کیا PTI کو لانگ مارچ سے بھاگنے کے لیے فیس سیونگ ملے گی؟

 

 

 

 

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے لانگ مارچ کی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اسے اسلام آباد لے جانے کے بجائے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں طول دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس حکمت عملی کا مقصد بظاہر حکومت کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کرنا اور پارٹی کے لیے ’’فیس سیونگ‘‘ حاصل کرنا ہے۔

 

4 اکتوبر کو لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والا لانگ مارچ پشاور پہنچ چکا ہے، تاہم اب اس کی اگلی منزل اسلام آباد کے بجائے چارسدہ، مردان اور صوابی مقرر کی گئی ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اسلام آباد پہنچنے کے سوال پر واضح جواب نہ دینا بھی اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ فوری طور پر وفاقی دارالحکومت کی طرف بڑھنا اب پی ٹی آئی کی ترجیح نہیں رہی۔

 

اندر کی خبر رکھنے والے پارٹی حلقوں کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت اس وقت ایک مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف حکومت نے اسلام آباد کو مارچ سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین سیکیورٹی حصار قائم کر رکھا ہے اور دوسری جانب قافلے میں وہ بڑی تعداد موجود نہیں جس کے ساتھ پی ٹی آئی دارالحکومت میں داخل ہو کر حکومت کے سامنے فیصلہ کن سیاسی چیلنج کھڑا کرسکے۔

 

ایسے میں اسلام آباد کی طرف فوری پیش قدمی تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ مارچ ختم کرنے کا اعلان بھی پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہوگا۔ چنانچہ لانگ مارچ کو طول دے کر حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے اور کسی ممکنہ حکومتی پیش رفت کا انتظار کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ تو موجودہ حالات میں اسلام آباد پہنچ کر کوئی فیصلہ کن معرکہ لڑنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی لانگ مارچ کو اچانک ختم کرکے اسے ناکامی تسلیم کرنے کے مترادف بنانا چاہتی ہے۔

 

اسی لیے خیبر پختونخوا میں مارچ کو مزید کئی روز تک جاری رکھنے کا راستہ نکالا گیا ہے تاکہ احتجاج بھی برقرار رہے، سیاسی دباؤ بھی قائم رہے اور حکومت کے ساتھ کسی ممکنہ مفاہمت کے لیے وقت بھی ملتا رہے۔ پشاور کے بعد 9 اکتوبر کو چارسدہ، 10 اکتوبر کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی میں قیام کا اعلان اسی حکمت عملی کی کڑیاں قرار دیا جا رہا ہے۔

 

اس پس منظر میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کے مسلسل مذاکرات پر زور دینے کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ وہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کافی کوششوں کے بعد مذاکرات کی میز پر آئے تھے لہٰذا بات چیت کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات میں وقت کی پابندی یا سخت شرائط عائد کرنے کے بجائے اس وقت تک مذاکرات جاری رہنے چاہییں جب تک کسی قابل قبول حل تک نہ پہنچا جائے۔

 

سیاسی حلقوں کے مطابق ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف سڑک پر احتجاج کے دباؤ کو مذاکرات کی میز پر سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں، جبکہ گوہر خان کی جانب سے تصادم سے گریز اور مذاکرات کی بحالی پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، اس کے بعد بات چیت آگے بڑھائی جاسکتی ہے۔ یوں دونوں جانب سے مذاکرات کی خواہش موجود ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے گا۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ احتجاج ختم کرنے سے پہلے اسے کچھ سیاسی یقین دہانی حاصل ہو، جبکہ حکومت احتجاج ختم کیے بغیر مذاکرات کو آگے بڑھانے پر آمادہ نہیں۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی اسی نکتے پر آکر رک گئے تھے۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ پہلے عمران خان سے جیل میں ملاقات کرائی جائے تاکہ ان سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ کو مؤخر یا ختم کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکے، جبکہ حکومت اس شرط کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات، عمران خان تک ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی رسائی، ان کی صحت سے متعلق وضاحت اور گرفتار افراد کی رہائی بھی تحریک انصاف کے مطالبات میں شامل ہیں۔

 

دوسری جانب حکومت نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے داخلے کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں جبکہ مارچ کے ممکنہ راستوں پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی مارچ کے باعث سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ پشاور سمیت مختلف تعلیمی بورڈز نے 7 سے 10 اکتوبر تک ہونے والے میٹرک کے ضمنی امتحانات بھی مؤخر کیے ہیں۔

 

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے مارچ کے اگلے مرحلے میں بھی کارکنوں کے ساتھ رہنے اور مختلف اضلاع میں قافلے کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مستقبل کے فیصلے بند کمروں کے بجائے عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہییں اور صوبے میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ کھولنے والی کوئی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔ تاہم اسلام آباد مارچ کے بارے میں ان کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی واضح حتمی ٹائم لائن سامنے نہیں آئی، جس سے یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ آخر لانگ مارچ کی منزل اسلام آباد ہے بھی یا اسے ایک طویل سیاسی دباؤ کی مہم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

 

یوں تحریک انصاف کا لانگ مارچ بظاہر اسلام آباد کی طرف بڑھنے کے بجائے ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ محدود شرکا، اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی حصار اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کو لانگ مارچ کے خاتمے سے مشروط کیے جانے کے باعث پی ٹی آئی کے لیے فوری طور پر وفاقی دارالحکومت پہنچنا مشکل جبکہ مارچ ختم کرنا سیاسی طور پر مہنگا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ایسے میں مارچ کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں گھماتے رہنا حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے اور اسے کسی سمجھوتے پر آمادہ کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔ اگر حکومت کسی مرحلے پر مذاکرات کے ذریعے کوئی راستہ نکال لیتی ہے تو پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کو پسپائی کے بجائے حکومتی پیش رفت اور مذاکراتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔ یوں جس مارچ کی منزل اسلام آباد بتائی گئی تھی، اس کا لمبا ہوتے جانا ممکنہ طور پر کسی طویل محاصرے کے بجائے حکومت سے سیاسی فیس سیونگ حاصل کرنے کی حکمت عملی بن چکا ہے۔

Back to top button