عمران کن 10 لوگوں کو پھانسی پر لٹکانا چاہتے تھے؟

2018 میں برسر اقتدار آنے سے کچھ عرصہ پہلے عمران خان نے ایسے 10 لوگوں کی لسٹ بنوائی تھی جنہیں وہ وزیراعظم بننے کے فوری بعد پھانسی پر لٹکانا چاہتے تھے۔ لیکن جب وہ وزیراعظم بن گئے تو اس لسٹ میں پہلا نام انکے سب سے قریبی ترین دوست کا تھا جس نے ان کی حکومت بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ انکشاف عمران کے سابقہ قریبی ساتھی علیم خان نے جاوید چوہدری کیساتھ گفتگو میں کیا ہے۔

علیم خان کے ساتھ اپنی گفتگو کی تفصیل بیان کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ عثمان بزدار کو جانتے تھے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’نہیں ہم بالکل نہیں جانتے تھے‘ وہ جہانگیر ترین کے ذریعے پارٹی میں آئے تھے‘ وہ بھی انھیں ذرا ذرا پہچانتے تھے ‘میں سرے سے ان سے واقف نہیں تھا‘ میں نیب کی پیشی کے بعد بنی گالا گیا تو عمران نے میری اور جہانگیر ترین کی اس سے ملاقات کرائی۔ عثمان بزدار بشریٰ بی بی‘ فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کا پراجیکٹ تھا اور اس کے لیے عمران کو باقاعدہ ٹریپ کیا گیا تھا‘ مجھے بزدار کے ساتھ پنجاب کا سینئر وزیر لگا دیا گیا اور پھر پنجاب میں حماقتوں کا سیلاب آ گیا‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ’’مثلا‘‘ کون سی حماقتیں؟ علیم خان بولے کہ ’’بزدار صاحب نالائق بھی تھے اور کرپٹ بھی‘ یہ ایم پی اے بننے کے بعد پرویز الٰہی کے سیکریٹری محمد خان بھٹی کے پاس کمرہ لینے کے لیے گئے تھے تو اس نے انھیں صاف انکار کر دیا لیکن موصوف دو ہفتے بعد پنجاب کے سی ایم بن گئے۔بزدار شروع میں ہر چیز کو حیرت سے دیکھتا تھا‘ سرکاری میٹنگز میں بھی ہر بات اس کے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھی‘ ہماری بجٹ کی میٹنگ تھی‘ سیکریٹری خزانہ نے دو گھنٹے پریذنٹیشن دی۔عثمان بزدار حیرت سے کبھی سلائیڈز کو دیکھتا تھا اور کبھی سیکریٹری خزانہ کو۔ میٹنگ کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا‘ خان صاحب اب کیا کریں؟ میں نے کہا ‘آپ اب ان کا شکریہ ادا کریں اور اٹھ جائیں‘ اس نے شکریہ ادا کیا اور اٹھ کر چلاگیا۔

