کرکٹر رضوان مذہب کارڈ کی آڑ میں کیوں چھپ رہے ہیں؟

سابق پاکستانی کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں اصل سوالات آن لائن بیٹنگ، جوئے، ڈریسنگ روم معلومات افشا کرنے اور موبائل فون سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل ڈیٹا سے متعلق ہیں، مگر رضوان کی جانب سے ان الزامات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے مذہب کارڈ کھیلتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیں محض اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ پانچ وقت کے نمازی ہیں اور تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں۔
یاد ریے کہ NCCIA نے دورہ انگلینڈ کے دوران رضوان کا موبائل فون تحویل میں لیکر تحقیقات کا دائرہ آن لائن بیٹنگ اور جوئے تک پھیلا دیا تھا، جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے تحقیقات کو بادی النظر میں غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے رضوان کو تفتیش میں شامل ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
اس معاملے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ رضوان کے خلاف کارروائی کسی کرکٹ سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک سرکاری تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ NCCIA نے ان سے صرف کرکٹ سے متعلق سوالات نہیں کیے بلکہ انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، گزشتہ برسوں کی آمدن، اخراجات، بینک اکاؤنٹس، جائیداد، قرضوں، سفری ریکارڈ اور دیگر مالی معلومات بھی طلب کی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ محض کسی ایک میچ یا کسی ایک کرکٹنگ فیصلے تک محدود نہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رضوان نے اس تحقیقات کو عدالت میں چیلنج کیا، مگر لاہور ہائیکورٹ نے ابتدائی مرحلے پر تحقیقات ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض طلبی کا نوٹس کسی جرم کا حتمی الزام نہیں ہوتا، تاہم اس مرحلے پر تحقیقاتی ادارے کو اپنا کام کرنے دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے رضوان کو تحقیقات میں شامل ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت بھی کی، جبکہ NCCIA کو ہراساں یا غیر ضروری طور پر تنگ کرنے سے روکا۔
یوں قانونی طور پر صورت حال یہ ہے کہ رضوان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور انہیں قومی کرکٹ ٹیم سے وقتی طور پر ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں رضوان کی طرف سے یہ تاثر دینا کہ ان کے خلاف ہونے والی کارروائی کی اصل وجہ ان کا پانچ وقت کا نمازی ہونا ہے، معاملے کو اپنی مرضی کا رخ دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک ذرائع کے مطابق رضوان جس واقعے کو اس حوالے سے اچھال رہے ہیں وہ بیرون ملک دورے کے دوران ٹیم کے نظم و ضبط سے متعلق ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے حالیہ دورے میں رضوان نے ہوٹل سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ایک مسجد میں جانے اور تبلیغی لیکچر دینے کی اجازت مانگی تھی، اس حوالے سے انہیں ایک دعوت نامہ بھی موصول ہوا تھا۔ تاہم وہاں موجود سیکیورٹی حکام نے مروجہ ایس او پی کے مطابق انہیں ہوٹل سے اتنی دور جانے کی اجازت نہیں دی۔
پی سی بی ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل ٹوور پر جانے والا کوئی بھی کرکٹر محض ایک انفرادی شہری نہیں ہوتا بلکہ قومی ٹیم کا حصہ ہوتا ہے اور اسکے سفر، نقل و حرکت، ملاقاتوں اور سرگرمیوں پر ٹیم مینجمنٹ، سیکیورٹی اور اینٹی کرپشن پروٹوکول لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی کھلاڑی کو ہوٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس فیصلے کو لازماً مذہبی امتیاز قرار دینا دھوکہ دہی ہے، خاص طور پر تب جب کھلاڑی پہلے ہی زیرِ تفتیش ہو اور اس سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہوں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ محمد رضوان کو حالیہ تحقیقات میں اکیلے نہیں بلایا گیا۔ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق پاکستانی کپتان انضمام الحق کے بھانجے امام الحق بھی NCCIA کے سامنے پیش ہوئے۔ امام الحق کو اس لیے بلایا گیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے دورے کے دوران ڈریسنگ روم سے معلومات کے افشا ہونے اور کھلاڑیوں کے نظم و ضبط سے متعلق اندرونی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ رضوان اور امام دونوں کو ڈومیسٹک پریذیڈنٹ ٹرافی کے میچوں سے بھی روکا گیا تھا۔ اس لیے رضوان کی جانب سے یہ تاثر دینا کیوں انہیں مذہبی ہونے کی وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے سراسر غلط ہے، خصوصا جب کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی خود بھی پانچ وقت کے نمازی ہیں۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر رضوان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں تو انہیں ان کا جواب دینے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ عدالت نے انہیں واضح طور پر تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف دینے کا راستہ دکھایا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ سے اپنی درخواست مسترد ہونے کے بعد رضوان 3 اکتوبر کو NCCIA کے سامنے ساڑھے تین گھنٹے سے زائد وقت کے لیے پیش ہوئے، جہاں ان کے موبائل فون کی فرانزک تحقیقات کے سلسلے میں کارروائی ہوئی۔ اس دوران انہوں نے 10 صفحات پر مشتمل اپنا تحریری جواب بھی این سی سی ائی کے حوالے کیا جس میں دوبارہ مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ میں مذہب اور ٹیم ڈسپلن کا تنازع نیا نہیں۔ ماضی میں انضمام الحق کے دور میں بھی تبلیغی جماعت سے وابستہ کھلاڑیوں کے اثر و رسوخ، ٹیم کے اندر مذہبی ماحول اور دیگر کھلاڑیوں پر مبینہ دباؤ کے حوالے سے شدید بحث ہوئی تھی۔ تاہم ان تاریخی واقعات کو بنیاد بنا کر آج کے کسی کھلاڑی پر الزام عائد کرنا بھی درست نہیں؛ اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ مذہبی وابستگی ہر فرد کا حق ہے، لیکن قومی ٹیم کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد ہر کھلاڑی کو ٹیم ڈسپلن، سیکیورٹی اور اینٹی کرپشن قواعد کی پابندی بھی کرنا ہوتی ہے۔ ماضی میں انضمام کے دور میں بھی مذہب اور ٹیم نظم و ضبط کے باہمی تعلق پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔
چنانچہ محمد رضوان کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ تبلیغی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ NCCIA کو ان کے موبائل فون، مالی معاملات اور آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں جو سوالات درپیش ہیں ان کے جوابات کیا ہیں، اور کیا ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہے؟ اگر تحقیقات کے اختتام پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا تو رضوان مکمل طور پر بری الذمہ قرار پائیں گے، لیکن اگر کوئی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو اسے مذہبی شناخت کے پردے میں چھپانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر تحقیقات میں کچھ ثابت نہیں ہوتا تو کرکٹ بورڈ کو بھی واضح طور پر یہ بتانا ہوگا کہ کارروائی کی بنیاد کیا تھی۔
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان خود پاکستانی کرکٹ کی ساکھ کو ہو رہا ہے کیونکہ ایک طرف آن لائن بیٹنگ اور جوئے جیسے سنگین الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، دوسری طرف ڈریسنگ روم کی معلومات کے افشا یونے اور کھلاڑیوں کے نظم و ضبط بارے سوالات موجود ہیں، جبکہ عوامی بحث مذہبی وابستگی کے گرد گھوم رہی ہے۔ رضوان کے لیے سب سے مضبوط دفاع یہی ہوگا کہ وہ تبلیغی جماعت سے اپنی وابستگی کو ڈھال بنانے کے بجائے تحقیقاتی ادارے کے سوالات کے واضح، دستاویزی اور قانونی جواب دیں۔ کیونکہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو حقائق انہیں خود بے نقاب کر دیں گے، اور اگر تحقیقات میں کوئی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو محض مذہبی شناخت کا حوالہ اسے ختم نہیں کر سکے گا۔
