرن لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اے آر وائی نیٹ ورک کا اپنے ملازمین کے لیے قواعد و ضوابط اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ملازمین کی سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کمپنی کی پالیسی کے تحت ہوگی ورنہ ادارہ اس کی ذمہ داری نہیں لے گا۔
آج ملک بھر میں یوم دفاع ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’اس طرح، ہم بھاری دل کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ 8 سال ایک ساتھ سفر کرنے کے بعد، اے آر وائی نے ارشد شریف سے راستے جدا کر لیے ہیں، اور ہم ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ تاہم، کمپنی کی طرف سے ایسی کوئی سوشل میڈیا کی پوسٹ منسلک نہیں کی گئی جو ارشد شریف کے طرف سے کی گئی ہو۔
خیال رہے کہ ارشد شریف ان چند صحافیوں میں شمار ہوتے تھے جن کی عمران خان تک براہ راست پہنچ چکی تھی اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے فیض حمید گروپ کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ اس سے پہلے پولیس نے ارشد شریف، اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال، نیوزاینڈ کرنٹ افیئرز کے سربراہ عماد یوسف، اینکر پرسن خاور گھمن اور ایک پروڈیوسر کے خلاف 8 اگست کو شہباز گل کے چینل پر نشر ہونے والے ایک متنازع انٹرویو پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا۔
ایک دن بعد، وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر ‘ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس’ کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا این او سی کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد ارشد شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ بعدازاں وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر "ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس” کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا چنانچہ گرفتاری کے خوف سے ارشد شریف پشاور ائیرپورٹ استعمال کرتے ہوئے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔
