فلمی دنیا کے نامور پلے بیک سنگر اے نیرکی کہانی

اپنی خوبصورت آواز سے کئی دہائیوں تک سننے والوں کے کانوں میں رس گھولنے والے معروف پاکستانی گلوکار اے نیر 17 ستمبر 1950ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام آرتھر نیر تھا اور وہ ایک کرسچین خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھیں بچپن سے ہی گلوکاری کا شوق تھا اور وہ پلے بیک سنگر بننا چاہتے تھے، لیکن اس زمانے میں گھر والوں کی مخالفت کی وجہ سے انھیں اپنا یہ خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا تھا۔

وہ گھر والوں سے چھپ کر ریڈیو پر مختلف گلوکاروں کو سنا کرتے اور ان کی طرح گانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا یہی شوق اور لگن انھیں پاکستان کی فلم انڈسٹری تک لے گئی اور پھر مخالفت کا زور بھی ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد اے نیر نے کئی گیتوں کو اپنی آواز دے کر لازوال بنایا اور خوب شہرت حاصل کی۔1974ء میں انھوں نے پلے بیک سنگر کے طور پر ایک فلم بہشت سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔

ان کی آواز میں پہلا سپر ہٹ گانا فلم خریدار کا تھا جس کے بول تھے، پیار تو ایک دن ہونا تھا، ہونا تھا ہوگیا۔اے نیر بتاتے تھے کہ ان کا کیریئر بنانے میں مشہور گلوکار احمد رشدی کا کردار بہت اہم رہا اور انھوں نے رشدی ہی سے یہ فن سیکھا۔ اے نیر انھیں اپنے استاد کا درجہ دیتے تھے۔

1980ء کی دہائی میں اے نیر کی شہرت عروج پر تھی۔ اس دوران انھوں نے 5 بار بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔ ان کے گائے ہوئے جو گیت مشہور ہوئے ان میں ‘جنگل میں منگل تیرے ہی دَم سے، ‘بینا تیرا نام، ‘ یاد رکھنے کو کچھ نہ رہا، ‘ایک بات کہوں دلدارا اور درد و سوز سے بھرپور شاعری ‘ میں تو جلا ایسا جیون بھر، کیا کوئی دیپ جلا ہو گا’ شامل ہیں۔اے نیر نے لاہور میں ایک میوزک اکیڈمی بھی کھولی تھی جہاں وہ نوجوان گلوکاروں کو گانا سکھایا کرتے تھے۔

اداکارہ متھیرا کا بڑا بیٹا ان کا بوائے فرینڈ کیوں کہلایا؟

ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی ہر عمر کے شائقینِ موسیقی میں پسند کیے جاتے ہیں۔ ان گیتوں کے خوب صورت بول، موسیقی اور اے نیر کی مدھر آواز نے 80 کی دہائی میں سبھی کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔ اے نیر اس زمانے میں مقبول ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے اور شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔

وہ ایک کام یاب پلے بیک سنگر کی حیثیت سے عرصے تک انڈسٹری میں مصروف رہے۔ ان کے گائے ہوئے تمام گیتوں کو لازوال شہرت ملی۔ اے نیر کو ملک میں اور سرحد پار بھی اپنی گائیکی کی وجہ سے بے حد مقبولیت ملی۔ ان کا بچپن پنجاب کے شہر عارف والا میں گزرا اور بعد میں ان کا خاندان لاہور منتقل ہو گیا۔

یہیں گریجوایشن کیا اور اپنے شوق و لگن کی وجہ سے گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ کہتے ہیں وہ شروع ہی سے فلموں کے رسیا تھے۔ گائیکی کا شوق اسی زمانے میں پروان چڑھا اور وہ پاکستان کے نام ور گلوکاروں کے درمیان جگہ بنانے میں کام یاب ہو گئے۔

تاہم 12 نومبر 2016 کو یہ خوب صورت گلوکار ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلا گیا۔ وہ عارضۂ قلب میں مبتلا تھے اور انہوں نے 66 سال کی عمر میں زندگی کا سفر تمام کیا۔ 2018 میں حکومت کی جانب سے انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

Related Articles

Back to top button