چین نے پہلی بار جدید بین البراعظمی جوہری میزائل پیش کردیا

چین نے فوجی پریڈ میں اپنے جدید ترین بین البراعظمی اسٹریٹجک جوہری میزائل کو پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش  کردیا۔

چین نے دوسری عالمی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ میں اپنے جدید ترین بین البراعظمی اسٹریٹجک جوہری میزائل کو پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا۔

چینی میڈیا کے مطابق یہ مائع ایندھن سے چلنے والا میزائل غیر معمولی رینج کا حامل ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈی ایف  فائیوسی کی رینج 20 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے، جو اسے عالمی سطح پر سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں شامل کرتی ہے۔ یہ میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے، آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرنے اور انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کی ایک منفرد خصوصیت اس کی نئی ساخت ہے، جس کے تحت اسے تین حصوں میں مختلف گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے لانچ کی تیاری میں وقت کم لگتا ہے۔

چینی ماہرین کے مطابق جدید گائیڈنس سسٹم، بالخصوص بیڈو نیویگیشن ٹیکنالوجی، اس میزائل کو ہدف پر انتہائی درستگی سے حملہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کی غیر معمولی رینج اور خصوصیات چین کو کسی بھی ممکنہ جوہری خطرے کے جواب میں دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔

Back to top button