نواز کی خواہش پر پنجاب میں اگلے برس بسنت منانے کا امکان

مریم نواز کی پنجاب حکومت نے میاں نواز شریف کی خواہش پر اس سال لاہور میں بسنت منانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پھر دھاتی ڈور سے دو نوجوانوں کے گلے کٹنے کے بعد یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز اگلے سال سے بسنت کا تہوار منانے کیلئے پر عزم ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، تاہم لاہور میں ڈور پھرنے سے دو افراد کی اموات کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرین کی گردن پر پتھر لگنے سے اموات واقع ہوئیں، مگر حقائق زیادہ دیر چھپ نہ سکے اور سامنے آیا کہ دونوں افراد گردن پر دھاتی ڈور پھرنے سے موت کا شکار ہوئے ہیں۔ واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد بسنت کی اجازت دینے والی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہی نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے بلکہ بسنت کی تمام تیاریاں بھی عارضی طور پر روک دی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بسنت کا تہوار پہلی بار 2007 میں اس وقت ممنوع قرار دیا گیا جب پتنگ کی ڈور سے سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2018 میں حمزہ شہباز شریف کے  دور اقتدار پتنگ بازی پر سے پابندی مختصر طور پر اٹھائی گئی تھی، لیکن درجنوں اموات کے بعد فوری طور پر دوبارہ پابندی نافذ کر دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ بسنت لاہور کا روایتی اور قدیمی تہوار ہے جو بہار کی آمد پر منایا جاتا تھا، لوگ چھتوں پر جمع ہوتے تھے، رنگ برنگی پتنگیں اڑاتے تھے، گانے بجائے جاتے تھے جبکہ چھتوں پر روایتی کھانوں کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا تاہم خطرناک ڈور کی وجہ سے ہونے والے حادثات نے اس خوشیوں کے تہوار کو ماتم میں تبدیل کر دیا تھا انھی حادثات کی وجہ سے 2007 کے بعد سے لاہور میں بسنت پر مکمل پابندی عائد ہے۔ 18 سال سے یہ تہوار نہیں منایا گیا۔ تاہم مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف چاہتے ہیں کہ پنجاب میں نہ سہی لاہور میں بسنت ضرور ہو، پارٹی قائد کی خواہش کی تکمیل کیلئے پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت کے تہوار کی محدود بحالی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ یہ تہوار فروری 2026 میں دو دن ہفتہ اور اتوار منائے جانے کا امکان ہے لیکن یہ تہوار پورے پنجاب میں نہیں صرف لاہور کے مخصوص علاقوں میں منایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر 18 سال بعد بسنت کے تہوار کو مشروط طور پر بحال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ جس کے تحت مخصوص علاقوں میں سخت پابندیوں کے ساتھ پتنگ بازی کی اجازت دینے کی تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔ جس کے تحت مخصوص مقامات جیسے کھلے میدانوں اور ہوٹلوں کی چھتوں پر سخت شرائط کے ساتھ جشن منانے کی اجازت دینے بارے تجاویز زیر غور ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے مجوزہ مسودے میں کہا گیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی، جبکہ بسنت کے حوالے سے  فروری 2026 میں ہونے والی محدود تقریبات کے تحت بسنت نائٹ 12 فروری اور بسنت ڈے 13 فروری کو ہو گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے پتنگ بازی کے لیے قانون میں ترامیم کا نیا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔ ترمیم شدہ ڈرافٹ کے مطابق پتنگ بنانے والوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی۔مینوفیکچررز کے لیے رجسٹریشن فیس 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ تجدید کے لیے 2 ہزار 500 روپے فیس رکھی گئی ہے۔ پتنگ فروشوں کے لیے رجسٹریشن فیس 15 ہزار اور تجدید کی فیس 1 ہزار 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کے لیے رجسٹریشن فیس 50 ہزار اور تجدید فیس 5 ہزار مقرر کی گئی ہے۔محفوظ پتنگ بازی کے لیے مخصوص شرائط و ضوابط پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بڑی پتنگ، دھاتی یا شیشے والی ڈور کے استعمال پر سخت پابندی برقرار رہے گی۔ خاص طور پر دھاتی ڈور کے استعمال پر سزا کے طور پر جیل کی سزا دی جائے گی۔بسنت کی تقریبات اب صرف اندرونِ لاہور تک محدود نہیں رہیں گی، بسنت کے لیے جن مقامات کے نام تجویز کیے گئے ہیں ان میں والڈ سٹی، ریس کورس، ماڈل ٹاؤن اور جلو پارک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی سی ہوٹل، آواری ہوٹل اور فلیٹیز ہوٹل کی چھتوں پر بھی پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی۔قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پنجاب میں محدود پیمانے پر بسنت منانے کی اجازت دینے کیلئے ابتدائی انتظامی تیاریوں کے دوران ہی لاہور اور اس کے نواح میں گردن پر ڈور پھرنے کے دو واقعات کے بعد اس سال بسنت منانے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت نواز شریف کی خواہش پر اگلے سال بسنت منانے کیلئے پر عزم ہے ۔

پنجاب میں بسنت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا خطرناک پتنگ بازی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم، کنٹرولڈ ماحول میں بسنت کی مشروط اجازت زیرِغور ہے۔ دوسری جانب پاکستان کائٹ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل شیخ کا کہنا ہے کہ بسنت ضرور منائی جانی چاہیے۔ اس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ یہ تہوار لاہور کی شناخت کو بحال کرے گا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر محفوظ ڈور کے استعمال کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بسنت کے تہوار کا نقطہ آغاز ہوگا۔ تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق بسنت کے حوالے سے حتمی فیصلہ دسمبر میں ہوگا۔ اگر سب ٹھیک رہا تو فروری 2026 میں 18 سال بعد لاہور ایک بار پھر بوکاٹا کے نعروں سے ضرور گونجے گا۔

 

Back to top button