ابتدائی دنوں میں نیس پاک(NESPAK) کی ٹیم پریذنٹیشن کے لیے آئی‘ وزیراعلیٰ نے پریذنٹیشن کے دوران انھیں روک کر پانی کی بوتل کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا آپ لوگوں کا چھتوں‘ دیواروں اور پلوں کے ساتھ کیا تعلق ہے‘ آپ تو پانی کی بوتلیں بیچتے تھے‘ NESPAK کی پوری ٹیم حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگی‘ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ وزیراعلیٰ نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا‘ اچھا اچھا پھر نیسلے بلڈنگز بھی بناتی ہو گی‘ یعنی ہمارے وزیراعلیٰ کو نیسلے اور نیسپاک کا فرق معلوم نہیں تھا‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے کہا ’’یہ بزدار کی سادگی بھی تو ہو سکتی تھی‘‘ علیم خان ہنس کر بولے ’’ہاں اگر یہ شخص کرپٹ نہ ہوتا تو! اس نے پورے پنجاب کو لوٹ سیل پر لگا دیا تھا۔ڈی سی اور ڈی پی او لگنے کاریٹ تین کروڑ روپے تھا‘ چار کروڑ روپے میں کمشنر اور آر پی او کی سیٹ بکتی تھی اور ان افسروں کو باقاعدہ بتایا جاتا تھا کہ تمہارے پاس اتنے مہینے ہیں‘ تم نے ان میں اپنے پیسے پورے کرنے ہیں‘ لاہور کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر تک پیسے دے کر لگتے تھے‘ گوجرانوالہ کے ڈی سی نے تو یہ بات کھلے عام کہہ دی تھی۔ سی ایم کے دو پرنسپل آفیسر اور دو اسٹاف آفیسر وصولیاں کرتے تھے‘ عثمان بزدار کا پرنسپل سیکریٹری طاہر خورشید عرف ٹی کے ان کا سرغنہ تھا‘‘۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ’’یہ پیسے کہاں کہاں جاتے تھے؟‘‘ علیم ہنس کر بولے ’’یہ ساری کولیکشن فرح گوگی تک جاتی تھی اور اس کے بعد کہاں جاتی تھی یہ ہم نہیں جانتے، لیکن یہ طے تھا صوبہ عملاً فرح گوگی اور احسن جمیل چلاتے تھے اور ان کے پیچھے بشریٰ بی بی تھی۔

علیم خان کے بقول فرح گوگی اس قدر طاقتور تھی کہ اس نے میری رہائی کے بعد مجھے اپنے گھر بلایا‘ وہ ڈیفنس کے وائے بلاک میں رہتی تھی۔اس نے مجھے کہا ہم آپ کو دوبارہ وزیر بنا رہے ہیں‘ آپ بتائیں آپ کو کون سی وزارت چاہیے۔ پھر اس نے میرا باقاعدہ انٹرویو لیا اور اس انٹرویو کے بعد مجھے صوبائی وزارت خوراک ملی‘ پنجاب اور وفاق کے سیکریٹریوں کی تعیناتی سے پہلے عمران ان کی تصویریں بشریٰ بی بی کو بھجواتے تھے اور بشریٰ ان کی شکل دیکھ کر تعیناتی کا فیصلہ کرتی تھی۔ پھر وزیراعظم کا پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور چیف سیکریٹری پنجاب نوٹی فکیشن جاری کر تا تھا‘‘۔ بقول جاوید، میں نے پوچھا ’’کیا آپ نے عمران کو یہ صورت حال بتائی تھی؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’ہاں میں نے مطلع کیا تھا۔ میں چھ ماہ بعد وزیراعظم کے پاس گیا‘ انھیں ساری صورت حال بتائی اور درخواست کی آپ مجھے وفاق میں لے آئیں‘ میں پنجاب میں کام نہیں کر سکتا‘ وزیراعظم نے میری بات سنی اور پھر مجھے 6 فروری 2019کو نیب نے گرفتار کر لیا اور میں 100 دن حراست میں رہا‘۔ یہ سب وزیراعظم کو پنجاب کی صورت حال بتانے کی سزا تھی۔‘‘ علیم خان کے بقول مجھے عمران خان سے سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ وہ بے شک مجھے وزیراعلیٰ نہ بناتے‘ وہ مجھے وزارت بھی نہ دیتے‘ یہ ان کا اختیار تھا لیکن انھیں مجھے جیل میں نہیں ڈالنا چاہیے تھا‘ میں اتنی خدمت کرنے اور وفاداری نبھانے کے بعد اس سلوک کا مستحق نہیں تھا‘ میں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو کیا کیا گالی نہیں دی تھی لیکن ان لوگوں نے بھی میرے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا تھا۔ مگر میں نے جس کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا اس نے مجھے جیل میں ننگے فرش پر پھینک دیا۔ یہ ظلم ہے‘‘۔

