جنگ بندی کے مرحلے کا اختتام ، اسرائیل نے غزہ میں خوراک کاداخلہ روک دیا

جنگ بندی کے پہلےمرحلےکےاختتام کے بعد اسرائیل نے غزہ میں کھانے پینے سمیت ہر قسم کےسامان کا داخلہ روک دیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کےآفس سےجاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے اختتام اور حماس کی جانب سے بامقصد بات چیت کو جاری رکھنے سے انکار کے بعد 2 مارچ سے اسرائیل نے غزہ کو امداد کی سپلائی مکمل طور پر روکنے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز جنگ بندی کے پہلےمرحلے کی مدت ختم ہونے پر اسرائیل نے جنگ بندی میں عارضی توسیع کا اعلان کیا تھا۔

توسیع کی تجویز امریکا نےدی تھی مگر اب اسرائیل نے یوٹرن لیتے ہوئےامداد کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔

دوسری جانب حماس نےجنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے پر زوردیا ہے۔

امریکا نے اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی

 

حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ کے لیےامداد کی فراہمی روکنا سستی بلیک میلنگ ہے۔

بیان میں کہا گیاکہ خطے میں استحکام اور قیدیوں کی واپسی کا واحد راستہ معاہدے پرعمل درآمد ہے۔

بیان کےمطابق اسرائیلی اقدام جنگی جرم اورمعاہدےکی واضح خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب شمالی غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملےمیں متعدد فلسطینیوں کےشہید اورزخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

Back to top button