خبردار! غیر رجسٹرڈ سیکنڈ ہینڈ سستاموبائل فون خریدنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے

پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فون خریدنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ صرف کم قیمت یا جدید فیچرز دیکھ کر خریداری کرنا صارفین کے لیے مالی اور سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ غیر رجسٹرڈ یا تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی والے فون نہ صرف کسی بھی وقت بلاک ہو سکتے ہیں بلکہ ایسے فونز میں موجود خفیہ وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر صارف کا بینک اکاؤنٹ، سوشل میڈیا اور دیگر حساس معلومات بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو خریداری سے قبل فون کی قانونی حیثیت، آئی ایم ای آئی نمبر اور سکیورٹی کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سمارٹ فونز کے استعمال میں مسلسل اضافے کے ساتھ استعمال شدہ موبائل فونز کی خرید و فروخت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم ماہرین اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ بغیر تصدیق کے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنا صارفین کے لیے مالی، قانونی اور سائبر سکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق موبائل فون خریدتے وقت صرف کمپنی، قیمت یا فیچرز کو مدنظر رکھنا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ڈیوائس پی ٹی اے سے منظور شدہ اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ہو۔ اسی مقصد کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) نافذ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان میں استعمال ہونے والے تمام موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اگر کسی فون کا آئی ایم ای آئی نمبر غیر رجسٹرڈ ہو یا اس میں غیر قانونی ردوبدل کیا گیا ہو تو ایسی ڈیوائس کو کسی بھی وقت بلاک کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ پاکستان کے کسی بھی موبائل نیٹ ورک پر استعمال کے قابل نہیں رہتی۔

پی ٹی اے نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ موبائل فون خریدنے سے پہلے #06# ڈائل کرکے آئی ایم ای آئی نمبر ضرور حاصل کریں، اسے فون کے ڈبے پر درج نمبر سے ملائیں اور پی ٹی اے کے تصدیقی نظام یا 8484 پر ایس ایم ایس بھیج کر اس کی قانونی حیثیت ضرور چیک کریں۔ اس کے علاوہ خریداری ہمیشہ مستند دکان یا رجسٹرڈ ڈیلر سے کی جائے اور رسید محفوظ رکھی جائے تاکہ بعد میں کسی قانونی یا مالی مسئلے کی صورت میں ثبوت موجود ہو۔

آئی ٹی ماہرین کے مطابق استعمال شدہ موبائل فون خریدنے والوں کو صرف رجسٹریشن ہی نہیں بلکہ سکیورٹی کے پہلو پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بعض اوقات بظاہر اصل اور محفوظ نظر آنے والے موبائل فونز میں پہلے سے اسپائی ویئر، میلویئر یا دیگر نقصان دہ سافٹ ویئر موجود ہوتے ہیں، جو نئے صارف کے فون میں محفوظ حساس معلومات، جیسے بینکنگ ایپس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ای میل، تصاویر اور پاس ورڈز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر صارف احتیاط نہ کرے تو اس کا بینک اکاؤنٹ یا دیگر آن لائن اکاؤنٹس بھی سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ صرف استعمال شدہ موبائل فون خرید لینے سے بینک اکاؤنٹ خود بخود ہیک نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فون میں موجود خفیہ وائرس، غیر محفوظ سافٹ ویئر یا سابق مالک کا ڈیٹا مکمل طور پر حذف نہ کیا گیا ہو۔ اسی لیے خریداری کے فوراً بعد فون کو مکمل فیکٹری ری سیٹ کرنا، تازہ ترین سافٹ ویئر اپ ڈیٹس انسٹال کرنا، غیر ضروری یا مشکوک ایپس حذف کرنا اور پھر اپنی ذاتی معلومات یا بینکنگ ایپس استعمال کرنا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفہام کے مطابق مارکیٹ میں اب بھی بیرون ملک سے غیر قانونی طور پر درآمد کیے گئے یا تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی والے موبائل فون فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم انتظامیہ اور ڈیلرز ایسی سرگرمیوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صرف غیر قانونی موبائل فونز کی روک تھام نہیں بلکہ صارفین کو مالی نقصان سے بچانا بھی ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص لاکھوں روپے کا غیر رجسٹرڈ فون خرید لے اور بعد میں وہ بلاک ہو جائے تو پوری رقم ضائع ہو سکتی ہے۔ قانونی طور پر بھی غیر قانونی یا تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی نمبر والے موبائل فونز کی خرید و فروخت سنگین جرم تصور کی جاتی ہے۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن ڈیوائس کے آئی ایم ای آئی نمبر میں غیر قانونی تبدیلی، پروگرامنگ یا چھیڑ چھاڑ پر تین سال تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فون خریدنے کا رجحان ضرور بڑھا ہے، لیکن اب بھی بعض خریدار صرف کم قیمت دیکھ کر غیر رجسٹرڈ فون خرید لیتے ہیں، جس کے بعد انہیں قانونی، مالی اور تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند منٹ کی تصدیق مستقبل میں بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ ماہرین کے بقول مختصراً، استعمال شدہ موبائل فون خریدتے وقت قانونی رجسٹریشن، درست آئی ایم ای آئی، مکمل سکیورٹی جانچ، فیکٹری ری سیٹ، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور مستند ڈیلر سے خریداری جیسے اقدامات اختیار کر کے نہ صرف مالی نقصان سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹس اور آن لائن شناخت کو بھی سائبر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

Back to top button