نئے بجٹ میں ویلتھ ٹیکس لگانے کی تجویز

تجزیہ کار شہباز رانا نے کہاہے کہ بجٹ سے متعلق چیزیں اب فائنل تیاری کی طرف چلی گئی ہیں،سب سے بڑی چیز جوسامنے آئی ہے وہ ویلتھ ٹیکس ہے یہ پہلے بھی تھا جسے پرویزمشرف کے دورمیں ختم کردیا تھا۔
حکومت یہ ٹیکس انکم سپورٹ لیوی کے طورپرلگانا چاہتی ہے، یہ پہلے 2013میں بھی اسحاق ڈار نے لگائی تھی لیکن کورٹس نے ا س لیوی کو ا پ ہولڈ نہیں کیا تھا اور یہ سٹرائیک ڈائون ہوگئی تھی، پرپوزل یہ ہے اس وقت کہ جتنے بھی اثاثے ہیں کسی کے چاہے وہ زرعی زمین ہے یا دیگر جائیدادیں اس پر0.25سے 2فیصد تک ٹیکس لگانے کی تجویزہے۔
یہ تمام اثاثوں پرنہیں بلکہ اس میں ایک حد مقررکی جائے گی جس سے زائد اثاثوں پریہ ٹیکس لگے گا،یہ وہ ریونیو ہوگا جسے صوبوں کے ساتھ شیئرنہیں
بجٹ؛ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 6 جون کو طلب
کیاجائے گا۔
