اراکین اسمبلی کیلئے تاحیات سرکاری پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ تنقید کی زد میں کیوں؟

سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کی جانب سے سابق ارکانِ پارلیمان، ان کے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کو بھی نیلا سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق بل کی منظوری نے ملک میں ایک نئی سیاسی اور عوامی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ناقدین اسے عوامی مسائل پر مراعات کو ترجیح دینے کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومتی اور بعض پارلیمانی حلقے اسے منتخب نمائندوں کا جائز حق قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس فیصلے نے ایک بار پھر پاکستانی گرین پاسپورٹ کی عالمی ساکھ، قانون سازوں کی ترجیحات اور سرکاری مراعات کے نظام پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مبصرین کے بقول پاکستان میں سابق ارکانِ پارلیمان، ان کے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کو نیلا سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق بل کی سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک نئی سہولت تک محدود نہیں بلکہ اس نے قانون سازوں کی ترجیحات، سرکاری مراعات کے دائرہ کار اور پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت جیسے اہم موضوعات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے موجودہ ارکان اپنی مدتِ رکنیت کے دوران نیلا سرکاری پاسپورٹ رکھنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ تاہم نئے بل کے تحت اس سہولت کو سابق ارکان اور ان کے اہلِ خانہ تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب عام پاکستانی شہری کمزور گرین پاسپورٹ، سخت ویزا پالیسیوں اور سفری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، قانون سازوں کی جانب سے اپنی مراعات میں مزید اضافہ عوامی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق اگر منتخب نمائندے خود بھی گرین پاسپورٹ کے بجائے سرکاری پاسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں تو پھر عام پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ بہتر بنانے کی ذمہ داری کون نبھائے گا؟
اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی گرین پاسپورٹ اس وقت عالمی درجہ بندی میں سوویں نمبر پر موجود ہے، جبکہ ویزا فری یا ویزا آن ارائیول سہولت دینے والے ممالک کی تعداد بھی محدود ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ حکومت کو نئی مراعات دینے کے بجائے عام پاسپورٹ کی عالمی حیثیت بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق نیلا سرکاری پاسپورٹ صرف ان افراد تک محدود ہونا چاہیے جنہیں سرکاری ذمہ داریوں کے تحت بیرونِ ملک سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے نزدیک سابق ارکانِ پارلیمان کے اہلِ خانہ کو یہ سہولت دینا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے سرکاری پاسپورٹ کی اصل اہمیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی بھی اس اقدام کو اخلاقی نقطۂ نظر سے قابلِ بحث قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے یہ تاثر دیتے ہیں کہ قانون ساز عوامی مسائل کے مقابلے میں اپنی سہولتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، حالانکہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قومی مفاد اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دیں۔
دوسری جانب اس بل کے حامی سیاست دان اس تنقید سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی مراعت نہیں بلکہ منتخب عوامی نمائندوں کا جائز حق ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ہزاروں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسران پہلے ہی نیلے سرکاری پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں، لیکن جب یہی سہولت سیاست دانوں کو دینے کی بات آتی ہے تو اسے غیر ضروری تنازع بنا دیا جاتا ہے۔
سینیٹر پلوشہ بہرام کے مطابق اصل مراعات یافتہ طبقہ سیاست دان نہیں بلکہ بیوروکریسی ہے، کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بڑی تعداد میں سرکاری افسران نیلا پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون سازوں کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے اور نیلا پاسپورٹ رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہیں دنیا بھر میں خصوصی سفری سہولتیں حاصل ہو جاتی ہیں، کیونکہ بیشتر ممالک کے لیے انہیں بھی ویزا درکار ہوتا ہے اور سرکاری پاسپورٹ کے استعمال کے لیے باقاعدہ سرکاری طریقۂ کار پر عمل کرنا پڑتا ہے۔
اس معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں عوامی نمائندوں کی ترجیح عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے یا اپنی مراعات میں اضافہ؟ ساتھ ہی یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اگر ملک کے اعلیٰ عہدے دار خود عام گرین پاسپورٹ کے بجائے سرکاری پاسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کب کیے جائیں گے۔
