بلاول کا دورہ ایران: گیس پائپ لائن کی بحالی کا امکان

امریکی پابندیوں کا شکار ہونے والی پاک ایران گیس پائپ لائن کی بحالی ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں آ گئی ہے جس کی وجہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا دورہ ایران بتایا جا رہا ہے، اس منصوبے کی بحالی سے پاکستانی معیشت بہت بڑے فائدے حاصل کر سکتی ہے لیکن امریکہ کی پابندیاں اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو کے دورہ ایران کے بعد گیس پائپ لائن کی بحالی کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

امریکی CIA کا جاسوس ڈاکٹر 10 برس سے پاکستانی قید میں

یہ معاہدہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا۔ ایران اپنی سائیڈ پر پائپ لائن تعمیر کر کے پاکستان کے بلوچستان بارڈر تک لا چکا ہے لیکن پاکستانی سائیڈ سے گیس پائپ لائن کی تعمیر معطل پڑی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کو گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سوئی اور دوسرے علاقوں میں گیس کے کم ہوتے ہوئے ذخائر ہیں جبکہ اسلام آباد کو تیل کی درآمد پر بھی خطیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسے میں پاکستان ایران پائپ لائن کا منصوبہ بحال ہوتا ہے تو اس سے معیشت کو بہت فائدہ ہوگا۔

لیکن ناقدین کے خیال میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ معاہدے پر آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے۔ دوسری صورت میں پاکستان کے لیے سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی ایران سے جغرافیائی قربت ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران سے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں یا اس منصوبے کو مکمل کر کے فعال کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا، مالی امور کے ماہر اور سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں اس معاہدے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں، یقینا ًیہ معاہدہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر گیس اور تیل پیدا کرتے ہیں۔ پائپ لائن بچھانے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپ کو فریٹ کے ریٹ دینے نہیں پڑتے بلکہ یہ ایل این جی سے بھی سستی پڑتی ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایران اور روس مقامی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور پاکستان بھی ایسا کر کے امریکی پابندیوں سے کسی حد تک بچ سکتا ہے، اگر پاکستان مقامی کرنسی میں ایران سے تجارت کرتا ہے تو یقینا ًایران کی گیس بہت سستی رہے گی، زرمبادلہ کے ذخائر بھی محفوظ رہیں گے اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض بھی نہیں لینا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوکل کرنسی میں حکومت یہ کام نہیں کر سکتی، تو پھر ہم بارٹر یا اشیاء کے تبادلے کے ذریعے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جب یہ گیس پائپ لائن معاہدہ ہو رہا تھا تو ایران نے آفر کی تھی کہ اگر پاکستان اسے شوگر اور ہیوی مکینیکل پلانٹس لگا کر دے تو اس کے بدلے میں ایران پاکستانی سائیڈ کی گیس پائپ لائن بھی تعمیر کر دے گا۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ تجویز بہت مناسب تھی، کیونکہ اس سے پاکستان کا زرمبادلہ بچتا، پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھی نہ پڑتا اور پاکستانی صنعت میں بھی بہتری آتی ہے۔ لیکن پاکستان ایسا نہیں کر پایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ اسی تجویز کو آگے بڑھانا چاہیے۔

پاکستان میں اس وقت گیس کا سنجیدہ بحران ہے اور صنعتوں کو حکومت ان کی مطلوبہ مقدار کے مطابق گیس فراہم نہیں کر پا رہی، اس وجہ سے صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے اور ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، ملک میں لاکھوں کی تعداد میں رکشے اور ٹیکسیاں سی این جی پر ہیں لیکن وہ بھی ایک عرصے سے بند پڑی ہے، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے پاکستانیوں کیلئے شدید مشکلات ہیں۔ لہذا اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ چل پڑے تو پاکستان کے بڑے مسائل ختم ہوجائیں گے۔

Back to top button