بولڈ لباس پہننے والی لڑکیاں رابی پیرزادہ سے دور کیوں بھاگتی ہیں؟

موبائل فون پر بنی اپنی غیر اخلاقی ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد مذہب کی طرف مائل ہو جانے والی سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ نے بتایا ہے کہ ماضی میں جب میں کسی باحجاب خاتون کو دیکھتی تھی تو اس سے دو قدم دور ہو جاتی تھی لیکن اب مذہب کی طرف مائل ہونے کے بعد دیگر خواتین میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرتی ہیں۔ رابی پیرزادہ نے ایک انٹرویو میں شوبز چھوڑنے سے قبل والی زندگی پر کھل کر بات کی اور اپنی ویڈیوز لیک ہونے کے بعد اپنے خلاف لوگوں کی نفرت پر بھی کھل کر بات کی۔ رابی کے مطابق جب ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی تو ان کے اپنے بھی ان سے نفرت کرنے لگے اور وہ لوگ بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے، جنہیں وہ اپنا سب سے بہترین دوست اور ساتھی سمجھتی تھیں۔

گلوکارہ نے اشکبار ہوتے کہا کہ بس صرف والدین ہی ان کے ساتھ کھڑے رہے اور وہ دعا کرتی ہیں کہ ان جیسے والدین خدا ہر کسی کو عطا کرے، ایک سوال کے جواب میں رابی نے بتایا کہ اگرچہ اب انہوں نے حجاب پہننا شروع کر دیا ہے، تاہم وہ اب بھی وہی رابی پیرزادہ ہیں جو پہلے ہوا کرتی تھیں۔رابی پیر زادہ نے بتایا کہ وہ اب بھی حجاب کے دوران سر کے پہلے حصے کے بال اس لیے کھلے رکھتی ہیں کہ وہ ہر وقت ایسی ہی رہتی ہیں، ان سے کیمرے کے سامنے ان بالوں کو چھپایا نہیں جاتا۔

گلوکارہ کے مطابق اگرچہ وہ اب حجاب کرتی ہیں، تاہم ان کے ڈرائیور اور باورچی بھی غیر محرم مرد ہیں، اس لیے جیسا وہ ان کے سامنے پردے میں رہتی ہیں، اداکارہ نے دعا کی کہ خدا انہیں مکمل طرح پردہ کرنے کی توفیق عطا کریں گے۔

شہباز حکومت چند ہفتوں سے زیادہ کیوں نہیں چل پائے گی؟

انٹرویو میں بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ جب وہ ماضی میں پینٹ شرٹ یا بولڈ لباس میں پہنتی تھیں تو پردہ دار خواتین کو دیکھتے ہی ان سے دو قدم دور ہو جاتی تھیں لیکن اب بولڈ لباس پہننے والی خواتین انکو دیکھ کر ان سے دور ہوجاتی ہیں۔ رابی پیرزادہ کے مطابق اب وہ سوچتی ہیں تو انہیں سمجھ آتا ہے کہ درحقیقت با پردہ خواتین ہی خوبصورت تھیں، انہیں تو مختصر یا بولڈ لباس کی وجہ سے ہر کوئی آسانی سے دیکھ لیتا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ماضی میں جب کوئی انہیں عمرے پر جانے کی تجویز دیتا تھا تو وہ کہتی تھیں کہ وہ کیوں عمرے پر جائیں؟ انکے مطابق تب وہ سوچتی تھیں کہ ان کی ابھی عمر نہیں ہوئی عمرے پر جانے کی مگر اب عمرہ کر لینے کے باوجود انکی خواہش رہتی ہے کہ وہ صرف مکہ و مدینہ ہی دیکھتی رہیں، کھانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ وہ اکیلی چار افراد کا کھانا کھا جاتی ہیں جب کہ انہیں مٹھائیاں بہت پسند ہیں اور وہ ایک وقت میں ڈیڑھ کلو مٹھائی تک کھا جاتی ہیں۔

Back to top button