کیپٹن صفدر اور احسن بھون تنازعہ: نواز شریف خاموش کیوں؟

نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور سپریم کورٹ بار کے مرکزی رہنما احسن بھون کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور دونوں کے ایک دوسرے کے خلاف لفظی حملے تیز تر ہو گے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے دونوں فریق اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں لیکن نواز شریف اس معاملے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں حالانکہ ان کی ایک فون کال سے یہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔
کیپٹن صفدر مسلسل احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے جعلی قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب احسن بھون نے کیپٹن صفدر کے خلاف جھوٹا الزام عائد کرنے پر پانچ ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔
یاد ریے کہ کیپٹن صفدر نے بار کا الیکشن لڑنے والے وکلا کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کئی اہم وکلا کی ڈگریاں چیک کرنے کا مطالبہ کیا تھا جن میں احسن بھون بھی شامل تھے۔ صفدر نے بعد میں جوڈیشل کمیشن سے بھی رجوع کیا اور احسن بھون کی تعلیمی اسناد اور پیشہ ورانہ ریکارڈ کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ کیپٹن صفدر کی شکایت میں اصل ڈگری، ٹرانسکرپٹس اور رزلٹ کارڈز کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ یونیورسٹی سے بھی احسن بھون کی ایل ایل بی کی ڈگری کی تصدیق کی درخواست کی۔ ادھر احسن بھون کا دعوی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی ان کی ایل ایل بی اور بی اے کی ڈگریوں کی تصدیق کر چکی ہے۔
دوسری جانب احسن بھون نے کیپٹن صفدر کو پانچ ارب روپے کا ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔ نوٹس میں الزامات واپس لینے اور غیر مشروط معافی مانگنے کا بھی کہا گیا۔ احسن بھون کے مطابق ان کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ لیکن ہرجانے کے نوٹس کے باوجود کیپٹن صفدر اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور بھون کو بار بار مناظرے کا چیلنج دے رہے ہیں۔
کیپٹن صفدر کا کہنا ہے کہ ڈگری کے معاملے پر کھلے عام بات ہونی چاہیے۔ یوں پانچ ارب روپے کے قانونی نوٹس کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ ادھر پاکستان بار کونسل نے احسن بھون کی ڈگری بارے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ کونسل کے مطابق اس کے منتخب ارکان کی ڈگریاں متعلقہ جامعات سے تصدیق شدہ ہیں اور احسن بھون کی ڈگری بھی اسی طریقہ کار کے تحت چیک کی جا چکی ہے۔
یہ تنازع اب ن لیگ کے لیے بھی سیاسی اور تنظیمی سوال بن گیا ہے۔ کیپٹن صفدر اور احسن بھون دونوں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ اس وقت احسن بھون گروپ کے کئی اہم رہنما سپریم کورٹ بار کے الیکش میں حصہ لے رہے ہیں۔ نون لیگ کے بعض وکلا صفدر کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ مخالف گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہیں شریف خاندان کی حمایت حاصل نہیں۔
ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیپٹن صفدر کی یہ مہم ان کا ذاتی فیصلہ ہے یا انہیں پارٹی کے کسی حلقے کی حمایت حاصل ہے خصوصا جب ان کے سسر نواز شریف اس معاملے پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک ہی جماعت سے وابستہ دو اہم شخصیات کے درمیان جاری اس تنازع کو ختم کرانے کے لیے نواز شریف کب اور کیسے مداخلت کرتے ہیں، کیونکہ اس کشمکش کا سیاسی نقصان بالآخر مسلم لیگ (ن) ہی کے اندرونی اختلاف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
