ڈالروں کی خاطر چیف جسٹس کے خلاف کہرام مچانے والے کون؟

چند دنوں سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر قیامت صغریٰ کا سماں ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے آسمان گر گیا ہو یا زمین پھٹ گئی ہو۔ قاضی فائز عیسٰی نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان کیا لیا، ہر مینڈکی کو زکام ہو گیا۔ جس کے ہاتھ میں ڈھول تھا اس نے پیٹنا شروع کر دیا، جس کے پاس طبلہ تھا اس نے بجانا شروع کر دیا۔ ایک کہرام مچا ہوا ہے، اگرچہ کہرام مچانے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانی و جمہوری حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کے بدلے ان کو ویوز کی شکل میں ڈالرز اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے بے پناہ شہرت نصیب ہو رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے جمہوریت کا پرچم صرف ان چند معروف سوشل میڈیا کی شخصیات کے دم قدم سے فضاؤں میں لہرا رہا ہے ورنہ تو یہ نظریہ نیست و نابود ہو جانا تھا۔ جیسے جمہوریت کے والی وارث یہی چند لوگ ہیں، باقی سب ڈھکوسلا ہے۔ جمہوریت ان چند یوٹیوبرز کے دم قدم سے سانس لے رہی ہے باقی نہ عدلیہ کوئی کام کر رہی ہے نہ پارلیمان سانس لے رہی ہے نہ سول سوسائٹی میں کوئی جان باقی رہی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس وقت قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے خلاف بات کرنا مشہور ہونے کا سب سے سادہ اور آسان نسخہ ہے۔ شہرت کا تیر بہدف نسخہ ہے۔ اس سے ویوز بھی ملتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ٹرولز میں شہرت بھی نصیب ہوتی ہے، ٹرینڈز میں بھی نام آتا ہے، ڈالرز بھی مقدر میں لکھے جاتے ہیں۔ جمہوریت پسند ہونے کا تمغہ بھی ملتا ہے اور انسانی حقوق کا نعرہ لگانے کی سہولت بھی ہوتی ہے۔ یہ مشہور ہونے کا آسان نسخہ ہے۔
عمار مسعود کے مطابق تاریخ میں اہم کام کرنے والے لوگ صرف مشہور لوگ نہیں ہوتے ان کے علاوہ بھی لوگ ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے کے خلاف چلتے ہیں اور پھر بھی منزل پاتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ایک چیف جسٹس افتخار چوہدری ہوتے تھے جنہیں ہم تمام مسائل کا حل سمجھے تھے اور جنہوں نے اس ملک کی سب سے بڑی تحریک کو بے نتیجہ کر دیا۔ اس چیف جسٹس نے ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے حتیٰ کہ سموسے تک پر بھی سووموٹو لیا جو بہت مقبول ہوا۔ انہوں نے تمام ملکی مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک معروف اداکارہ کے سامان سے برآمد کردہ شراب کی 2 بوتلوں پر سوموٹو لیا۔ انہوں نے اس پرشہرت خوب کمائی مگر انصاف کے چہرے پر کالک مل دی۔ اسی طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے چند فیصلے ایسے تھے جو بڑے مقبول ہوئے مگر ان کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ وہ ایک دفعہ اپنے پورے تکبر اور فرعونیت کے ساتھ ایک سرکاری ہسپتال میں گھس گئے، وہاں باورچی خانے میں جا کر ہسپتال کے سب سے بڑے افسر کو دھمکانے لگے۔ اس حرکت سے وہ بڑے مشہور ہوئے۔ اگرچہ نہ یہ ان کا کام تھا نہ ان کا منصب اس کی اجازت دیتا تھا۔ پی کے ایل آئی میں انہوں نے نادیدہ کرپشن پکڑنے کی خاطر لاکھوں مریضوں کا مستقبل تباہ کردیا جن کا مفت علاج ہونا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ اس وقت کے بہت مقبول فیصلے تھے اور پھر ڈیم فنڈ سے کون واقف نہیں۔ ثاقب نثار ’بابائے ڈیم فنڈ‘ کہلائے، پھر فنڈ میں خرد برد کی۔ وقتی طور پر تو وہ نجات دہندہ کہلائے مگر وقت نے ثابت کیا ان کے سب فیصلے مقبول فیصلے تھے مگر تاریخ میں ان کی کوئی جگہ نہ تھی، زمانے نے ان کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے قابل بھی نہیں سمجھا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب ذر ا تاریخ کے دو غیر مقبول فیصلوں کی طرف آتے ہیں جو مقبول نہیں تھے مگر درست تھے۔ یہ بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تھا یا دوسرا،خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہو رہی تھی جس میں بے نظیر شہید نے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے نمائندگی کرنا تھی۔ پاکستان تازہ تازہ ضیاالحق کے جبر و استبداد سے نکلا تھا۔ لوگوں کی سوچ میں جماعت اسلامی چھائی ہوئی تھی۔ پورے ملک میں کہرام مچ گیا کہ ایک تو خاتون وزیراعظم اور پھر خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع پر کانفرنس۔ بے نظیر چاہتیں تو مقبول بیانیے کے سامنے سر تسلیم خم کرلیتیں اور اس کانفرنس میں نہ جاتیں مگر انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور کمال جملہ کہا کہ لیڈرز کا کام ہجوم کی منشاء کی اطاعت کرنا نہیں ہوتا بلکہ انہیں راہ دکھانا اور ان کی راہنمائی کرنا ہوتا ہے۔ دوسری مثال بھٹو پھانسی کیس کی ہے۔ اس کیس کا فیصلہ چار، تین سے آیا تھا۔ مولوی مشتاق کے ساتھ تین اور جج ملے، انہوں نے تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی لیکن اس وقت بہت مشہور ہوئے تاہم آج تاریخ ان پر تھوکتی ہے۔ جج صفدر شاہ ، دراب پٹیل اور محمد حلیم اس وقت ضیا کے جبر کے باوجود تاریخ کی درست سمت پر کھڑے رہے۔ یہ مشہور نہیں ہوئے لیکن تاریخ آج انہیں درست مانتی ہے، ان کو سلیوٹ کرتی ہے۔ اسی تناظر میں قاضی فائز عیسی کے فیصلے کو دیکھیں۔ انہوں نے فیصلہ سیاسی صورت حال کو دیکھ کر نہیں دیا۔ ویوز، شیئرز لائیکس اور ٹرینڈز دیکھ کر نہیں دیا۔ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے ناجائز ہونے کو دیکھ کر دیا۔ یہ غیر مقبول فیصلہ ضرور ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ درست سمت پر رہنے کے لیے ایسے غیرمقبول اور دلیرانہ فیصلوں کی قوموں کو ضرورت ہوتی ہے۔

