چکن مسلسل مہنگا ہونے کا سویابین سے کیا تعلق ہے؟

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان ہر گزرتے دن کے ساتھ برائلر مرغی کی قیمتوں میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ فیڈ کا بحران ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پولٹری فیڈ کے ایک بنیادی جزو سویا بین کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دے کر اس کی امپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے لہذا اب ڈرائی پورٹس پر لاکھوں ٹن سویابین آیا پڑا ہے لیکن حکومت امپورٹرز کو اجازت نہیں دے رہی کہ اسے اٹھایا جائے۔ وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جنہوں نے سویابین کو مضر صحت تسلیم کرتے ہوئے اس کی امپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے عوام کو سویا بین کی ’مضرِ صحت‘ فیڈ پر پلنے والی مرغی نہ کھانے کی تجویز دیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ مستقبل میں پاکستان صرف ایسے آئل سیڈ یا تیل والے بیج درآمد کرے گا جو مضر صحت نہیں ہوں گے۔

معاشی بحران اور مہنگائی کے اس دور میں دیگر اشیا خورد و نوش کی طرح پاکستان میں مرغی کی قیمت پہلے ہی کافی بڑھ چکی تھی مگر گذشتہ دو ہفتوں کے دوران فی کلو مرغی کے نرخ میں سے دو سو سے تین سو روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس وقت ملک کے مختلف شہروں میں چکن 550 روپے فی کلو سے لیکر 800 روپے تک بک رہا ہے اور ابھی اس کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر پولٹری فیڈ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو چکن کی قیمت بیف کے ریٹ پر چلی جائے گی۔ ایسے میں یہ سوال بھی گونج رہا ہے کہ آخر چکن کے ریٹ کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے، وہ کیا عوامل ہیں جو قیمت میں کمی یا بے تحاشہ اضافے کا باعث بنتے ہیں اور کیا چکن کی قیمت کے تعین میں حکومت کا بھی کچھ لینا دینا ہے؟

پاکستان میں پولٹری کی صنعت سے وابستہ تاجر اس بحران کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں جو پہلے ہی آٹا سمیت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کی تنقید کی زد میں ہے۔ ان الزامات اور عوام کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر گذشتہ ہفتے 5 جنوری کو وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو یہ تجویز دی تھی کہ مرغی سے دور رہیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ وہ خود بھی مرغی نہیں کھاتے، نہ ہی گوشت کھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام مرغی کھانا چھوڑ دیں کیونکہ مرغی کی فیڈ مضر صحت ہے۔ پولٹری کے شعبے سے جڑے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا بحران مرغی کا نہیں بلکہ اس کی فیڈ کا ہے جس کی وجہ سے منڈی میں مرغی کی رسد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے جبکہ طلب بڑھ گئی ہے۔پولٹری فارمرز کے مطابق کراچی کی بندرگاہ پر سویابین اور کینولا سے لدے 12 بحری جہاز ڈھائی ماہ سے کھڑے ہیں اور حکومت ان کی ریلیز کی اجازت نہیں دے رہی جس سے مرغی کی یہ فیڈ فیکٹریوں تک نہیں پہنچ رہی۔ خیال رہے کہ ملکی ذخائر میں بڑی گراوٹ کے پیش نظر بڑی تعداد میں درآمدات رُکی ہوئی ہیں۔

اسلام آباد سے سابق رکن قومی اسمبلی اور پولٹری فارمر میاں اسلم کے مطابق تکنیکی نوعیت کے الزامات لگا کر ان جہازوں کو بندرگاہ پر روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ناعاقبت اندیشی اور بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اعتراض کی وجہ سے اس وقت کراچی کی بندرگاہ میں لنگرانداز 12 جہازوں میں سے پانچ سویابین جبکہ سات کینولا کی فیڈ سے لدے ہوئے ہیں جو وہاں روک دیے گئے ہیں۔ دو مزید جہاز امریکہ سے ایک ماہ سے زائد وقت پہلے یعنی چھ دسمبر کو روانہ ہوئے تھے جو چار یا پانچ دنوں تک کراچی پہنچ جائیں گے۔ ان کے مطابق امریکہ سے کراچی تک ایک جہاز 38 سے 40 دن لگاتا ہے۔ اب یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں بینک انھیں ادائیگی کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ میاں اسلم کے مطابق پاکستان گذشتہ ڈھائی سے تین ماہ کے عرصے میں ان لنگرانداز جہازوں کو گھنٹوں کے حساب سے جرمانے ادا کر رہا ہے مگر مسئلے کا مکمل حل تلاش نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے ایک گھنٹے کا جرمانہ ایک ہزار ڈالر دینا پڑ رہا ہے۔ میاں اسلم کا کہنا ہے کہ پولٹری کی صنعت سے وابستہ ان کے ساتھی یہ مسئلہ وزیراعظم تک لے کر گئے اور پھر وفاقی کابینہ نے اس فیڈ کی مقامی مارکیٹ تک ترسیل کی منظوری بھی دی مگر پھر بھی پولٹری فارمز تک فیڈ کی ترسیل ممکن نہیں بنائی جا سکی ہے،ان کے مطابق مرغی کو سٹاک نہیں کیا جا سکتا اور فیڈ کی کمی کی وجہ سے رسد کم ہو گئی ہے جس سے قیمتیں بڑھی ہیں۔

پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر محمد اشرف نے کہا کہ ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ، ایف بی آر اور پھر وفاقی حکومت نے یہ اعتراض اٹھایا کہ مرغی کے لیے درآمد کی جانے والی فیڈ مضر صحت ہے۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ سنہ 2015 سے پہلے جی ایم او سویابین پولٹری فیڈ میں شامل نہیں تھی۔ ’پولٹری مافیا نے چکر چلا کر مقامی سویا بین پر ٹیکسز لگوا دیے ہیں جس سے امپورٹڈ سویابین سستی اور مقامی سویابین مہنگی ہو گئی۔‘ ان کے مطابق ’رولز میں سویا بین خریدنے کی اجازت نہیں ہے‘ اور پاکستان نے اس سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے پر بھی دستخط کر رکھے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق جب سے انھوں نے سٹینڈ لیا ہے تو پولٹری کے صنعت کاروں نے مقامی فیڈ خریدنا شروع کر دی۔

میاں اسلم کے مطابق اگر حکومت بہتر تحقیق کرے تو پاکستان خود بھی یہ فیڈ تیار کر سکتا ہے مگر اس مقصد کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ان کے مطابق وہ جس کمپنی سے فیڈ لے رہے تھے اب وہ فیڈ تیار نہیں کر پا رہی جس کی وجہ سے انھیں فیڈ کے لیے ایک اور کمپنی سے معاہدہ کرنا پڑا ہے۔ ’مقامی سطح پر دستیاب فیڈ سے مرغی کی جلد پرورش نہیں ہوتی اور اس سے پھر سپلائی کا بحران پیدا ہو رہا ہے اور پولٹری فارمز بند ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق پاکستان ’جی ایم او‘ والی فیڈ سنہ 2015 سے نہیں بلکہ جدید تحقیق کے نتائج سے متفق ہو کر 1986 سے درآمد کر رہا ہے۔

پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر محمد اشرف کے مطابق فیڈ کا ریٹ حکومت، پولٹری فیڈ اور پولٹری فارمنگ والے بیٹھ کر طے کرتے ہیں۔ ’حکومت اجازت دیتی ہے تو ریٹ بڑھ جاتے ہیں ورنہ نہیں۔‘ ان کے مطابق حکومت نے فیڈ کا فی پیک نو ہزار روپے ریٹ مقرر کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’مرغی یا انڈے کا ریٹ درحقیقت طلب اور رسد پر ہوتا ہے۔‘ ان کے مطابق آج اگر 380 کی مرغی مارکیٹ میں فروخت ہوئی ہے تو فارم والا کوشش کرتا ہے کہ فارم سے 380 کی بِک جائے۔ ان کے مطابق ہر جگہ اور ہر شہر کے نرخوں میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے کیونکہ مرغی کے نرخ میں ہر پندرہ بیس کلومیٹر کے بعد ایک روپے کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اشرف کے مطابق مرغی کی پرورش تو دور دراز علاقوں میں ہوتی ہے جبکہ پنجاب میں اس کی اصل مارکیٹ شہروں میں ہے جیسے پنجاب میں لاہور، فیصل آباد یا ملتان شامل ہیں، جہاں سفری اخراجات کے بعد مرغی کے ریٹ کا تعین کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مرغی کے نرخ طے کرنے میں حکومت کا براہ راست کوئی تعلق نہیں بنتا مگر پھر بھی ’حکومت (ٹریڈ ڈائریکٹوریٹ) ہمیں غیرضروری قیمت بڑھانے سے روکتی ہے، دکانوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔‘ ان سمیت کئی ماہرین کی رائے ہے کہ دیگر اشیائے خورد و نوش کی طرح مرغی کی قیمت کا تعین طلب اور رسد کے اعتبار سے ہوتا ہے ناکہ حکومتی اعداد و شمار اور تخمینے کی بنیاد پر۔

میاں اسلم بھی اس رائے سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق مرغی کو اچھی فیڈ ملے تو پھر اس کی جلد پرورش ممکن ہوتی ہے اور اس سے مارکیٹ میں اس کی رسد بڑھ جاتی ہے، یوں قیمت خود بخود کنٹرول میں آ جاتی ہے۔ اشرف اور میاں اسلم کی رائے میں فیڈ پر اعتراض اٹھا کر ملک میں چکن کا بحران پیدا کیا جا رہا ہے جبکہ پوری دنیا میں سویابین بنتی ہے اور اسے امریکہ سمیت دیگر ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

جنیوا کانفرنس میں 9 ارب ڈالر کی رقم ملنا غیبی امداد سے کم نہیں

Back to top button