چکن کی قیمت بیف کے برابر 800 روپے فی کلو ہونے کا خدشہ

ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان اور پولٹری فیڈ کے بحران نے چکن کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد اس کی قیمت بیف کی قیمت کے برابر پہنچ جائے گی۔ دارالحکومت اسلام آباد میں مرغی کے فی کلو گوشت کی قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی ہے جس کے بعد تاجروں اور پولٹری فارمرز نے خبردار کیا یے کہ مرغی کے سستے گوشت کی دستیابی قصہ پارینہ بن سکتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگر فیڈ کا بحران جاری رہا اور حکومت نے بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے سویا بین فیڈ کے کنٹینرز کو ریلیز نہ کیا تو چکن کا ریٹ بھی بڑھ کر بیف کے گوشت جتنا ہو جائے گا۔ انکا کہنا یے کہ مرغی کے گوشت کی قیمت 800 روپے فی کلو سے بھی زیادہ یعنی ریڈ میٹ کے برابر پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور آل پاکستان سالوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ان کے دو صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں تب تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا جب اکتوبر 2022 میں کسٹم حکام نے سویا بین سیڈ کی ترسیل بند کر دی جو کہ زیادہ تر امریکا اور برازیل سے آتا ہے اور برائلر مرغی کی فیڈ میں استعمال ہوتا ہے، حکومت کا موقف ہے کہ دنیا بھر میں سویا بین سیڈ کے استعمال پر پابندی لگائی جا چکی ہے چونکہ یہ مضر صحت ہے۔ اس وقت 10 شپمنٹ بندرگاہ پر پھنسی ہوئی ہیں اور صورت حال میں بہتری نہیں آ سکی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مضر صحت ہونے کے باوجود سویابین کا استعمال پولٹری فیڈ کا اہم اور کلیدی جزو ہے، دوسری جانب وفاقی وزیر خوراک طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ عوام برائلر چکن کھانا بند کر دیں چونکہ سویا بین فیڈ کھا کر تیار ہونے والا چکن کینسر کا باعث بنتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں خود بھی برائلر چکن کا گوشت نہیں کھاتا۔ دوسری جانب پولٹری کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ سویا بین فیڈ سستی ملتی ہے جبکہ مچھلی سے بنی ہوئی فیڈ کی قیمت تین گنا ذیادہ ہے اور اگر ہمیں اس فیڈ کے استعمال پر مجبور کیا گیا تو پھر چکن کی قیمت دوگنا ہو جانے کا خدشہ ہے، انکا کہنا یے کہ 50 کلو سویا بین فیڈ کی قیمت بھی صرف 3 ماہ کے دوران 2000 روپے اضافے کے بعد اب 7000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب پولٹری صنعت سے وابستہ افراد نے چکن کی بڑھتی قیمتوں کے سبب انڈوں سے چوزے نکالنے والے پلانٹس اور فیڈ ملز کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، پنجاب پولٹری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر میاں طارق جاوید نے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی اعلیٰ قیادت پر غیر قانونی درآمدات کے ذریعے پیسے بنانے کا الزام عائد کیا یے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ جینیاتی طور پر موڈیفائیڈ سویا بین کی درآمد سے متعلق ہے، قانون کے تحت اس درآمد کی اجازت نہیں تھی لیکن اسے بغیر کسی نوٹس کے درآمد کیا گیا، دلچسپ امر یہ ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کی گئی دو مختلف انکوائریوں میں ایک دن کے برائلر چوزوں کے ساتھ پولٹری فیڈ ملز میں پرائس فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے جس کے نتیجے میں چکن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس دوران کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئی سویابین کی شپمنٹس سے متعلق معاملہ بھی پیچیدہ ہو گیا ہے جبکہ درآمد کنندگان اور وزارت فوڈ سیکیورٹی کے حکام کے مؤقف میں اختلاف ہے۔ دونوں وزارتوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے بیشتر ممالک کی طرح سویا بین کے بیجوں کے استعمال کے خلاف ہونے والے معاہدے کا دستخط کنندہ ہے۔ تاہم آل پاکستان سالوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے سیڈز درآمد کرنے کی حمایت کی ہے، اس کا مؤقف ہے کہ امریکا، برازیل، ارجنٹینا اور دیگر برآمد کنندگان سویا بین فیڈ تیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا یے کہ یورپی یونین بھی پولٹری اور مویشیوں کی خوراک کے لیے امریکا سے سویا بین درآمد کر رہی ہے، اور ہمیں بھی اس سلسلے میں کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔
دوسری جانب سویا بین درآمد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ روکے گئے بحری جہازوں کے لیے یومیہ 4 لاکھ ڈالرز جرمانہ ادا کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مرغی کے گوشت کی قیمت میں سویا بین کی عدم دستیابی کی وجہ سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
