سٹیٹ بینک کی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز پر پابندیاں

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز استعمال کرنے والے صارفین پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ بیرون ممالک سے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرنے والے صارفین کیلئے نئی شرائط متعارف کرواتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب صارفین عالمی مارکیٹ سے مقررہ حد سے زائد رقم کی خریداری نہیں کر سکیں گے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ صارفین کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کا استعمال ان کی ضرورت اور پروفائل کے مطابق ہو، آٹھ نومبر کو جاری کردہ سرکلر کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مشاہدہ ہے کہ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز ایسے لین دین کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جو متعلقہ فرد کے پروفائل کے مطابق نہیں یا یہ کارڈز تجارتی مقصد کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے بینکوں کو یقینی بنانے کا مشورہ دیا کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کیلئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کا استعمال کارڈ ہولڈرز کی انفرادی خصوصیات کے مطابق اور ان کی صرف ذاتی ضروریات کے لیے ہو۔

سٹیٹ بینک کے سرکلر میں بتایا گیا کہ ورچوئل کارڈز سمیت کریڈٹ کارڈز کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ کارڈ سے سرحد پار لین دین پر فی فرد 30 ہزار ڈالر کی سالانہ حد مقرر کی جائے، اس مقصد کیلئے موجودہ سال کی حد اس سرکلر کے جاری ہونے کی تاریخ سے شمار کی جائے گی، یہ حد پوری بینکنگ انڈسٹری کے ہر فرد پر لاگو ہوگی۔

فلمی دنیا کے نامور پلے بیک سنگر اے نیرکی کہانی

سٹیٹ بینک کے مطابق ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کا مقصد صارفین کو ذاتی نوعیت کے لین دین کی ادائیگی میں سہولت دینا ہے، لہذا ان کارڈز کا استعمال اور ان کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی طرح کی ادائیگیوں کی حد کارڈ ہولڈر کے انفرادی پروفائل کے مطابق ہونی چاہئے۔ یہ یقینی بنانا صارف کی ذمہ داری ہو گی کہ اس کی سالانہ خرچے کی حد کسی بھی موقع پر عبور نہ ہونے پائے۔ تاہم سٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کو چاہئے کہ مجموعی بنیاد پر ہر فرد کی نگرانی کریں۔ سرکلر کے مطابق قانونی دائرے میں کاروبار سے متعلق بیرونِ ملک کارڈز کے استعمال پر فارن ایکسچینج مینوئل میں ایک فریم ورک دستیاب ہے جس کے تحت ڈیجیٹل خدمات کے حصول کے خواہاں افراد فریم ورک میں درج متعلقہ مالی حدود میں رہتے ہوئے سہولت استعمال کرنے کیلئے کسی بینک کا تعین کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ فرموں اور کمپنیوں کی جانب سے خدمات کے حصول کی غرض سے فارن ایکسچینج مینوئل میں ہدایات دی گئی ہیں۔

فارن ایکسچینج مینوئل کے مطابق بینک یا ڈیلر پاکستان میں قائم کمپنی کو تجارت کیلئے سالانہ چار لاکھ ڈالرز تک کے مساوی بیرون ملک ادائیگی کی اجازت دیں گے تاہم وہ کمپنی بیرون ملک کسی غیر رجسٹرڈ کمپنی کو صرف 40 لاکھ روپے تک کی ادائیگی کر سکے گی۔

Related Articles

Back to top button