ریکوڈیک پراجیکٹ سے بلوچستان کے عوام کا مقدر کیسے بدلنے والا ہے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ریکوڈیک سونے کی کان ہے جس میں کھربوں ڈالرز کا سونا چھپا ہوا ہے، لیکن افسوس کہ اس کے اوپر غربت‘ بیماری اور ناراضی کی فصلیں لہلہا رہی ہیں‘ یہاں کے عوام کے شکوے حقیقی اور جائز ییں، لہٰذا ریکوڈیک کی مائننگ میں کام یاب ہو جاتے سے بلوچستان اور اسکے پسماندہ عوام کا مقدر بدلنے جا رہا یے۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اگر ریکوڈیک منصوبہ کامیاب ہو جائے تو پورے بلوچستان میں خوش حالی آ جائے گی اور وفاق کو بھی دردر بھیک نہیں مانگنا پڑے گی، لیکن اس کے لیے سیاسی استحکام اور بزنس اپروچ چاہیے جبکہ ہماری تاریخ میں ان دونوں کی خوف ناک کمی ہے‘ ہم من حیث القوم اینٹی بزنس ہیں‘ نہ تو ہم خود کاروبار کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں‘ ہم ملک میں سیاسی استحکام بھی نہیں آنے دیتے‘ ہم اچھی بھلی چلتی گاڑی کو کھول کر بیٹھ جاتے ہیں‘ﷲ کرے اس بار ہمارا ماضی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ اگر یہ ہو گیا تو یقین کریں ملک بدل جائے گا ورنہ دوسری صورت میں سونے کی یہ کان بھی اسی طرح بارش کا انتظار کرتی رہ جائے گی اور ہم بھی در در بھیک مانگتے رہیں گے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک پہاڑ کو کہتے ہیں لہٰذا ریکوڈک ریتلے پہاڑوں کا علاقہ ہے‘ یہ علاقہ بلوچستان کے ضلع چاغی کا حصہ ہے‘ افغانستان کی سرحد اس سے 30 کلومیٹر جب کہ ایران کا تفتان بارڈر 100 کلو میٹر دور ہے‘ نوکنڈی ریکوڈک کا سب سے بڑا قصبہ ہے جس میں 20 ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں‘ یہ پورا علاقہ لق ودق صحرا ہے‘ دور دور تک ریت اور مٹی کے سوا کچھ نہیں‘ درمیان میں کہیں کہیں خشک سیاہ پہاڑ ہیں۔ سال دو سال بعد ہلکی بارش ہوتی ہے تو تھوڑی بہت گھاس اور جھاڑیاں اگ جاتی ہیں اور اگر کسی سال قدرت مہربانی نہ کرے تو زمین ان سے بھی محروم رہتی ہے۔ لیکن آپ ﷲ کی تقسیم دیکھیے‘ اس بیابان‘ لق و دق اور دور افتادہ زمین میں تانبے اور سونے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
جاوید چوہدری کے مطابق حکومت نے ابھی ریکوڈک کا صرف 160 مربع کلومیٹر کا رقبہ سونا اور تانبا دریافت کرنیوالی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بیرک کے حوالے کیا ہے‘ اس کمپنی کے اندازے کے مطابق یہاں سے شروع میں 40 سال اور بعدازاں مزید 30 برس تک تانبا اور سونا نکالا جا سکتا ہے۔ تانبے کے یہ ذخائر ہمیں دنیا کے دس بڑے تانبا پروڈیوس کرنے والے ممالک اور سونے کے ذخائر 14 بڑے ممالک میں شامل کر دیں گے جب کہ پورے ریکوڈک کے ذخائر ہمیں تانبا اور سونا پروڈیوس کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بنا سکتے ہیں اور ہم اگلا سعودی عرب ہو سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ حکومت نے بیرک کے ساتھ بہت اچھا معاہدہ کیا‘ کمپنی ریکوڈک کے 160 مربع کلومیٹر کی آمدنی کی پچاس فیصد رقم کی مالک ہو گی جب کہ 25 فیصد حصہ بلوچستان کو ملے گا اور باقی 25 فیصد وفاق کے حصے آئے گا۔
ریکوڈیک میں سونے اور تانبے سے بھری زمین کی مائننگ اور ڈرلنگ 2028 میں شروع ہوگی جس کے بعد پاکستانی خزانے میں ڈالرز آنے لگیں گے‘ مائننگ کے لیے بیرک کمپنی نے ریکوڈیک سائیٹ کے قریب اپنا رن وے اور عارضی ائیرپورٹ بنا لیا ہے‘ جس کی سیکیورٹی پاک فوج کے پاس ہے‘ کمپنی کی گاڑیاں بلٹ پروف ہیں اور ان کے آگے اور پیچھے فوج کی گاڑیاں اور جیمرز چلتے ہیں‘ ائیر پورٹ کے دائیں بائیں دور دور تک آبادی کا کوئی نام ونشان نہیں۔
تاہم دائیں جانب سیاہ رنگ کا ایک بڑا پہاڑ دکھائی دیتا ہے‘ لوکل لوگ اسے کوہ دلیل کہتے ہیں‘ کیمپ ائیر پورٹ سے دس منٹ کی ڈرائیو پر ہے‘ سڑک کچی ہے اور یہ بھی کمپنی نے بنائی ہے۔
مریم نواز اور ان کی والدہ کلثوم نواز تنقید کی زد میں کیوں آ گئیں؟
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ بیرک کمپنی نے یہاں پانی نکالنے کے علاوہ سولر پینلز اور ہیوی ڈیزل جینریٹرز کے ذریعے بجلی کا بندوبست بھی کر دیا ہے‘ کیمپ میں ساڑھے چھ سو لوگ رہائش پذیر ہیں جن میں سے 80 فیصد مقامی ہیں‘ بیرک کمپنی کے غیر ملکی ماہرین 25 ہزار لوگوں کو ملازمتیں دے کر ٹرین کریں گے کریں گے جن میں سے 80 فیصد اسی علاقے سے ہوں گے۔ یوں مقامی آبادی کو روزگار ملے گا اور ان کی زندگیاں تبدیل ہوجائیں گی‘ اسکے علاوہ بیرک کمپنی نے یہاں ہسپتال اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھی بنا دیا ہے۔ لہذا یہاں سونا نکلنے سے پہلے ہی عوام کے حالات زندگی بہتر ہونے جا رہے ہیں۔
