کیا پاکستانی لڑاکا جہاز یمن کے حوثیوں کو ٹھوک رہے ہیں؟

نیویارک ٹائمز کی جانب سے یمن کے حوثیوں کے خلاف پاکستانی لڑاکا طیاروں کے استعمال کی خبر نے شدید کنفیوژن پیدا کر دی ہے، وجہ یہ ہے کہ پاکستانی وزارت اطلاعات نے تو اس خبر کو جعلی اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، تاہم نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ اسے یہ خبر پاکستان میں انتہائی ذمہ دار فوجی عہدے دار سے ملی ہے۔ چنانچہ اس وقت یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ سچ کون بول رہا ہے اور غلط بیانی کون کر رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں پاکستانی افواج اور فضائی اثاثوں کی موجودگی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ایئر فورس کے جنگی طیارے یمن کے حوثیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق مذکورہ پاکستانی فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی، رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فضائیہ کا کردار حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون خطرات سے نمٹنے میں سعودی عرب کی معاونت کا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں امریکی فوج کے سابق اتاشی اور امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق اعلیٰ تجزیہ کار کرنل ڈیوڈ او سمتھ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ انہیں خفیہ اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں، تاہم تجزیہ کاروں میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ تقریباً 8 ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں، جن میں مختلف فوجی اور دفاعی صلاحیتوں سے وابستہ اہلکار شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے نیویارک ٹائمز کی اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے ’جعلی اور من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔ وزارت اطلاعات نے ایکس پر جاری اپنے فیکٹ چیک بیان میں کہا کہ حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کے استعمال سے متعلق دعویٰ بے بنیاد ہے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کے ممکنہ استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ اگر پاکستانی مسلح افواج کو کسی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس حوالے سے تفصیلات متعلقہ حکام خود فراہم کریں گے۔
یوں حکومت نے نہ صرف نیویارک ٹائمز کی مخصوص خبر کی تردید کی بلکہ یہ تاثر بھی دیا کہ پاکستانی افواج کے آپریشنل کردار کے بارے میں حتمی معلومات سرکاری ذرائع کے اعلان کے بغیر قیاس آرائیوں کی بنیاد پر سامنے نہیں آنی چاہئیں۔
تاہم اس معاملے نے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی اور دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی محض قیاس آرائی نہیں بلکہ پاکستان خود اس کی تصدیق کر چکا ہے۔ 6 اکتوبر کو ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں مملکت کو فوری طور پر مشترکہ فوجی دستے اور ضروری فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اسکے ایک روز بعد پاکستانی فوج نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی افواج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور کئی دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس بیان نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کے بارے میں پائی جانے والی قیاس آرائیوں کا ایک اہم حصہ ختم کر دیا، تاہم ان افواج کے حوثیوں کے خلاف عملی کردار کی وضاحت نہیں کی گئی۔
سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا : ڈی جی آئی ایس پی آر
یہاں ایک اور اہم پہلو پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کی سعودی عرب میں موجودگی کا ہے۔ پہلے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے فائٹر اور معاون طیارے سعودی عرب میں موجود ہیں، تاہم ان کی موجودگی کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ انہیں یمن کے اندر حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں نیویارک ٹائمز کے دعوے اور پاکستانی حکومت کی تردید کے درمیان اصل تضاد پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ موجودہ صورت حال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف پاکستانی لڑاکا طیاروں کے استعمال کی خبر حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔ ایک طرف ایک معروف امریکی اخبار ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے لا رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی وزارت اطلاعات اسی خبر کو جعلی اور من گھڑت قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں حتمی طور پر یہ فیصلہ کرنے کے لیے مزید قابل اعتماد شواہد یا پاکستانی حکام کی جانب سے واضح آپریشنل تفصیلات کا انتظار کرنا ہوگا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع تک محدود ہے یا اس نے حوثیوں کے خلاف جاری جنگ میں براہ راست فضائی کردار بھی اختیار کر لیا ہے۔
