بلاول کی جانب سے خواجہ آصف کے استعفے کا مطالبہ، نون لیگ کیا کرے گی؟

کشمیر جیسے حساس قومی معاملے پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک بیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ تازہ پیشرفت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف اس بیان کو قومی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا بلکہ وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ بھی کیا کہ اگر یہ حکومت کی پالیسی نہیں تو خواجہ آصف کو فوری طور پر لات مار کرکابینہ سے برطرف کیا جائے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں خواجہ آصف کی مضبوط سیاسی حیثیت، پارٹی قیادت سے قربت اور موجودہ سیاسی حالات کے باعث ان کے خلاف کسی بڑی کارروائی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، البتہ اس تنازع نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
مبصرین کے بقول وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور کے باسیوں بارے بیان نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کشمیر جیسے حساس اور قومی اہمیت کے حامل معاملے پر آنے والے اس بیان نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی شدید ردعمل پیدا کیا۔ تاہم تازہ پیشرفت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے علاقے ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کے بیان پر سخت تنقید کی اور وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں آیا یہ بیان حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی کرتا ہے یا وزیر دفاع کی ذاتی رائے ہے۔ بلاول بھٹو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر یہ حکومتی مؤقف نہیں تو وزیراعظم کو خواجہ آصف کو فوری طور پر کابینہ سے الگ کر دینا چاہیے۔
اس معاملے پر مختلف سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی مبصر ماجد نظامی کے مطابق اگرچہ تاریخی، لسانی اور جغرافیائی حوالوں سے مختلف علاقوں کی شناخت پر علمی بحث ممکن ہے، لیکن کشمیر جیسے حساس تنازع پر کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کی جانب سے ایسا بیان دینا سیاسی طور پر مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتے ہیں بلکہ قومی مفاد سے جڑے معاملات پر عوام میں بھی غلط تاثر پیدا کرتے ہیں۔
ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی تنقید بڑی حد تک قابل فہم ہے، تاہم عملی سیاست کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خواجہ آصف کے خلاف کسی سخت کارروائی کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق خواجہ آصف پارٹی کے انتہائی سینئر رہنما ہیں، نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی پوزیشن مضبوط ہے، جس کے باعث ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی توقع کم ہے۔
دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف خود کشمیری پس منظر رکھتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر حتمی رائے اور ردعمل کا حق بنیادی طور پر اہلِ کشمیر کو ہی حاصل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو کو اس تنازع پر غیر ضروری سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے کشمیری عوام کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی سیاست میں سخت بیانات اور ان پر سخت ردعمل کوئی نئی روایت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کے بیان کو آزاد کشمیر میں مختلف سیاسی و سماجی حلقوں، خصوصاً جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے منفی انداز میں لیا، جس کے بعد سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا اور بلاول بھٹو نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ اس بیان سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوا اور اس کے اثرات حکومت اور مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان جاری رابطوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، تاہم ماضی کی سیاسی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خواجہ آصف کو کابینہ سے ہٹانے یا ان کے خلاف کسی بڑی تنظیمی کارروائی کا امکان بہت کم ہے۔ ان کے بقول اگر مستقبل میں وفاقی کابینہ میں ردوبدل ہوا تو وزارت یا قلمدان کی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن سخت سیاسی کارروائی فی الحال بعید از قیاس دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے بقول مجموعی طور پر یہ تنازع ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کشمیر جیسے حساس قومی معاملے پر سیاسی قیادت کے بیانات نہ صرف ملکی سیاست بلکہ قومی بیانیے اور عوامی جذبات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ایسے معاملات پر محتاط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو قومی مفاد کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
