عدلیہ ہمیشہ عمران کے لیے ہی ڈبل سٹینڈرڈ کیوں اپناتی ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کو ایک جج کو دھمکانے کے الزام پر توہین عدالت کے کیس میں دوبارہ سے جواب داخل کرنے کے لئے ایک ہفتہ کی جو مہلت دی ہے وہ اسلیے حیران کن ہے کہ ماضی میں توہین عدالت کے الزام کا سامنا کرنے والے نہال ہاشمی، دانیال عزیز اور طلال چوہدری کو بار بار معافی مانگنے کے باوجود پانچ پانچ برس کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ 31 اگست کو جب عمران بطور ملزم اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو انہیں حاکم وقت کا پروٹوکول دیا گیا اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے ان کے سیاسی قد کاٹھ اور فالونگ کے قصے بیان کئے گئے۔ اس کے بعد جج صاحب نے اپنا منصب بھلاتے ہوئے عمران کے وکیل حامد خان کو سمجھایا کہ توہین عدالت کے شوکاز نوٹس پر ان کو کس طرح کا جواب دینا چاہئے، ورنہ کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
روزنامہ جنگ میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ عمران کے وکلاء نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے جارحانہ جواب جمع کروایا اور عدالت کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھا دیئے۔ لیکن عدالت نے کمال مہربانی کرتے ہوئے خان صاحب کو ایک ہفتے میں سوچ سمجھ کر دوبارہ سے جواب دینے کا موقع دیدیا۔ اگرچہ یہ سہولت طلال، دانیال اور نہال کو حاصل نہیں تھی۔
حفیظ نیازی کا کہنا ہے کہ عمران کو ڈٹ جانے اور معافی نہ مانگنے کے مشورے دیئے جا رہے ہیں تاکہ عدالت کو دبایا جا سکے، 31 اگست کو عمران کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد بھی یہی تاثر بنا کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور ان سے لاڈلوں والا سلوک کیا جاتا ہے، اب بھی یہی اُمید ہے کہ عمران خان معافی مانگ لیں گے اور انہیں معافی دے دی جائے گی، حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ یہ تاثر مضبوط کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران سیاست سے آؤٹ ہوئے تو ان کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے ادارے بھی نہیں رہیں گے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا عمران کے پاس ہر خاص و عام کو تہہ و تیغ کرنے کا اجازت نامہ ہے؟ کم از کم حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عدالتی نظام کا رویہ یہی کچھ بتا رہا ہے، اداروں اور عدالتی نظام پر دباؤ اور ان کی تضحیک نہ صرف عمران کا وطیرہ بلکہ اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے، حکمرانوں اور اداروں کے رویے نے عمران اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے آسمانوں کو پہنچا رکھے ہیں۔ خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر بننے والا توہینِ عدالت کا کیس اسی رویے کا منطقی انجام ہی تو ہے۔

آج ملک بھر میں یوم دفاع ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کی پہلی تقریر یہ تھی کہ ’’احتساب کا عمل مجھ سے شروع ہوگا‘‘۔ لیکن فارن فنڈنگ کیس مین الیکشن کمیشن کے فیصلے سمیت کرپشن کے درجنوں ثبوت سامنے آنے کے باوجود ابھی تک حکومت موصوف کے احتساب کا آغاز کرنے کی جرات نہیں کر رہی۔ نیازی کہتے ہیں کہ ایک دن بتا دیں، جب احتساب عمران خان کے قریب سے گزر پایا ہو اور کسی نے کوئی سوال اُٹھایا ہو، وجہ یہ ہے کہ خان اور انکی ساتھیوں نے سوال کرنے والے کا منہ نوچ لینے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
عمران خان کے ایما پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پاکستان اور آئی ایم ایف کی قرض ڈیل خراب کرنے کی ناکام کوشش پر تبصرہ کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ آئی ایم ایف نے اس حرکت کے باوجود ڈیل فائنل کر دی۔ شوکت ترین تین بارچالاکی سے وزیر خزانہ بنے، ذاتی مفادات کی تزئین و آرائش میں ایک مکار بی کر کے طور۔پر نام کمایا۔ بقول حفیظ، کے پی اور پنجاب کے وزرائے خزانہ سے شوکت ترین کی لیک ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کسی بڑے اسکرپٹ کا حصہ تھی۔ اس واقعے سمیت حالیہ چار واقعات نے عمران کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سب سے روح فرساء واقعہ سانحہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر کریش پر تحریک انصاف کی جانب سے شہیدوں کے خلاف میڈیا مہم چکانا تھا، اس کیس کی تفتیش میں PTI کے 128 سوشل میڈیا اکاؤنٹس پکڑے گئے، عمران کے خلاف دوسرا بڑا کیس انکے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے اے آر وائے نیوز پر بیٹھ کر فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرنا بنا۔ شہباز گل کی یہ غداری انہیں پھانسی تک لے جا سکتی ہے۔ اسکے بعد عمران نے بذات خود شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون جج زیبا چوہدری کو سرعام ایسی دھمکیاں دیں جنکی مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ عمران خان کے خلاف چوتھا بڑا کیس شوکت ترین کی تیمور جھگڑا اور محسن لغاری سے کی جانے والی ٹیلی فونک گفتگو ہے جس میں پاکستان کے مفادات کے خلاف سازش کی جا رہی ہے جو کہ غداری کے مترادف ہے۔ یہ چار واقعات نہ ہوتے تو ایک عمر چاہئے تھی عمران کی اصلیت کو آشکار کرنے کے لئے جس نے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے عوام کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا تھا۔
لیکن حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی ناکامی یہ ہے کہ وہ عمران کے خلاف اوپر بیان کردہ چار واقعات پر بھی کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کر پا رہی۔ ان واقعات پر حکمران اتحاد بمع تمام ادارے کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ شوکت ترین نے عمران خان کا مکو ٹھپنے کے لئے ان کو گہرے کھڈے میں دھکیل دیا ہے۔ شوکت ترین کی گفتگو کا ایک ایک فقرہ سننے کے لائق ہے۔ اسکے بعد آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 (2) بار بار پڑھیں، آخر غداری اور کیا ہوتی ہے اور غدار کون ہوتے ہیں؟

Back to top button