سپریم کورٹ بار کی نااہلی درخواست پر اٹارنی جنرل سیخ پا

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے کسی بھی رکن اسمبلی کو سیاست سے تاحیات نااہل قرار دینے کے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درخواست انسانی حقوق یا عدلیہ کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ کچھ شخصیات کے فائدے کے لیے دائر کی گئی ہے۔ ان کے بقول اس بارے میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ جب پہلے ہی فیصلہ دے چکا ہے لہذا اس معاملے کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے عدالت میں لے جانے سے ان کی اپنی ساکھ متاثر ہو گی کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس بارے پارلیمنٹ ہی بہترین فورم ہے جہاں بحث سے اس مسئلے کا حل بھی نکالا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے خالد جاوید خان نے کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تاحیات نا اہلی قانون کے خلاف عدالت نہ جائے تو حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر اس تنازع کے خاتمے پر بات کر سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی پروفیسر این ڈی خان کے صاحبزادے خالد جاوید خان نے کہا کہ اس معاملے میں دونوں متاثرہ شخصیات نواز شریف اور جہانگیر ترین مالی طور پر مستحکم ہیں اور وہ اچھے وکلا کی ٹیم کے ساتھ خود سپریم کورٹ میں اپنا کیس پیش کرسکتی ہیں لیکن وکلا کی نمائندہ بار کی طرف سے ایسی درخواست آنے سے ان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ خالد جاوید نے کہا کہ 184(3) کے سے متعلق ان کا بھی موقف یہی ہے کہ اس میں اپیل کا حق ہونا چاہیے لیکن کوئی کسی فردِ واحد یا شخصیت کے لیے اسے عدالت میں لے کر جائے تو یہ مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس آئینی معاملے سے عوام الناس براہِ راست متاثر ہورہے ہوتے تو ایسی صورت میں بار ایسوسی ایشن کو سامنے آنا چاہیے تھا۔ خالد جاوید خان کے بقول اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے کر جانا ہی مسئلے کا بہتر حل ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اس درخواست پر اب تک سیاسی جماعتوں کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 جولائی 2017 کو شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تب کے وزیرِاعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ اُسی برس دسمبر میں تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو بھی بیرون ملک اثاثے چھپانے کے الزام میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اس بحث کا آغاز ہوگیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے ارکان اسمبلی کی نااہلی کی مدت کتنی ہوگی۔

بعدازاں اس آئینی شق کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ اس بینچ نے 14 فروری 2018 کو جاری کیے گئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 میں نااہلی کی مدت کا تعین کردیا گیا تھا لیکن آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت متعین نہیں کی گئی۔

اس لیے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اور جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا نااہلی بھی برقرار رہے گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے مطابق ہے اور اس کی یہی ممکنہ تشریح بنتی ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے باعث نواز شریف اور جہانگیر ترین الیکشن لڑنے سے محروم رہے اور تاحال انتخابی سیاست سے دور ہیں۔لیکن نااہل قرار دیے جانے کے معاملے میں مسلم لیگ(ن) کے خواجہ آصف خوش نصیب رہے جنہیں اپریل 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک ملازمت چھپانے اور اقامہ رکھنے پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ختم کر کےانہیں انتخاب لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیا تھا۔

اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تاحیات نا اہلی کی کلاز ختم کرانے کے لیے عدالت میں چلی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی شخص کی تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ آرٹیکل184کی شق نمبر تین کے تحت بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی۔
اس شق کے تحت ہونے والے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں ملتا جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 183 کی شق تین سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا اختیار دیتی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی دائر کردہ اس درخواست کو نواز شریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی انتخابی سیاست میں تاحیات نااہلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ سینئر وکلا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں 62 ون ایف کی تشریح سامنے آ چکی ہے کہ اس شق کے تحت ہونے والی نااہلی تاحیات ہوگی۔ لہٰذا اب اس درخواست پر عدالت چاہے تو اپنی ہی کی گئی تشریح تبدیل کرسکتی ہے۔

کپتان شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر کیوں نہیں مانتے؟

سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپیل کا حق دیے بغیر تاحیات نااہلی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور یہ متعلقہ انتخابی حلقے کے ووٹرز کے بنیادی حقوق کے بھی منافی ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ تاحيات نااہلی ختم کرنے کے ليے پارليمنٹ ميں آئینی ترميم لانا ہوگی۔

اس لیے سپريم کورٹ بار کو پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ لہکن سینئر وکیل حامد خان کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ 62 ون ایف کی تشریح کر سکتی ہے کیوں کہ یہ ان کا ہی فیصلہ تھا اور عدالت کسی معاملے میں اپنی کی گئی تشریح کو تبدیل بھی کرسکتی ہے۔ البتہ 184(3) کے تحت عدالتی فیصلے پر اپیل کا حق دینے یا نہ دینے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔

حامد خان کا کہنا ہے کہ وہ تاحیات نااہلی کے معاملے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق وکلا کو سیاسی معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو اس فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ خود فریق بنے اور عدالت جائے۔ لیکن وکلا کی نمائندہ تنظیم کا ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔ سینئر قانون دان لیکن سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے مطابق ہونے والے عدالتی فیصلےسے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے آئینی تشریح کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 184(3) سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جب پہلی بار آپ کسی کو مجرم قرار دے کر نا اہل کر دیتے ہیں تو اس شق کے تحت اسے اپیل کا حق نہیں ملتا۔ اس سے آئین میں فراہم کیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ اس شق کو تبدیل کرنے بارے صعف پارلیمنٹ ہی فیصلہ کر سکتی ہے۔

Back to top button