کیا اکتوبر میں بھی الیکشن کا امکان ہے یا نہیں؟

سابق صدر آصف علی زرداری نے واضح الفاظ میں قرار دیا ہے کہ اگلے دو ماہ میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، الیکشن اسی وقت ہونگے جب وہ چاہیں گے۔دوسری جانب سینئر صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکمران اتحاد جہاں عام انتخابات کے نظام الاوقات کے حوالے سے متضاد اشارے دے رہا ہے وہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان رواں سال 8 اکتوبر کو انتخابات کرانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے بشرطیکہ وفاقی حکومت کوئی ایسی تکنیکی رکاوٹ نہ پیدا کردے جس کی توجیہہ وہ آئین سے حاصل کر رہی ہو۔
دوسری جانب پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انتخابات میں جانےسے قبل ملک کی اقتصادی صورتحال پر غور ہونا چاہیے۔ مولانا کے اس بیان کی اقتصادی ایمرجنسی کے لبادے میں ایک سال کےلیے موجودہ حکومت کی مدت میں توسیع کے منصوبے کے طور پر تشریح کی جارہی ہے۔علاوہ ازیں اسمبلی توڑ کر بھی حکومت اپنی مدت میں ایک ماہ اضافہ کر سکتی ہے جبکہ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج پرسوال اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے بھی فوری انتخابات کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دیتا تاہم فضل الرحمن نے یہ ضروت قرار دیا ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ حکمران اتحاد کے اتفاق رائے سے ہوگا۔
عمر چیمہ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی بات کریں تو وہ 8 اکتوبر کو انتخابات کرانے کےلیے پرعزم ہے۔ انتخابات اس وقت کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے اس وقت کیا تھا جب اس نے قانون فانذ کرنے والی ایجنسیوں اور پاکستانی فوج کی رپورٹوں کی بنیاد پر امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات موخر کیے تھے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 4 سے 5 ماہ میں فوج اپنی مصروفیات سے چھٹکارا حاصل کرچکی ہوگی اور آزادانہ و شفاف انتخابات کرانے کےلیے مددکرنے کےلیے تیار ہو گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ اپنا وعدہ نبھانے کےلیے اپنا اختیار استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ بالفرض حکومت اگر تعاون نہیں کرتی تو الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 220 کو بروئے کار لائے گا۔آئین کی اس شق کے مطابق ’’ فیڈریشن اور صوبوں کی تمام انتظامی اتھارٹیز کمشنر اور الیکشن کمیشن کے افعال کی انجام دہی میں اس کی معاونت کے پابند ہیں‘‘۔ الیکشن کمیشن کے عہدیدار سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر اس شق کو بروئے کار لانے کے باوجود حکومت تعاون نہیں کرتی تو کیا ہوگا؟ تو اس پر جواب دیتےہوئے الیکشن کمیشن کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں بالخصوص ایسی صورتحال میں جب کہ عدالتی احکامات کی بھی حکم عدولی ہوچکی ہے۔
دوسری جانب حکومتی عہدیدار کے مطابق ڈیجیٹل مردم شماری میں تاخیر سے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ڈیجیٹل مردم شماری ابھی مکمل نہیں ہوئی اور حکمران اتحاد کے مختلف حصہ داربالخصوص متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی جاری مردم شماری کے عمل میں دیانتداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مردم شماری کا جب سرکاری طور پر اعلان ہوجائے گا تو نئے عام انتخابات کےلیے حلقہ بندیاں ایک آئینی تقاضا ہوں گی ۔ یہ معاملہ اس وقت بھی سامنے آیا تھا جب سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی متنازع رولنگ پر سوموٹو نوٹس لیا تھا اور جس کے ذریعے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کو روکا گیا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کہا تھا کہ آیا اگر اسے عدالت حکم دے تو کیا وہ انتخابات کر سکتا ہے تو اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے مردم شماری کے لحاظ سے حلقہ بندیاں نہیں کرسکا حالانکہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال میں کئی خطوط لکھے گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے
تحریک انصاف کے ٹکٹ سے سستی اب صرف خاموشی؟
اس نکتے کو تسلیم کیا تھا۔
