کراچی سے بڑا برفانی تودہ 40 سال کے سفر کے بعد ختم ہونےلگا

انٹارکٹیکا سے الگ ہو کر سمندر میں بہنے والا دنیا کا سب سے بڑا کراچی سے بڑا برفانی تودہ 40 سال کے سفر کے بعد ختم ہونےلگا۔
برفانی تودہ "اے 23 اے” تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ماہرین کے مطابق یہ چند ہفتوں میں مکمل طور پر غائب ہوسکتا ہے۔
یہ برفانی تودہ 1986 میں انٹارکٹیکا کے ساحلی علاقے سے ٹوٹ کر بحیرۂ وڈل میں رکا رہا اور ایک برفانی جزیرے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کا رقبہ تقریباً 1500 اسکوائر میل اور وزن ایک ہزار ارب ٹن تھا، جو کراچی (1360 اسکوائر میل) سے بھی بڑا تھا۔
چار دہائیوں تک ایک ہی مقام پر موجود رہنے کے بعد یہ 2020 میں حرکت میں آیا اور بتدریج ساؤتھ اورکنی آئی لینڈز اور پھر مارچ 2025 میں جنوبی بحرِ اوقیانوس میں ساؤتھ جارجیا کے قریب پہنچ گیا، جہاں اس کے مقامی سمندری حیات کے لیے خطرہ بننے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
مگر مئی میں یہ دوبارہ حرکت میں آیا اور اب گرم پانیوں میں تیزی سے پگھل رہا ہے۔ اس کا حجم پہلے ہی 50 فیصد سے زیادہ کم ہو چکا ہے اور اب بھی یہ تقریباً 683 اسکوائر میل پر محیط ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس سے سیکڑوں اسکوائر کلومیٹر بڑے برفانی ٹکڑے الگ ہوچکے ہیں جو بحری جہازوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔
برٹش انٹارکٹک سروے کے سائنسدان اینڈریو مائیجرز کے مطابق "اے 23 اے” شمال کی سمت بڑھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں ٹوٹ رہا ہے۔
