عمران کی سیکیورٹی پر سالانہ 24 کروڑ روپے خرچ کا انکشاف

سابق وزیراعظم عمران خان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو ہر ماہ دو کروڑ روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں اور یوں یہ سالانہ خرچ 24 کروڑ روپے بنتا ہے جو پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی سیکیورٹی پر سالانہ 24 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود روزانہ یہ غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ عمران کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے 31 اگست کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں کئس جس کی صدارت پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کی۔
اجلاس کی کارروائی کے دوران آئی جی اکبر ناصر سے عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے اور ان کی حفاظت کے لیے تعینات نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا گیا۔ جواب میں آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ عمران خان کی سکیورٹی واپس لینے کے حوالے سے اطلاعات غلط ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے علاوہ اسلام اباد پولیس، خیبر پختونخوا پولیس، گلگت بلتستان پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے 266 اہلکار عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں، اس لیے سکیورٹی واپس لینے کے دعوے ایک لطیفے کے سوا کچھ نہیں۔ آئی جی پولیس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عمران کی طرح کسی اور سابق وزیراعظم کو اتنے وسیع پیمانے پر سکیورٹی فراہم نہیں کی جارہی جس کا ماہانہ خرچہ دو کروڑ روپے سے زائد ہے۔

پی ٹی آئی اراکین کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواست مسترد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جس ایک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا گیا وہ بھی اب تک بنی گالہ میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے، آئی جی پولیس نے کہا کہ سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی اور یوسف رضا گیلانی کو صرف پانچ سیکیورٹی گارڈز فراہم کیے گئے ہیں جو سفر میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کی سکیورٹی کا چارج اب لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عاصم کے پاس ہے جو کہ سابق ایس ایس جی کمانڈو ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ مہینے عمران خان کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے تحریک انصاف کے دعوؤں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی چیئرمین کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی تھی کہ عمران کو فوری طور پر چیف سیکیورٹی آفیسر فراہم کیا جائے۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں میں اسلام آباد پولیس کے 25، اور ایف سی کے 72 اہلکار شامل ہیں، اس کے علاوہ کے پی پولیس کے 36، اور گلگت بلتستان کے 9 اہلکار شامل ہیں، اس کے علاوہ ایس ایم ایس سیکیورٹی کے 26، اور عسکری سیکیورٹی کے 9 اہلکار بھی بنی گالہ ہاؤس پر مامور ہیں، وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق جب عمران خان گھر سے نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ اسلام آباد پولیس کی 4 گاڑیاں، 23 اہلکار اور رینجررکی ایک گاڑی اور 5 اہلکار ہوتے ہیں۔

Back to top button