اس فیصلے کے ناقدین کی رائے یہ ہے کہ سیاسی جماعت بنانا بنیادی حق اور لوگوں کا اپنی پسند کی سیاسی جماعت کو ووٹ دینا بھی بنیادی حق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو بلے کے نشان سے محروم کر کے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کے وکلا بھی اسی بات پر بضد رہے کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی میدان سے باہر نکالنے کا مطلب ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے۔ انٹراپارٹی انتخابات کرانے کی بندش چونکہ آئین نہیں لگاتا اس لیے یہ بندش بے معنی ہے۔

عمار مسعود کے مطابق اس دلیل میں بظاہر کافی وزن نظر آتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نوکری پانے کے لیے آپ کو شناختی کارڈ دکھانا لازمی ہے، آئین تو کہتا ہے کہ روزگار انسان کا بنیادی حق ہے، تو کہا جاسکتا ھے کہ مجھ پر شناختی کارڈ کی پابندی لگا کر میری حق تلفی کی جارہی ہے۔ آئین میں نہیں لکھا کہ کاروبار اور ڈرائیونگ کے لیے آپ کو لائسنس لینے کی ضرورت ہے، اسی طرح سے الیکشن ایکٹ میں انٹرا

جسٹس ثاقب نثار اور اعجاز الحسن نے نواز شریف کو سزا کیسے دلوائی؟

پارٹی کی شرط ہے۔

Back to top button