پی ٹی آئی کا پنجاب میں کرپشن ریکٹ بے نقاب

اینٹی کرپشن پنجاب نے پی ٹی آئی کی کرپشن کا گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا۔دی فرائیڈے ٹائمز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق متعدد اعلیٰ شخصیات پہلے ہی اینٹی کرپشن ریڈار پر ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر فرح گوگی کو 450 ملین روپے غیر قانونی ٹرانسفر اور پوسٹنگ، کِک بیکس، کمیشن کے ساتھ ساتھ ماہانہ بھتہ وصولی کے مقاصد کے لیے منتقل کیے ہیں تاکہ وہ اہم عہدوں کو برقرار رکھ سکیں جو انہوں نے ‘خریدے’ تھے۔ تاہم اب پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار، فرحت شہزادی عرف فرح گوگی،بشریٰ بی بی کے بیٹےابراہیم مانیکا اور تحریک انصاف پی ٹی آئیحکومت میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہونے والے اہم بیوروکریٹس کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
اینٹی کرپشن نے اپنی ایف آئی آر میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، فرحت شہزادی عرف فرح گوگی، وزیراعلیٰ کے سابق پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید، سابق ڈپٹی کمشنر لاہور صالحہ سعید، سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایل ڈی اے عثمان معظم، سہیل خواجہ اور بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم خاور مانیکا کو نامزد کیا ہے۔ ایف آئی آر میں فرح گوگی کے پرسنل سیکرٹری محمد آصف بھی نامزد ہیں۔
باخبر ذرائع نے تصدیق کی کہ فرح گوگی کے کیشیئر احمد منصور نواز نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ اس نے فرح گوگی کے سلک بینک اکاؤنٹ لبرٹی برانچ لاہور میں 450 ملین روپے کی نقد رقم جمع کروائی تھی جو اعلیٰ بیوروکریٹس سےوصول کیے گئے تھے جن میں طاہر خورشیدجنہیں ان کے ابتدائی نام "ٹی کے” سے جانا جاتا ہے، صالحہ سعید، عثمان معظم، احمد عزیز تارڑ، سہیل خواجہ اور دیگر شامل ہیں۔
نواز پہلے ہی اپنے 99 بلاک ڈی ایچ اے رہائش گاہ پر ان بیوروکریٹس سے براہ راست نقد رقم وصول کرنے اور اس کے بعد فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ فرح گوگی کے اکاؤنٹس مینیجر احمد منصور نے بھی جاری تفتیش میں خود کو ریاستی گواہ کے طور پر پیش کیا ہے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی کے حوالے سے تحقیقات سے منسلک ایک تفتیشی افسر نےبھی تصدیق کی کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا غیر قانونی ٹرانسفر پوسٹنگ میں سہولت کاری ، کک بیکس کے ساتھ ساتھ ماہانہ بھتہ کی رقم میں “اپنا حصہ لینے” کے لیے باقاعدگی سے فرح گوگی کے گھر جایا کرتے تھے۔
کیس سے واقف ایک سینئر اہلکار نےبتایا، “جب ہم نے ان ادائیگیوں کی تاریخوں کو چیک کیا جو نقد رقم کی شکل میں فرحت شہزادی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھیں، تو وہ تاریخیں اس عہدے پر ان اہلکاروں کی پوسٹنگ کے وقت سے مطابقت رکھتی تھیں۔احمد منصور نواز نے اپنے بیان میں اعتراف کہا ہے کہ یہ اہلکار مجھے اہلکاروں کی ٹرانسفر پوسٹنگ، عہدے پر برقرار رہنے کے لیے ماہانہ بھتہ کی رقم اور دیگر سرگرمیوں کے لیے نقد رقم دیتے تھے اور میں اسے میڈم فرح گوگی کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کرتا تھا۔احمد منصور نواز اورفرح گوگی کے پرسنل سیکرٹری محمد آصف نے تصدیق کی کہ انہوں نے ابراہیم مانیکا کو نقد رقم دی تھی، جو فرح گوگی کے لاہور ڈیفنس کے گھر باقاعدگی سے جاتے تھے۔
اینٹی کرپشن کے ذرائع نے تصدیق کی کہ نامزد افراد اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث تھے۔ اب تک تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گوگی نے ان بیوروکریٹس سے رشوت کی شکل میں 450 ملین روپے وصول کیے۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ’’ان ملزم بیوروکریٹس اور دیگر افراد کی گرفتاری کے بعد بدعنوانی کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔‘‘سینئر اہلکار نے کہا کہ کیشئر کے اعترافی بیان کی روشنی میں، اینٹی کرپشن چھاپے مارے گا اور دیگر مشتبہ افراد اور عینی شاہدین کو گرفتار کرے گا۔
ایک سینئر بیوروکریٹ نے جاری پوچھ گچھ کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی کے دور میں پنجاب میں منافع بخش عہدوں پر فائز رہنے والے یہ تمام بیوروکریٹس دراصل فرح گوگی کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ پنجاب کی بیوروکریسی میں مؤثر طریقے سے فرح گوگی کی پراکسی کے طور پر کام کرتےتھے۔بیوروکریٹ نے کہا کہ ’’اکاؤنٹ کا اعترافی بیان تو صرف اس برفانی تودے کا سرا ہے اور ان اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد مزید نام سامنے آنے کا امکان ہے‘‘۔
تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے اکٹھے کیے گئے شواہد سے واقف ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ ایک بار جب ان بیوروکریٹس کو حراست میں لے لیا جائے گا تو اس بات کا قوی امکان تھا کہ ’’بڑے نام‘‘ اس مافیا کا حصہ تھے وہ بھی بے نقاب ہونگے، جنہوں نے 2018 سے 2022 تک پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران غیر قانونی طور پر تبادلے، تعیناتیاں اور کک بیکس سےاربوں روپے کمائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بار جب یہ سینئر بیوروکریٹس بطور ملزم یا گواہ تفتیش کا حصہ بن گئے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ہائی پروفائل بیوروکریٹس فرح گوگی کو بھاری رقوم کی ادائیگی کے لیے بے نقاب ہوں گے۔
اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ جیسے ہی طاہر خورشید، صالحہ سعید اور دیگر افراد جو عثمان بزدار اور فرح گوگی کے بہت قریب تھے کی گرفتاری عمل میں آتی ہے یا انہیں تفتیش کا حصہ بنایا جاتا ہے تو اس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کی تحقیقات میں بہت مدد ملے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر خورشید نے فرح گوگی اور عثمان بزدار کے ساتھ اس وقت بہت قریب سے کام کیا تھا جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور جب خورشید کو گرفتار کر لیا جائےگا تو فرح گوگی، عثمان بزدار، بشریٰ بی بی اور احسن گجر کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہو جائے گا کہ وہ پنجاب میں کیسے کام کرتے تھے، اور سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو پریشان کرنے والے غیر معمولی اثر و
پاکستان میں گدھوں کی تعداد کیوں بڑھنے لگی؟
رسوخ کی بدولت انہوں نے کتنا پیسہ کمایا تھا۔