جاوید چوہدری کے بقول میں نے علیم خان سے پوچھا ’’کیا آپ رہائی کے بعد خان صاحب سے ملے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’جی میں ملا اور ان کا کہنا تھا‘ ڈی جی آئی ایس آئی تمہارے خلاف ہیں ‘ میں نے ان سے کہا‘ خان صاحب میرا ڈی جی آئی ایس آئی سے کیا اختلاف ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کو جواب مل جائے گا لیکن انھوں نے میرا کیس انہی کے کھاتے میں ڈال دیا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کے دورمیں حکومت آخر کون چلا رہا تھا؟‘‘ وہ بولے ’’بشریٰ بی بی‘ فرح گوگی‘ ایک بزنس مین اور جنرل فیض حمید‘ ہماری ساری حکومت یہ تھی‘‘ میں نے پوچھا ’’جنرل باجوہ کا کیا کنٹری بیوشن تھا؟‘‘ علیم فوراً بولے ’’جنرل باجوہ عمران کے سب سے بڑے محسن ہیں۔ وہ نہ ہوتے یا یہ مدد نہ کرتے تو عمران خان کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے لیکن آج وہ جو کچھ ان کے ساتھ کر رہے ہیں‘ وہ ناقابل یقین ہے‘‘۔ میں نے پوچھا عمران نے آپ کو وزیراعلیٰ بنانے کے لیے اسلام آباد طلب کیا تھا‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’جی کیا تھا‘ جنرل باجوہ نے انھیں پرویزالٰہی اور میری چوائس دی تھی‘خان کا کہنا تھا‘ چوہدری پرویز الٰہی چور ہیں‘ یہ مونس الٰہی کے بھی سخت خلاف  تھے۔ ہم وزیراعظم کو مونس سے ملنے کے لیے کہا کرتے تھے‘وہ اسے گالیاں دیتے تھے‘ خان صاحب بہرحال میرے نام پر راضی ہو گئے‘ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور عامر کیانی لاہور آئے اور مجھے لے کر اسلام آباد آ گئے‘ میں دو دن بیٹھا رہا لیکن عمران خان مجھ سے نہیں ملے‘ مجھے آخر میں پیغام دیا گیا کہ خان آپ سے نہیں ملنا چاہتے یوں میں خاموشی سے واپس آ گیا لیکن ساتھ ہی سوشل میڈیا پر میری کردار کشی شروع ہو گئی۔ مجھے میرے بیٹے نے موبائل پر میری پوسٹ دکھائی‘ میرے چہرے پر کالک ملی ہوئی تھی اور اوپر غدار علیم خان لکھا ہوا تھا‘ میں یہ برداشت نہیں کر سکا اور میں نے عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کر دی اور یوں ہمارا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے علیم خان سے پوچھا کہ اپنے دور اقتدار میں انہیں سب سے زیادہ حیرت کس بات پر ہوئی؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میں روز ہی حیران ہوتا تھا‘ عثمان بزدار کی انٹری تو کمال تھی۔ اس نے پورے ملک کے چھکے چھڑا دیے۔ لیکن ایک اور بھی کمال تھا جس پر میں روزانہ حیران ہوتا تھا‘ ہم الیکشن 2018 سے پہلے پشاور جا رہے تھے‘ میں گاڑی چلا رہا تھا اور عمران ساتھ بیٹھے تھے‘ عمران نے موبائل دیکھتے دیکھتے کہا‘ علیم خان تم ایک لسٹ بناؤ‘ میں ان لوگوں کو وزیراعظم بنتے ہی پھانسی لگا دوں گا‘ میں نے کہا نام بتائیں۔ وہ نام بولتے چلے گئے۔ یوں دس لوگوں کی لسٹ بن گئی۔ لیکن جب ہماری حکومت بنی تو لسٹ کا پہلا نام عمران خان کا سب سے بڑا دوست تھا‘ جو ہم سب کا سفارشی بھی تھا‘ باقی نو نام بھی خان کے دوست بن گئے اور ہم لسٹ بنانے والے دشمن ہو گئے‘ واہ کیا بات تھی ہمارے خان کی!۔‘‘

پرویز الٰہی کی دو بہوویں اور بیٹے ریکارڈ سمیت ایف آئی اےطلب

Back to top button