تحریک انصاف کا لانگ مارچ جلیبی مارچ کیوں قرار پایا؟

تحریک انصاف کی جانب سے جاری لانگ مارچ کو سیاسی حلقے اب ’’جلیبی مارچ‘‘ قرار دے رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی کا قافلہ اسلام آباد پہنچنے کے بجائے گول گول خیبر پختون خوا کے اندر ہی گھومتا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ 4 اکتوبر کو شروع ہونے والے اس لانگ مارچ کی اگلی منزل اسلام آباد قرار دی گئی تھی، تاہم چند ہی روز بعد مارچ کا رخ دارالحکومت کے بجائے صوبے کے مختلف اضلاع کی طرف ہوگیا۔
اب 9 اکتوبر کو چارسدہ، 10 اکتوبر کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا شیڈول جاری کیا گیا ہے، جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یہ صورتحال اس سوال کو مزید نمایاں کر رہی ہے کہ اگر مارچ کا اصل مقصد اسلام آباد پہنچنا ہے تو پھر قافلہ براہ راست وفاقی دارالحکومت کی طرف بڑھنے کے بجائے خیبر پختونخوا کے اندر ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور پھر تیسرے ضلع کی طرف کیوں جا رہا ہے۔ ناقدین اسی وجہ سے اسے طنزیہ طور پر ’’جلیبی مارچ‘‘ کا نام دے رہے ہیں، کیونکہ پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا لانگ مارچ دکھائی دے رہا ہے جو اپنی منزل کی جانب سیدھی سمت میں بڑھنے کے بجائے دائرے میں سفر کرتا محسوس ہو رہا ہے۔ مارچ کے موجودہ شیڈول نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ قافلہ فی الحال اسلام آباد کے بجائے خیبر پختون خوا میں ہی گردش کر رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہر ضلع میں لانگ مارچ کی قیادت کریں گے اور قافلہ خیبر سے پشاور کی طرف پہنچے گا۔ اس اعلان کے بعد بھی بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں قیام اور اجتماعات کے بعد اسلام آباد کی طرف عملی پیش رفت کب شروع ہوگی۔ یوں مارچ کی سمت، رفتار اور مسلسل تبدیل ہونے والے پروگرام نے اس کی سیاسی حکمت عملی پر بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس مارچ کا ایک اور نمایاں پہلو اس کی قیادت ہے۔ بظاہر یہ تحریک عمران خان کی رہائی کے لیے پوری جماعت کی ملک گیر سیاسی جدوجہد ہے، لیکن عملی طور پر کنٹینر پر سب سے نمایاں چہرہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ہے۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے متعدد اہم رہنما کنٹینر سے دور ہیں، جبکہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت بعض رہنما حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی شریک رہے ہیں۔
عمران خان سے ملاقات اور دیگر سیاسی مطالبات پر تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آنے کے باعث پارٹی کی حکمت عملی بیک وقت احتجاج اور مذاکرات، دونوں راستوں پر چلتی دکھائی دے رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی تنظیمی قوت بھی اس مارچ کے حوالے سے سوالات کا موضوع بن رہی ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کے منتخب ارکان اسمبلی، وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکریٹریز کی بڑی تعداد موجود ہے، تاہم سہیل آفریدی کے ساتھ کنٹینر پر ان کی اجتماعی موجودگی اس تناسب سے دکھائی نہیں دے رہی جو ایک فیصلہ کن لانگ مارچ کے لیے متوقع ہو سکتی ہے۔ اگر تمام منتخب نمائندے اپنے اپنے حلقوں سے کارکنوں کو بڑی تعداد میں متحرک کرتے تو مارچ کی سیاسی اور عوامی شکل مختلف نظر آ سکتی تھی، تاہم فی الحال عملی قیادت کا بڑا بوجھ وزیراعلیٰ اور محدود ساتھیوں پر دکھائی دے رہا ہے۔
پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کی کئی وجوہات بھی بیان کی جا رہی ہیں۔ بعض پارٹی رہنما گرفتاریوں اور مقدمات کی وجہ سے محدود ہیں، کچھ قانونی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ بعض مذاکراتی عمل کو سیاسی طور پر اہم سمجھتے ہوئے اس میں مصروف ہیں۔ اس لیے ہر غیر حاضر رہنما کے بارے میں یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ وہ دانستہ طور پر مارچ سے دور ہے، تاہم مجموعی صورتحال یہ سوال ضرور اٹھا رہی ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی پوری قیادت اس وقت ایک ہی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے یا پارٹی کے مختلف حلقے موجودہ بحران کو اپنے اپنے سیاسی زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کے لیے بھی یہ مارچ ایک اہم سیاسی مرحلہ ہے۔ وہ ایسے وقت میں احتجاج کی عملی قیادت کر رہے ہیں جب وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور مذاکرات کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ مارچ کی پیش رفت اور اس کے سیاسی اثرات بڑی حد تک ان کی قیادت سے جوڑے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا مرکزی قیادت نے انہیں مکمل سیاسی اختیار اور عملی تعاون فراہم کیا ہے یا احتجاج کا بڑا بوجھ خیبر پختونخوا کی حکومت اور صوبائی تنظیم کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی اس مارچ کے ساتھ ایسی مسلسل اور مربوط سرگرمی نظر نہیں آ رہی جو اسے بیک وقت ملک گیر احتجاج میں تبدیل کر سکے۔ بعض مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں ضرور سامنے آئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کے مارچ کے ساتھ دیگر صوبوں میں کوئی ایسی ہمہ گیر تحریک دکھائی نہیں دے رہی جو اس کے اثرات کو قومی سطح پر یکساں انداز میں پھیلا دے۔ سابق صدر عارف علوی کی موجودہ مارچ میں نمایاں عملی موجودگی بھی نظر نہیں آ رہی، جبکہ سندھ میں پی ٹی آئی کے بعض اہم رہنماؤں کی سرگرمیاں بھی اس سطح پر دکھائی نہیں دے رہیں جس کی ایک ملک گیر لانگ مارچ میں توقع کی جا سکتی ہے۔
اسی دوران اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کی سرگرمیاں بھی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں مذاکرات اور آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ یوں ایک طرف خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا مارچ جاری ہے اور دوسری طرف اپوزیشن کی سطح پر مذاکرات اور مشترکہ سیاسی حکمت عملی کے امکانات پر غور ہو رہا ہے۔
کیا PTI کو لانگ مارچ سے بھاگنے کے لیے فیس سیونگ ملے گی؟
اس صورتحال میں ’’جلیبی مارچ‘‘ کی اصطلاح کا بنیادی حوالہ صرف مارچ کے راستے سے نہیں بلکہ اس کی رفتار اور سیاسی سمت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ شروع ہونے والا یہ قافلہ فی الحال اسلام آباد کی جانب بڑھنے کے بجائے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں گھوم رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چارسدہ، مردان اور صوابی کے مراحل کے بعد قافلہ واقعی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کرتا ہے یا مارچ کا دائرہ مزید وسیع ہوجاتا ہے۔ فی الحال یہی صورتحال ’’جلیبی مارچ‘‘ کی سیاسی تعبیر کو جنم دے رہی ہے اور آنے والے دن ہی واضح کریں گے کہ یہ جلیبی آخرکار اسلام آباد پہنچتی ہے یا خیبر پختونخوا ہی میں اپنا چکر مکمل کرتی رہتی ہے۔
