بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں کریں گے : جنید اکبر

 

 

 

 

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے واضح کیا ہے کہ نہ وہ بندوق کے زور پر مذاکرات کریں گے اور نہ ہی کسی کے دباؤ میں آئیں گے، زبردستی کوئی انہیں مذاکرات کےلیے مجبور نہیں کرسکتا۔ دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور صوبے کی سیاسی قیادت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی جنید اکبر کا کہنا تھا کہ جب مولانا فضل الرحمان عمرے پر تھے تو پی ٹی آئی قیادت سے ان کا رابطہ ہوا تھا۔ مولانا کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھادی جائے۔

انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے مسئلے کو بھی متنازع بنادیا گیا ہے،تاہم اس معاملے پر مذاکرات کےلیے ان کے دروازے کھلے ہیں۔ سابق فاٹا کے عوام بھی ان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جنید اکبر نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہےتو صوبے کی دیگر سیاسی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جائے۔مولانا فضل الرحمان،سراج الحق، ایمل ولی خان،آفتاب شیرپاؤ اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کی جائے،وہ جو فیصلہ کریں گے،صوبائی حکومت اسے نافذ کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ اگر انہیں غلط ثابت کردیا گیا تو وہ معافی مانگنے اور دوسری قیادت کے ساتھ کھڑےہونے کےلیے بھی تیار ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ صوبے میں ترقی ہو اور نوجوان اس عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ انہیں دشمن اور دہشت گردوں کے ساتھ سمجھنا نامناسب ہے۔دہشت گردوں کےخلاف کارروائیاں انٹیلیجنس کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔صوبے میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے،لیکن تبادلوں اور تعیناتیوں کے فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔

جنید اکبر نے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دھمکیوں پر ردعمل دیتےہوئے کہاکہ وہ کہتے ہیں ایمرجنسی لگاکر بھی دیکھ لیں۔ایمرجنسی لگانےوالے اس طرح بڑھکیں نہیں مارتے۔

پشاور میں کارکنوں کو اغوا کیا گیا، پورے ملک فسطائیت کا راج ہے: سلمان اکرم راجہ

انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو تین ہفتوں سے ایمرجنسی کے نفاذ کی باتیں سن رہےہیں، لیکن وہ اسے سنجیدہ نہیں لیتے،یہ پی ٹی آئی کو ڈرانے کی کوشش ہے،حالانکہ حقیقت میں مخالفین خود خوف زدہ ہیں۔

جنید اکبر نےکہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنے ووٹ کا تحفظ کرسکتی ہےتو اپنی حکومت کا دفاع بھی کرسکتی ہے۔وہ اپنی حکمت عملی سے مطمئن ہیں اور ان کے خیال میں پارٹی اس میں کامیاب ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اگر پی ٹی آئی نے تھکنا ہوتا تو چار سال میں تھک چکی ہوتی،لیکن کارکن ہمت ہارنےکو تیار نہیں۔وہ اپنی مرضی اور منصوبہ بندی کےمطابق آگے بڑھیں گے،انہیں معلوم ہےکہ کب، کہاں اور کس راستے سے آنا ہے۔

 

Back to top button