بحریہ ٹاؤن نے 458 کنال زمین، 285 ملین القادر ٹرسٹ کو دیئے

سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے نیب کو جواب میں موقف اپنایا ہے کہ بحریہ ٹائون نے 458 کنال زمین، 285 ملین القادر ٹرسٹ کو دیئے، جس سے عمران خان یا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا، ٹرسٹ کے سارے معاملات سیکرٹری دیکھتے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے نیب کے طلبی نوٹس پر اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’میں ایک با پردہ خاتون ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتی ہوں لہذا میری پیشی آٹھ جون کو منتقل کر دی جائے۔‘

بشری بی بی نے کہا ہے کہ ’میری نیب طلبی کی تاریخ والے دن ہی آپ نے میرے شوہر کو بھی طلب کیا ہے۔ میرے شوہر نے آپ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی عدالتوں اور نیب میں 8 جون کو پیش ہوں گے۔میں باپردہ خاتون ہوں اور گذشتہ سماعت پر اسلام آباد اپنے شوہر کے ہمراہ آئی تھی۔ 8 جون کو بھی اپنے شوہر کے ہمراہ نیب میں پیش ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آپ شامل تفتیش کرنے کے لیے ٹھوس مواد مہیا کریں۔ میرے پاس نیشنل کرائم ایجنسی اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان معاہدے کی معلومات نہیں۔بشریٰ بی بی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’458 کنال زمین، 285 ملین روپے، بلڈنگ و دیگر عطیات بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کو معاہدے کے تحت دیے۔۔۔ القادر یونیورسٹی ایک ٹرسٹ ہے جس سے کسی شخص یا اس کے ٹرسٹیز کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔‘

’جو دستاویزات مانگے گئے وہ القادر ٹرسٹ کے چیف فنانشل افسر کے پاس ہیں۔ القادر ٹرسٹ کی تمام چیزوں کو سیکریٹری دیکھتے ہیں۔بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ ان سمیت کسی ٹرسٹی کو ملک ریاض، ان کے خاندان یا بحریہ ٹاؤن سے کوئی زمین، تحفہ یا قیمتی چیز نہیں دی گئی۔

کیا اکتوبر میں بھی الیکشن کا امکان ہے یا نہیں؟

Back to top button