14 ہزار 460 ارب روپے کا بجٹ پیش، نئے ٹیکسز سے گریز

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 2023-24 کے لیے 14 ہزار 460 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا، گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد جبکہ 16 گریڈ سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کر دیا گیا، کم سے کم تنخواہ 32 ہزار مقرر کی گئی ہے۔
اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے بجٹ پیش کرنا شروع کیا، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کرنے پر خدا کا شکر گزار ہوں، مالی سال 24-2023 کے بجٹ کے اعداد و شمار پیش کرنے سے پہلے 2017 میں نواز شریف کی حکومت اور 2022 میں پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کے بجٹ کا تقابلی جائزہ پیش کروں گا۔
بجٹ کے اہم نکات
- اگلے مالی سال کے لیے جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد
- معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم
- کان کنی کے لیے درکار مشینری، رائس مل کی مشینری اور مشین کے آلات کے لیے خام مال/ان پٹ پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ کا فیصلہ
- انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور اس سے متعلقہ سروسز کے برآمد کنندگان کے لیے آئی ٹی آلات کی ڈیوٹی سے مستثنیٰ درآمد کی اجازت دے کر ان کی برآمدی آمدنی کے ایک فیصد کی قیمت کے برابر کرنے کا فیصلہ
- سابقہ فاٹا کے علاقوں سے درآمد کی گئی مشینری اور آلات پر چھوٹ میں جون 2024 تک توسیع کی تجویز
- معاشرے کے غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ) کپڑوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ
- انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے اس سے منسلک آلات سے ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز
- فلیٹ پینلز، مانیٹرز اور پروجیکٹرز کے پارٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ
- کمرشل امپورٹرز درآمد کنندگان کے لیے اشیا کی درآمد پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں 0.5 فیصد اضافہ
- ہیوی کمرشل وہیکلز کے نان لوکلائزڈ (سی کے ڈی) پر کسٹم ڈیوٹی کو 10 فیصد سے کم کر کے فیصد کرنے کی تجویز
انہوں نے کہا کہ مالی سال 17-2016 میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ چکی تھی، مہنگائی 4 فیصد تھی، غذائی اشیا کی مہنگائی صرف 2 فیصد تھی، پالیسی ریٹ ساڑھے 5 فیصد، اسٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا میں نمبر ون اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن تھی اور پاکستان 2020 تک جی-20 ممالک میں شامل ہونے والا تھا، پاکستانی کرنسی مستحکم اور زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کے ریکارڈ سطح پر تھے، بجلی کے نئے منصوبوں سے 12-16 گھنٹوں کی لوڈشیدنگ سے نجات مل چکی تھی، انفرااسٹرکچر سسٹم، روزگار کے مواقع اور آسان قرضوں جیسے عوام دوست منصوبوں کی تکمیل کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاچکا تھا، ملک میں مان و امان اور سیاسی استحکام تھا، ان حالات میں آناً فاناً سازشوں کے جال بچھا دیے گئے، اگست 2018 میں ایک سلیکٹڈ حکومت وجود میں آئی، اس سلیکٹڈ حکومت کی ناکام معاشی کارکردگی کے سبب پاکستان 24ویں بڑی معیشت کے درجے سے گر کر 47 ویں نمبر پر آگیا۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان تاریخ کے مشکل ترین مراحل سے گزر رہا ہے، خراب معاشی صورتحال کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت ہے، اس لیے مالی سال 22-2021 تک کی معاشی صورتحال کا ایک جائزہ ایوان کے سامنے رکھوں گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی غلط معاشی حکمت عملی کے باعث کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17.5 ڈالر تک پہنچ گیا اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گررہے تھے، آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل پاکستان کے لیے اہم تھی لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اس صورتحال کو جان بوجھ کر خراب کیا۔
اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی دی، ایسے اقدامات اٹھائے جو آئی ایم ایف شرائط کی صریحاً خلاف ورزی تھی، سابقہ حکومت کے وزیرخزانہ نے 2 صوبائی وزارئے خزانہ کو فون کرکے آئی ایم ایف پروگرام سبوتاژ کروانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جس سے نہ صرف مالی خسارے میں اضافہ کیا بلکہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی حکمت عملی کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت مالی خسارے میں خطرناک حد تک اضافہ تھا، مالی سال 22-2021 کا خسارہ جی ڈی پی کے 7.89 فیصد کے برابر جبکہ پرائمری خسارہ جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جون 2018 میں پاکستان کا قرضہ تقریباً 250 کھرب تھا، پی ٹی آئی کی معاشی بےانتظامی کے سبب یہ قرض مالی سال 22-2021 میں 490 کھرب تک پہنچ گیا، 4 سالہ دور میں اتنا قرض لیا گیا جو 1947 سے 2018 تک لیے جانے والے قرض کا 96 فیصد تھا، اسی طرح پبلک ڈیٹ اور لائبلیٹیز اسی عرصے میں 100 فیصد سے بڑھ کر 30 ٹریلین سے 60 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جون 2018 میں ایکسٹرنل ڈیٹ اور لائبلیٹیز 95 ارب ڈالر تھیں جوکہ جون 2022 تک 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔
وفاقی حکومت کے اگلے مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 491 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انرجی کے شعبے کے لیے 86 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونکیشن کے شعبے کے لیے 263 ارب روپے رکھا گیا ہے۔صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 23 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم بشمول اعلی تعلیم کے شعبے میں 82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں پانی کے شعبے کے لیے سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی حکومت نے بجٹ 2023-24 میں ملک میں سورج کی روشنی سے بجلی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے سولر پینل کی اندرون ملک تیاری کے لیے آلات کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی ہے۔حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے فنانس بل کے مطابق سولر پینل، انونٹرز اور بیٹریوں کی پیداوار کے لیے مشینری، آلات اور دوسرے خام مال کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔حکومت کی جانب سے نان فائلرز کے لیے کیش نکالنے پر ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ود ہولڈنگ ٹیکس کو اعشاریہ چھ فیصد دوبارہ لاگو کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے غریب افراد کو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی فراہمی کے لیے اس کی درآمد کو ریگولیٹری ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں ملکی معاشی ترقی کا ہدف ساڑھے تین فیصد اور مہنگائی کی شرح اکیس فیصد تک رہنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اگلے مالی سال کی بجٹ دستاویز کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی کی شرح ساڑھے آٹھ فیصد سے زائد کا ہدف رکھا گیا ہے۔اگلے مالی سال میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ چھ ارب ڈالر رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے موجودہ اخراجات کی مد میں 65 ارب اور ڈیویلپمنٹ اخراجات کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔تعلیم کی شعبے میں مالی معاونت کے لیے پاکستان انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لائے جانے کی تجویز ہے، جس کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈ میرٹ کی بنیاد پر ہائی سکول اور کالج کے طلبا و طالبات کو وظائف فراہم کرے گا۔لیپ ٹاپ سکیم کے تحت حکومت آئندہ مالی کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی میرٹ کی بنیاد پر طلبا کو دیے جانے کی تجویز ہے۔ اس سکیم کے لیے 10 ارب کی رقم مختص کی گئی ہے۔وویمن امپاورمنٹ کے لیے پانچ ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کے لیے انکم ٹیکس کی رعایتی شرح جو اعشاریہ پچیس فیصد ہے اسے تیس جون 2026 تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے چوبیس ہزار ڈالر تک سالانہ برآمدات پر فری لانسرز کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 9200 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔حکومت کی جانب سے اس ریونیو کو اکٹھا کرنے کے لیے سیلز ٹیکس کی مد میں 3538 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا۔انکم ٹیکس کی مد میں 3713 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف ہے۔کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1178 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے 868 ارب روپے اکٹھا کرنےکا ہدف رکھا ہے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے 14460 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جب کہ ریونیو کا ہدف 9200 ارب روپے رکھا گیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے اگلے مالی سال کی بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں ملک کے ذمے واجب الادہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7303 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔وفاقی حکومت کے نئے مالی سال کی بجٹ دستاویز کےمطابق اگلے مالی سال میں دفاع کے لیے 1804 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ دستاویز کےمطابق گرانٹس کی مد میں 1464 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے بجٹ میں سبسڈی دینے کے لیے 1074 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔سول ایڈمنسٹریشن کے اخراجات کے لیے حکومت کی جانب سے 714 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت نے نئے مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 950 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کیجانب سے نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اعلان کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال میں ایک سے سولہ گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔گریڈ سترہ سے اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تیس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں پنشن میں 5۔17 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے تین نئی سلیب متعارف کروانے کی تجویز دی ہے۔وفاقی حکومت کیجانب سے قومی اسمبلی میں متعارف کروائے گئے فنانس بل کےمطابق فی الوقت اس وقت پندرہ کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے افراد پر یکساں طور پر سپر ٹیکس لگتا ہے تاہم اب حکومت کی جانب سے اس میں مزید تین سلیب متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔تجویز کردہ تین نئے سلیب کے مطابق پینتیس کروڑ سے چالیس کروڑ کمانے والے افراد پر چھ فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔چالیس کروڑ سے پچاس کروڑ کمانے والے افراد پر سپر ٹیکس کی شرح آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ پچاس کروڑ سے زائد آمدن والے افراد پر دس فیصد کے حساب سے سپر ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے اگلے مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 491 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انرجی کے شعبے کے لیے 86 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونکیشن کے شعبے کے لیے 263 ارب روپے رکھا گیا ہے۔صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 23 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم بشمول اعلی تعلیم کے شعبے میں 82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں پانی کے شعبے کے لیے سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے فنانس بل کے مطابق سولر پینل، انونٹرز اور بیٹریوں کی پیداوار کے لیے مشینری، آلات اور دوسرے خام مال کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔حکومت کی جانب سے نان فائلرز کے لیے کیش نکالنے پر ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ود ہولڈنگ ٹیکس کو اعشاریہ چھ فیصد دوبارہ لاگو کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے موجودہ اخراجات کی مد میں 65 ارب اور ڈیویلپمنٹ اخراجات کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔تعلیم کی شعبے میں مالی معاونت کے لیے پاکستان انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لائے جانے کی تجویز ہے، جس کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈ میرٹ کی بنیاد پر ہائی سکول اور کالج کے طلبا و طالبات کو وظائف فراہم کرے گا۔لیپ ٹاپ سکیم کے تحت حکومت آئندہ مالی کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی میرٹ کی بنیاد پر طلبا کو دیے جانے کی تجویز ہے۔ اس سکیم کے لیے 10 ارب کی رقم مختص کی گئی ہے۔
بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر کی مد میں بھیجی جانے والی رقوم کی مدد سے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر موجودہ دو فیصد ’فائنل ٹیکس‘ کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ترسیلات زر کارڈز کی کیٹیگری میں ایک نئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے جو کہ سالانہ 50 ہزار ڈالرز سے زائد ترسیلات بھیجنے والوں کو جاری کیا جائے گا۔اس کیٹیگری کے لیے مندرجہ ذیل مراعات دی جائیں گی: ایک غیرممنوعہ بور لائسنس، پاسپورٹ کی سہولت، پاکستانی سفارتخانوں میں ترجیحی بنیادوں پر رسائی، پاکستانی ایئرپورٹس پر فاسٹ ٹریک ایمگریشن کی سہولت۔ریمیٹینس کارڈ ہولڈرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے بڑے انعامات دینے کے لیے
پی ٹی آئی کا پنجاب میں کرپشن ریکٹ بے نقاب
سکیم کا اجرا کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
