کیا تحریک انصاف پارلیمانی سیاست سے فارغ ہو چکی ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے انٹراپارٹی انتخابات درست نہ کرانے پر تحریک انصاف سے انتخابی نشان بلا واپس لے لیا ہے جس کے بعد ان کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بحث جاری ہے کہ اب پاکستان تحریک انصاف کی حیثیت کیا ہے، اور کیا وہ اب بھی بطور سیاسی جماعت اپنا وجود برقرار رکھتی ہے؟انتخابی نشان چھن جانے کی صورت میں کیا پارٹی ڈی لسٹ یا الیکشن کمیشن کی فہرست سے خارج ہو گئی ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنا انتخابی نشان کھونے کے باوجود تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ پی ٹی آئی کی رجسٹریشن ختم نہیں کی گئی بلکہ صرف آئندہ انتخابات کیلئے انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی قانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرانے میں ناکام رہی۔دوسری طرف سابق چیئرمین سینیٹ اور آئینی ماہر وسیم سجادکے مطابق انتخابی نشان واپس لے کر پی ٹی آئی کو صرف الیکشن لڑنے سے روکا گیا ہے۔چونکہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کی رجسٹریشن ختم نہیں کی لہٰذا پارٹی کا وجود باقی ہے اور کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار کسی دوسری جماعت کی طرح پی ٹی آئی میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

 سابق اٹارنی جنرل انور منصور کا بھی ماننا ہے کہ انتخابات کے بعد کامیاب ہونے والے آزاد امیداروں کے پاس پی ٹی آئی میں شمولیت کا آپشن ہوگا۔کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار آئندہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔تاہم، الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کے مطابق جو سیاسی جماعت اپنے انتخابی نشان سے محروم ہو جائے وہ اپنی باضابطہ حیثیت بھی کھو دیتی ہے اور الیکشن کمیشن سے ڈی رجسٹر ہو جاتی ہے۔تاہم سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھن جانے سے پارٹی ختم نہیں ہوئی۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو حکومت ختم کر سکتی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب سینیئر وکیل عمران شفیق کے مطابق کسی پارٹی پر پابندی یا اسے کالعدم کرنے کے حوالے سے پورا قانون موجود ہے، اس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی سیاسی جماعت کے خلاف شکایات کی صورت میں ایک ریفرنس تیار کر کے سپریم کورٹ کو بھجواتا ہے۔ سپریم کورٹ اس ریفرنس کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کو اس سیاسی جماعت پر پابندی کی سفارش کرتی ہے جس پر وفاقی حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اس سیاسی جماعت پر پابندی لگاتی ہے۔’پاکستان تحریک انصاف سے تو صرف انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے اور اس کے امیدوار آزاد حیثیت میں جیت کر پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں لیکن اس وقت پھر پارٹی

ڈالروں کی خاطر چیف جسٹس کے خلاف کہرام مچانے والے کون؟

کی مخصوص نشستوں کا سوال پیدا ہو جائے گا‘۔

Back to top button