BRT پشاور کرپشن سکینڈل،FIAکے ذریعے شکنجہ کسنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کے نگران حکومت نے مالی خسارے کا شکار اور 100 ارب روپے کے تحریک انصاف کی سابق حکومت کے مہنگے ترین منصوبے پشاور میٹرو بس پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن اور بے قاعدگیوں کی تحقیقات فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری صوبائی کابینہ سے لی جائیگی۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے ایک سمری ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے کیبنٹ ونگ کو ارسال کی ہے تاکہ نگران کابینہ کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں بی آر ٹی پشاور پراجیکٹ کی انکوائری ایف آئی اے سے کرانے کا کیس شامل کیا جاسکے۔
نگران صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا شاہد خان خٹک کے مطابق بی آر ٹی پشاور پراجیکٹ کی انکوائری قومی احتساب بیورو(نیب) خیبر پختونخوا کررہا ہے لیکن عدالت میں سٹے آرڈر کی وجہ سے نیب مذکورہ انکوائری آگے لینے جانے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بی آر ٹی پراجیکٹ کی انکوائری ایف آئی اے کے ذریعے کی جائے۔نگران صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ ان کے ماتحت ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک سمری تیار کرکے چیف سیکریٹری کے ماتحت ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے کیبنٹ ونگ کو ارسال کی ہے تاکہ اس کو نگران کابینہ کے آئندہ منعقد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جاسکے اور کابینہ سے اس حوالے سے منظوری لی جاسکے۔نگران صوبائی وزیر شاہد خٹک کے مطابق سول بیورو کریسی کے بعض افسران بی آر ٹی پشاور پراجیکٹ کی انکوائری کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے کوششوں میں مصروف ہیں۔
نگران کابینہ کی دستاویزات کے مطابق اپریل میں نگران صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے بی آر ٹی پراجیکٹ کی انکوائری کرنے کا کیس پیش کیا تھا اور صوبائی کابینہ کے سامنے اس حوالے سے 2 آپشنز رکھے گئے تھے۔آپشن ون میں کہا گیا تھا کہ صوبائی محکمہ قانون خیبر پختونخوا کو ہدایت کی جائے کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر التوا پٹیشن واپس لے جب کہ دوسرے آپشن میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ سول پٹیشن کو واپس نہ لیا جائے اور نیب کو بی آر ٹی انکوائری کے حوالے سے ہر قسم کی تعاون فراہم کیا جائے اور جب سپریم کورٹ میں مذکورہ کیس سماعت کے لیے فکسڈ ہو جائے تو سپریم کورٹ کو اس حوالے سے تمام صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔
نگران کابینہ کے مذکورہ اجلاس میں کابینہ نے دونوں آپشنز پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ جب تک مذکورہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس وقت تک ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی جائے کہ وہ بی آر ٹی انکوائری مکمل کرنے میں نیب سے بھرپور تعاون کرے۔
پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ کے دستاویزات کے مطابق سال2017 میں پی ٹی آئی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور دیگر مالیاتی اداروں سے پراجیکٹ کے لیے قرضے لینے کے معاہدے کیے مذکورہ معاہدوں کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)نے بی آر ٹی پراجیکٹ کے لیے 335 ملین ڈالرز اور اے ایف ڈی نے 150 ملین ڈالرز کے قرضے صوبائی حکومت کو فراہم کرنے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق صوبائی حکومت کے دور میں ہی قومی احتساب بیورو (نیب)نے مختلف شکایات پر بی آر ٹی پشاور کی انکوائری شروع کی تاہم بعدازاں صوبائی حکومت نے مذکورہ انکوائری روکنے کے لیے عدالت میں کیس جمع کرکے اسٹے لے لیا اور مذکورہ اسٹے تاحال برقرار ہے۔وفاق اور صوبے میں حکومتوں کی تبدیلی کے بعد ایک طرف قومی اسمبلی کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بی آر ٹی انکوائری نہ کرنے کا نوٹس لیا جب کہ دوسری جانب چیئرمین نیب کی تبدیلی کے بعد نیب خیبر پختونخوا نے ایک بار پھر بی آر ٹی سے وابستہ رہنے والے سرکاری افسران کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
